بزرگ افراد کی ضروریات کے مطابق گھر کی تعمیر اور ترتیب

جب ہم نومولود بچے کے طور پر دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو والدین بے پناہ پیار، توجہ، تعلیم اور زندگی کی تمام سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ پہلا قدم اٹھانے سے لے کر کامیاب انسان بننے تک ہم بےشمار عمدہ اور تلخ تجربات سے گزرتے ہیں۔ مالی ضروریات سے لے کر اخلاقی حمایت تک ماں باپ ہی ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔

ہر لمحہ ساتھ نبھاتے والدین اپنے بڑھاپے میں آپ کی توجہ اور قربت کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اور ایک پرسکون گھر میں ان کی خوشی ہوتی ہے۔ گھر میں بزرگ افراد کی موجودگی اور والدین کا سایہ سر پہ موجود ہو تو زندگی متوازن ڈگر پر چلتی رہتی ہے۔

ڈھلتی عمر کے ساتھ بزرگ افراد کی نظر، ہڈیاں اور اعصاب کمزور ہونے لگتے ہیں۔ چونکہ بزرگ افراد کے معمول میں جوانی کے ایام کی نسبت چلنے پھرنے، کام کاج اور ہر طرح کی سرگرمیوں میں کمی آ جاتی ہے۔ لہٰذا، انہیں وہ سب ترک کرکے گھر کے آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور بزرگ افراد کی ضروریات کے مطابق گھر کی تعمیر اور ترتیب ان کی قربت اور شفقت حاصل کرنے کا ایک اور ذریعہ ہے۔

 

بوڑھے ہاتھوں کو تھامے ہوئے ایک نوجوان کے ہاتھ

 

بزرگ افراد کے لیے گھر کی تعمیر

گھر میں والدین کے علاوہ دادا، دادی اور نانا نانی جیسے رشتے بھی ہوتے ہیں۔ جن کا شمار سینئر سٹیزنز میں ہوتا ہے۔ اور اگر دادا یا دادی کی عمر 50 یا 60 سال سے اوپر ہے تو یقیناَ ان کو زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گھر کی تعمیر کراتے وقت بوڑھے افراد کی ضروریات اور سہولیات کو مدِنظر رکھا جائے۔ جیسا کہ تمام راستے، سیڑھیاں اور کمرے میں نصب کھڑکیاں۔ علاوہ ازیں، کچھ مزید تعمیراتی پہلو بھی قابلِ ذکر ہیں۔

سیڑھیاں

کھڑکیوں کا حجم اور تنصیب

موزوں باتھ روم

خودکار نَل

روشن راستے

بوڑھی مان کے ہاتھ میں مکان کا ماڈل تھماتے ہوئے ایک شخص کا ہاتھ

 

سیڑھیاں

بڑھتی عمر کے تقاضوں کے پیشِ نظر سینئر سٹیزنز کی بہت سی سرگرمیاں محدود ہو جاتی ہیں۔ کم ہمت اور طاقت کے باعث بزرگوں کا روزانہ کی بنیاد پر ضرورت سے زائد سرگرمیوں سے پرہیز ہی بہتر ہے۔

لہٰذا، سب سے پہلے کوشش کریں کہ بزرگ والدین یا دادا دادی کو سیڑھیاں اترنے یا چڑھنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ اور اسی منزل پر سب سہولیات ہوں جہاں وہ مقیم ہیں۔ ان کے لیے سب سے بہترین گراؤنڈ فلور ہے۔ تاکہ باغیچے یا گھر سے باہر جانے کی صورت میں انہیں سیڑھیاں اترنے جیسے مرحلے سے نہ گزرنا پڑے۔ اس کے برعکس، اگر سیڑھیوں کا استعمال ضروری ہے تو ریلنگ ایسی ہونی چاہیئے جس پر ہاتھ پھسل نہ سکے۔ مزید یہ کہ سیڑھیوں کے سٹیپ چھوٹے اور بہت فاصلے پر مبنی نہ ہوں۔ علاوہ ازیں، سیڑھیوں پر سنگِ مرمر کے علاوہ کسی اور مٹیریل کا استعمال کریں۔ کیونکہ سرد موسم میں ماربل بہت سرد پڑ سکتا ہے۔

 

ایک بزرگ شخص سیڑھیاں چڑھتے ہوئے

 

کھڑکیوں کا حجم اور تنصیب

گھر میں موجود معمر افراد کے کمرے میں کھڑکیوں کا سائز عمومی طور پر بڑا ہونا چاہیئے۔ تاکہ قدرتی روشنی اور دھوپ کا حصول ممکن ہو سکے۔ کمزور نظر کے حامل بوڑھے افراد برقی اور مصنوعی روشنیوں کی بدولت دن کی روشنی میں بہتر طور پر دیکھ پاتے ہیں۔ لہٰذا، اس سلسلے میں ٹھیکیداروں اور ڈیزائنرز کی خصوصی توجہ مبذول کرائی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ کمرے میں جاتی سورج کی شعاعیں کمزور معمر افراد کے بستر اور صوفے تک جانی چاہیئے۔

 

والدین کے کمرے میں نصب بڑے سائز کی کھڑکی

 

موزوں باتھ روم

بزرگ افراد کے لیے تعمیر گئے باتھ روم میں سب سے اولین دروازے کا انتخاب ہے۔ جس میں دروازے پر چٹخنی نہ ہو، اور نہ ہی اوپر کی جانب ہو۔ تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں دروازہ باہر سے کھولا جا سکے۔ باتھ روم میں بزرگوں کے پھسل جانے یا چوٹ لگنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ اسی لیے، کموڈ اور واش بیسن کے پاس حفاظتی ہینڈل نصب کریں۔ شاور ایریا میں ایک عدد اونچی کرسی لازمی رکھیں تاکہ ان کے لیے نہانا آسان ہو۔ مزید یہ کہ فرش پر ان ٹائلوں کا استعمال کیا جائے جن پر آسانی سے پھسلن نہ ہو۔ اور واش روم میں ایسے میٹ ضرور رکھیں جن پر پاؤں فوری خشک کیے جا سکیں۔ اسی طرح واش روم میں خود کار لائٹس اور ایگزاسٹ سسٹم عمر رسیدہ افراد کے لیے نہایت ضروری ہے۔

 

بزرگ خاتون واش روم میں بیسن کے ساتھ لگے ہینڈل کا سہارا لیے ہوئے

 

خودکار نَل

واش روم میں ایسے نَل اور ٹونٹیاں نصب ہونے چاہئیں جو پانی کے استعمال کے بعد خود سے بند ہو جائیں۔ کیونکہ دوسرے نل کھولنے اور بند کرنے میں معر افراد کو پریشانی لاحق ہو سکتی ہے۔ اسی لیے جدید سینٹری فٹنگز کی تنصیب بہترین انتخاب رہے گی۔

روشن راستے

معمر والدین اسی طرح گھر میں سب افراد کے ساتھ گُھل مل کر رہنا چاہتے ہیں۔ جیسے وہ چند سال قبل تندرست و توانا تھے اور گھر میں چلتے پھرتے تھے۔

گھر میں بزرگ افراد کی خاطر کمروں، کچن، لیونگ روم، ڈرائنگ روم اور باغیچے میں جانے کے لیے ایسے فرش یا راستے بنائے جائیں۔جن پر آسانی سے چلا جا سکے۔ یہ راستے ایسے رنگوں کی ٹائلز پر مبنی ہوں جو روشن ہوں اور شام میں آسانی سے دیکھے جا سکیں۔

 

گھر کا اندرونی داخلی دروازہ اور اوپر جاتی سیڑھیاں

 

بزرگ افراد کے لیے گھر کی ترتیب

تعمیر کے علاوہ فرنیچر اور آلات کی تنصیب بھی معمر افراد کی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیئے۔ تاکہ ان کے معمولات آسان سے آسان تر ہوں۔ اور کسی قسم کی رکاوٹ یا دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قابلِ رسائی سوئچ بورڈز اور انٹرکام

نماز کے لیے کرسی یا تخت

لاٹھی، وہیل چیئر اور آرام دہ کرسی

ڈائننگ چیئر پر کُشن کا استعمال

کمرے کی ترتیب

 

قابلِ رسائی سوئچ بورڈز اور انٹرکام

بڑھتی عمر کے ساتھ نقل و حرکت کافی مشکل اور محدود ہوتی ہے۔ اسی لیے آپ کے گھر کے سوئچ بورڈز آسانی سے قابل رسائی ہونے چاہئیں۔

اسی طرح، بزرگ افراد کے کمرے میں انٹر کام ضرور نصب کراوائیں تاکہ کسی بھی لمحے وہ آپ سے فوری رابطہ کر سکیں۔ انٹرکام بستر کے بالکل قریب ہاتھ کے فاصلے پر نصب ہونا چاہیئے۔

 

انٹرکام کا استعمال کرتے ہوئے ایک بزرگ کا ہاتھ

 

نماز کے لیے کرسی یا تخت

یوں تو مرد بزرگ حضرات مسجد جا کر نماز اد اکرنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر وہ کسی کمزوری یا نقاہت کی بنا پر گھر میں نماز پڑھنا چاہیں۔ یا پھر معمر خاتون جیساکہ والدہ یا دادی جو فرش پر جائے نماز بچھا کر نماز پڑھنے سے قاصر ہوں۔ تو ان کے لیے ایک کرسی کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ بیٹھ کر بآسانی نماز ادا کر سکیں۔ کرسی کے علاوہ گھر میں لکڑی سے تیار کردہ تخت بھی رکھا جا سکتا ہے۔

 

ہاتھ میں تسبیح تھامے ایک بزرگ خاتون

 

لاٹھی، وہیل چیئر اور آرام دہ کرسی

بزرگ افراد کے استعمال میں آنے والی کچھ اشیا ایسی ہیں۔ جنہیں وہ وقتاَ فوقتاَ استعمال میں لا سکتے ہیں۔ ان میں لاٹھی، وہیل چیئر اور آرام دہ کرسی شامل ہیں۔ اگر کبھی بھی ناساز طبیعت کے باعث وہ چلنے پھرنے میں کمزوری محسوس کریں تو کچھ وقت یا دن کے لیے لاٹھی کو زیرِ استعمال لا سکتے ہیں۔

گھر والوں کے ساتھ کسی بھی آؤٹ ڈور سرگرمی یا چہل قدمی کے دوران  وہیل چیئر استعمال کی جا سکتی ہے۔ تاکہ بزرگوں کو زیادہ پیدل نہ چلنا پڑے۔ اسی طرح باغیچے میں بیٹھنے کے لیے کی آرام دہ کرسی مناسب رہے گی۔

 

لاتھی تھامے ایک بزرگ خاتون

 

ڈائننگ چیئر پر کُشن کا استعمال

اپنے والدین اور دادا دادی کو کبھی بھی علیحدہ سے کھانا پیش نہ کریں۔ بلکہ گھر کے سب افراد کے ساتھ کھانے پر مدعو کریں۔ ڈائننگ ٹیبل پر کھانا کھانے کی صورت میں ان کے لیے چیئر پر آرام دہ کُشن کا انتظام کریں تاکہ وہ باقی گھر والوں کے ساتھ کھانا انجوائے کر سکیں۔

 

کھانے کی میز پر محوِ گفتگو گھر کے افراد

 

کمرے کی ترتیب

گھر کے تمام حصوں میں ضرورت سے زائد فرنیچر اور ڈیکوریشن آئٹمز  نہیں ہونے چاہیئں۔ تاکہ عمر رسیدہ افراد آرام سے چل پھر سکیں۔ اسی طرح، ان کے کمرے میں بھی سینٹر کارپٹ اور بلا وجہ آرائشی چیزیں موجود نہ ہوں تاکہ تمام آمد و رفت آسان ہو۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔