ٹیکنالوجی اور ریئل اسٹیٹ کے امتزاج کی اہمیت و افادیت

وقت آن پڑا ہے کہ ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ریئل اسٹیٹ سیکٹر، ٹیکنالوجی کے سانچے میں پوری طرح ڈھال دیا جائے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہونے والی بے ضابطگیوں کو ٹیکنالوجی ہی لگام ڈال سکتی ہے۔

پاکستان کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ سال ریئل سیکٹر نے ملکی جی ڈی پی میں 5.4 فیصد حصہ ڈالا۔ اس کا مطلب کہ جو سیکٹر ملکی جی ڈی پی کا 5.4 فیصد شراکت دار ہے اس سیکٹر میں بے ضابطگیوں کا درست ہونا نہایت لازم ہے۔

اس ضمن میں ٹیکنالوجی انتہائی کلیدی کرداد ادا کرتی ہے۔ آئیے ٹیکنالوجی اور ریئل اسٹیٹ کے امتزاج کے بارے میں مزید جانتے ہیں۔

 

کمپیوٹرائزڈ لینڈ ریکارڈ سسٹم

ملک بھر میں لینڈ ریکارڈ سسٹم کمپیوٹرائز ہونے کے بعد ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو کافی حد تک تحفظ ملا۔ اب پراپرٹی کی خرید و فروخت، رجسٹری اور انتقال کا عمل قدرے آسان ہو چکا ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں تک پٹواری نظام کے تحت ہونے والی پراپرٹی کی خرید و فروخت میں لاتعداد بے ضابطگیاں دیکھنے میں آئیں۔

جوں جوں وقت گزرتا گیا، ملک بھر میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر ترقی کرتا گیا۔ ایسے میں جہاں روزگار کے کئی مواقع پیدا ہوئے تو وہیں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں غیرقانونی سرگرمیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔ معلومات کے فقدان کے باعث صارفین کی جانب سے ایسے رہائشی منصوبوں میں بھی سرمایہ کاری کی گئی جو قطعی طور پر غیرقانونی تھے۔ یوں کئی صارفین کا ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے اعتماد اٹھتا چلا گیا۔

ہاؤسنگ سوسائٹیز اور مجاز اتھارٹیز کا قیام

گذشتہ 2 دہائیوں میں پاکستان اور بالخصوص جُڑواں شہروں میں لاتعداد رہائشی منصوبوں کا اغاز ہوا۔ ایسے میں وہ رہائشی منصوبے بھی منظرِ عام پر آئے جو غیرقانونی ہونے کے ساتھ عوام کو مین اسٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے گمراہ کرنے لگے۔ دلچسپ اور سحرانگیز مارکیٹنگ سے متاثر ہو کر عوام کی جانب سے ان رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جانے لگی جس کا بعد ازاں اُن کو نقصان اٹھانا پڑا۔

ایسے میں مخلتف شہروں میں موجود مجاز اتھارٹیز جیسے کہ اسلام آباد میں کپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے)، راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (آر ڈی اے) اور لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) سمیت دیگر شہروں کی مجاز اتھارٹیز حرکت میں آئیں اور عوام کو اگاہی دینے لگیں۔ اب آپ اکثر شہروں میں تعمیر شدہ یا زیرِ تعمیر رہائشی منصوبوں کی قانونی حیثیت اس شہر کی متعلقہ ویب سائٹ سے معلوم کر سکتے ہیں۔

اس کے باوجود پاکستان میں قوانین پر مناسب عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بے ضابطگیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ آئیے جدید ٹیکنالوجی کے تناظر میں ریئل اسٹیٹ کا مستقبل جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔

بلاک چین ٹیکنالوجی

اگر بلاک چین کو سادہ الفاظ میں سمجھنا ہو تو یہ آپس میں منسلک مختلف بلاکس کی چین یا لڑی کا نام ہے جس کے ہر بلاک کے اندر معلومات موجود ہوتی ہیں۔ بلاک چین بنیادی طور ہر معلومات کو ریکارڈ کرنے کا وہ نظام ہے کہ جس میں سسٹم میں تبدیلی، سسٹم ہیک کرنا یا سسٹم کو دھوکہ دینا انتہائی مشکل اور تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بلاک چین ٹیکنالوجی ابھی تک بھرپور طریقے سے متعارف نہیں ہو سکی لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے آنے سے نہ صرف معلومات کے اندراج کو تحفظ ملے گا بلکہ موجودہ دور کے نت نئے فراڈ کے طریقوں سے بھی چھٹکارا حاصل ہو گا۔ بلاک چین ٹیکنالوجی مستقبل میں ریئل اسٹیٹ کے کاروبار کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔

 

ڈیجیٹل دستخط

پاکستان اور دنیا بھر کے کئی ممالک میں اب بھی پراپرٹی کی خرید و فروخت کسی بھی شخص یا اس کے پاور آف اٹارنی کی ذاتی موجودگی اور دستخط کے بغیر نہیں ہوتی۔ موجودہ دور میں جہاں ڈیجیٹل دستخط یعنی ای دستخط متعارف ہوا وہیں اس نے بہت سارے کاروباری معاملات کو آسان کر دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب ریئل اسٹیٹ کی دنیا میں بھی ڈیجیٹل دستخط اپنی جگہ بنا لے گا اور تمام کاغذی کاروائی ڈیجیٹل دستاویزات پر مبنی ہوا کرے گی۔ اس سے نہ صرف ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو جدت ملے گی بلکہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے معاملات میں بھی بہتری آئے گی۔

 

آرٹیفشل انٹیلیجنس کا کردار

دنیا جوں جوں جدت کی طرف جا رہی ہے، حیرت انگیز ایجادات سامنے آ رہی ہیں، انہیں ایجادات میں سے ایک انقلابی ایجاد آرٹیفیشل انٹیلیجنس بھی ہے۔

کسی بھی علاقے میں گھر تعمیر کرنے سے قبل کوئی بھی شخص ان چند عوامل کا جائزہ لیتا ہے۔

سورج کی روشنی کے اوقات اور موسم کی تبدیلی

اس علاقے کے تعلیمی اداروں کا معیار

لوکل ٹرانسپورٹیشن کے موجود آپشنز

تفریحی مواقع

پارکنگ کی موجود جگہ

اِن تمام چیدہ چیدہ عوامل کی بنیاد پر ہی اس علاقے میں رہائش پذیر ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس ان تمام عوامل کا خودکار طریقے سے جائزہ لیتے ہوئے جگہ کو رہائش کے لیے موزوں ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں معلومات کی بنیاد پر آپ کو درست نتیجہ فراہم کر سکتی ہے۔ عین ممکن ہے کہ اس مقصد کے لیے مستقبل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی ڈیوائس تیار کی جائے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس پر مبنی روبوٹ ویسے بھی منظرِعام پر آ چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مستقبل میں انسان کے کیے جانے والے بیشتر کام روبوٹس کرنے لگیں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مستقبل میں روبوٹس ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کا کردار بھی ادا کریں۔ ماہرین اس انتظار میں ہیں کہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس نامی ایجاد دنیا اور بالخصوص ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کس طرح کے انقلابات برپا کرتی ہے۔

پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں آج بھی پراپشور جیسی مستند ویب سائٹس موجود ہیں جہاں آپ پراپرٹی کی آن لائن تصدیق باآسانی کر سکتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کی جانب سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے ٹیکنالوجی پر مبنی تھِنک ٹینک تخلیق کیا جائے جو ان عوامل پر تحقیق و جستجو کرے کہ کیسے مذکورہ بالا جدید دور کی ٹیکنالوجی کو استعمال میں لا کر ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں فراڈ اور بے ضابطگیوں کو روکا جا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کے ذریعے ہی ملکی جی ڈی پی میں سب سے زیادہ شراکت داری کرنے والے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو شفاف بنایا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف سرمایہ کاروں کی بھاری تعداد اس سیکٹر میں سرمایہ کاری کی جانب مائل ہو گی بلکہ اس سے ملکی معیشت بھی نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے