سی ڈی اے نے جائیدادوں کے ٹرانسفر لیٹرز کی پرنٹنگ کا نظام سینٹرلائزڈ کر دیا

وفاقی ترقیاتی ادارہ کیپٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) شہریوں کی جائیدادیں ٹرانسفر کرنے اور اس سے متعلقہ دیگر معاملات کو آسان بنانے میں کوشاں ہے اور اس حوالے سے شہریوں کی آسانی کے لیے ابتدائی طور پر اسٹیٹ منیجمنٹ ون کے شعبے میں ڈیل کیے جانے والے سیکٹرز کی جائیدادوں کے ٹرانسفر لیٹرز کی پرنٹنگ کا کام سینٹرلائزڈ کردیا گیا ہے۔

اس اقدام کے تحت یکم اگست سے تمام لیٹرز کی پرنٹنگ اسِسٹنٹ ڈائریکٹر ون ونڈو پراپرٹی کی نگرانی کے بعد اسی دن ٹرانسفر لیٹر کو دستخط، مہر اور ایمبوز کرنے کے بعد مالک کے حوالے کرنے کے پابند ہوں گے۔

اس ضمن میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈائریکٹوریٹ کو ہدایت جاری کی گئی ہیں کہ یکم اگست تک تمام انتظامات کو یقینی بنایا جائے۔

سی ڈی اے حکام کے مطابق ابتدائی طور پر اسٹیٹ منیجمنٹ ون میں ڈیل کیے جانے والے تمام سیکٹرز کے ٹرانسفر لیٹرز کے جاری کرنے کے عمل کو سینٹرلائزڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اسٹیٹ افیکٹیز سیکشن میں ڈیل ہونے والے سیکٹرز کی جائیدادوں کے ٹرانسفر لیٹرز کے جاری کرنے کے عمل کو بھی سینٹرلائزڈ کیا جائے گا۔

اسی طرح وارثت کے تحت قانونی ورثاء کو جائیدادوں کی منتقلی کے عمل کے لئے بلڈنگ کنٹرول سیکشن سے این او سی لینے کی شرط کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔

اس ضمن میں اب قانونی ورثاء کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں ایک حلف نامہ جمع کروائیں گے کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اسٹرکچر کو وارثت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ختم کرنے کے پابند ہوں گے جبکہ بلڈنگ کنٹرول سیکشن کی طے شدہ پروسیسنگ فیس قانونی ورثاء کو جمع کروانا ہوگی۔

اس عمل کے تحت اسٹیٹ منیجمنٹ ون، اسٹیٹ منیجمنٹ ٹو اور اسٹیٹ افیکٹیز سیکشن وارثت سے متعلقہ درخواستیں موصول ہونے کے بعد بلڈنگ کنٹرول سیکشن سے رپورٹ طلب کریں گے تاکہ اس بات کا تعین کیا جا سکے کہ مذکورہ جائیداد میں کسی قسم کی بلڈنگ کنٹرول ریگولیشنز کی خلاف ورزی یا کسی قسم کا کوئی غیر قانونی اسٹرکچر تو موجود نہیں ہے۔

بلڈنگ کنٹرول ریگولیشن کی خلاف ورزی کی صورت میں قانونی ورثاء کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) میں ایک حلف نامہ جمع کروائیں گے کہ وہ 6 ماہ کے اندر اس خلاف ورزی کو ختم کر دیں گے تاہم قانونی ورثاء کو ٹرانسفر کی گئی جائیداد اس وقت تک فروخت نہیں کی جا سکے گی جب تک بلڈنگ ریگولیشن 2020 کی خلاف ورزی کو ختم نہ کیا جائے۔

واضح رہے کہ اگر کوئی جائیداد نان کنفرنگ یوز کے زمرے میں آرہی ہو تو قانونی ورثاء کے نام جائیداد منتقل ہونے سے پہلے نان کنفرنگ یوز ختم کرنا ہوگا۔

اسی طرح اسٹیٹ منیجمنٹ ون ڈائریکٹوریٹ اور اسٹیٹ منیجمنٹ ٹو ڈائریکٹوریٹ سے جاری ہونے والے نو ڈیمانڈ سرٹیفیکیٹ کو جاری کرنے کی مدت بھی 4 یوم کردی گئی ہے۔

اس ضمن میں ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ درخواست جمع ہونے کے بعد 4 یوم کے اندر اندر نو ڈیمانڈ سرٹیفیکیٹ جاری کرنے کے عمل کو مکمل کیا جائے۔

کسی بھی قانونی پیچیدگی کی صورت میں الاٹی یا درخواست گزار کو بروقت آگاہ کیا جائے گا کہ کس وجہ سے ان کی درخواست پر نو ڈیمانڈ سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جا رہا۔

واضح رہے کہ شہریوں کے سی ڈی اے سے متعلقہ امور کو بروقت اور جلد نمٹانے کے لئے سی ڈی اے کی موجودہ انتظامیہ نے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

اس سلسلے میں نہ صرف پراپرٹی سے متعلقہ تمام شعبوں کو ایک ہی چھت تلے تمام سہولیات فراہم کرنے کے لئے سی ڈی اے فیسیلیٹیشن سینٹر کو فعال کیا گیا بلکہ جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے شہریوں کو مؤثر سہولیات فراہم کرنے کے لئے بھی ہیلپ لائن 1819 کا آغاز کیا گیا ہے۔

ان اقدامات کا مقصد شہریوں کے مسائل کو جلد حل کرنے کے علاوہ سی ڈی اے کو بہترین سروس ڈیلیوری کا ادارہ بنانے میں بھی مدد ملے گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔