کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی تعمیر اور درپیش چیلنجز

پاکستان کی آبادی 220 ملین ہے۔ چین، بھارت، انڈونیشیا اور امریکہ کے بعد پاکستان دنیا کی پانچویں بڑی آبادی ہے۔ جب موجودہ حکومت برسرِ اقتدار آئی تو پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان ہاؤسنگ کی جامع پالیسی کا قیام یقینی لگا۔ پاکستان کی 65 فیصد آبادی 35 سال کی عمر سے کم ہے اور سطح غربت سے تقریباً 39 فیصد آبادی نیچے ہے۔ معاشی جمود، توانائی کے مہنگے معاہدے، کورونا وبا کے معاشی اثرات اور گلوبل سپلائی چین میں رکاوٹوں کے ساتھ پاکستانی معیشت کو ماضی کی نسبت بہت سے چیلنج درپیش ہیں۔

سال 2017 کی مردم شُماری کے مطابق پاکستان کی آبادی 2.4 فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔ لوگ بہتر معیارِ زندگی کیلئے شہری مراکز کا رخ کررہے ہیں اور ایسے میں شہری احاطے پھیلاؤ کا شکار ہیں لیکن ہاؤسنگ کی فراہمی نے اس ضمن میں بڑھتی آبادی کی رفتار سے کوئی میل نہ رکھا۔ پاکستان کی 36 فیصد آبادی شہری مراکز میں رہتی ہے۔ اس 36 فیصد کا 60 فیصد حصہ دو بڑے شہروں یعنی لاہور اور کراچی میں رہتا ہے۔

ڈیٹا کا فقدان

سوشل سائنسز کے لیٹریچر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ بہتر ہاؤسنگ سہولیات سے جرائم کی شرح کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ بہتر سہولیات کا اثر اسکول میں بچوں کی حاضری اور معاشرے کی مجموعی صحت پر پڑتا ہے۔ سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ گولز میں یہ بات واضح الفاظ میں درج ہے کہ زندہ سماج ہاؤسنگ کے بہتر نظام سے تشکیل دیا جاتا ہے۔ وزیرِ اعظم اور اُن کی ٹیم کو ایسے ہی چیلنجز کا سامنا ہے کیونکہ پاکستان میں ہاؤسنگ پالیسیز کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں رہی۔ سن 1947 سے پاکستان نے اپنے ہاؤسنگ اسٹاک میں محض 5 سے 6 ملین گھروں کا اضافہ کیا ہے۔ اگلے 20 سالوں میں پاکستان کی آبادی میں سالانہ بنیادوں پر 2.3 ملین کا اضافہ ہوگا۔ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپرز (آباد) کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان کو سالانہ بنیادوں پر سات لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت ہے جبکہ ہر سال پاکستان میں گھروں کی تعداد میں محض اڑھائی سے تین لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے۔ یعنی پاکستان میں ہاؤسنگ یونٹس کی شارٹ فال ہر سال 4 لاکھ 50 ہزار تک ہوتی ہے۔ تاہم جب سن 2019 میں نادرا نے نیا پاکستان ہاؤسنگ ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کیلئے نیڈ اسسمنٹ سروے کیا تو صرف 20 لاکھ درخواستیں ہی موصول ہوئیں۔ تاہم کسی بھی ڈیٹا پر حتمی طور پر اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک اور ڈیٹا اسٹیٹسٹکس کے مطابق پاکستان میں ایک فیصد ہاؤسنگ یونٹس 68 فیصد آبادی کیلئے ہیں جو کہ ماہانہ 30 ہزار سے کم آمدن رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ 56 فیصد ہاؤسنگ یونٹس 12 فیصد آبادی کیلئے بنائے جاتے ہیں جو ایک لاکھ روپے سے زائد کی آمدن رکھتے ہیں۔

مارگیج فنانسنگ کی کم فہمی

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق کم لاگت ہاؤسنگ یونٹ اڑھائی ملین روپے تک کا ہوتا ہے۔ ہاؤسنگ فنانس حکومتِ وقت کے سماجی و اقتصادی پروگرام کا اہم ترین مرکز ہے۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ایک ایسا ہاؤسنگ ایکو سسٹم تشکیل دیا جائے کہ جس سے ڈویلپر، اسپانسر اور خریدار کے درمیان پالیسی گیپ کو پُر کیا جائے۔ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی یہ کوشش ہے کہ یہ قدم کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے تاہم ابھی تک کے سامنے آنے والے نتائج حوصلہ افزا ضرور ہیں مگر بہتری کی بہت گنجائش ہے۔ کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کے اس وسیع پروگرام سے قبل پاکستان میں چونکہ ایک جامع ہاؤسنگ پالیسی کا فقدان تھا، تاہم مارگیج فنانسنگ تک لوگوں کی رسائی آسان نہ تھی۔ مارگیج فنانس کی ضرورت صرف اسی بات سے سمجھ لیں کہ امریکہ جیسے دنیا کے تیز ترین ملک میں 80 فیصد لوگ اپنا گھر قرض لے کر بناتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہاؤسنگ فنانس کے تقریباً 68 ہزار سے زائد صارفین ہیں اور قرض کی اوسط 6.1 ملین ہے۔ یاد رہے کہ نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسٹیٹ بینک کی شراکت سے ایک ایسا پروگرام تشکیل دیا ہے جس کے مطابق بینکوں کو اپنے پورٹ فولیو کا 5 فیصد حصہ ہاؤسنگ مارگیج کیلئے مختص رکھنا ضروری ہے۔

لینڈ رجسٹری کا فرسودہ نظام

کیڈیسٹرل میپنگ کی تکمیل کے بڑے پیمانے پر احکامات کے باوجود پاکستان میں صدیوں پُرانے پٹواری کلچر اور لینڈ ریجسٹریشن سسٹم کا خاتمہ کسی صورت بھی مستقبل قریب میں نہیں دکھائی دیتا۔ ایسے میں بینکوں کو بھی ایک دگرگوں کی صورتِ حال کا سامنا رہتا ہے کہ آیا وہ پوٹینشل ہوم بائرز کو فنانس کریں کہ نہیں۔ یاد رہے کہ بڑے پیمانے پر آج بھی ہاؤسنگ سوسائٹیز خریداروں کو سیلز ڈیڈ کے بجائے الاٹمنٹ لیٹر دیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہ مارگیج فنانس کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ اسی طرح سے فورکلوژر قوانین بھی ابھی ہی اپڈیٹ کیے گئے ہیں جس کے اثرات کا اندازہ لگانے میں وقت درکار ہے۔ انہیں وجوہات کی بناء پر بینکس عموماً پراپرٹی ڈویلپرز کو پراجیکٹس کے قیام کیلئے فنڈز دینے میں گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم عموماً دیکھتے ہیں کہ ہاؤسنگ پراجیکٹس ایڈوانس سیلنگ کے ذریعے متوسط اور مڈل کلاس طبقے کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ پاکستان میں لینڈ ٹائٹل کے مسائل بھی توجہ طلب ہیں۔ پرائیویٹ ڈویلپرز کو آج بھی ہاؤسنگ اسکیموں کیلئے درجن سے زائد این او سیز کیلئے اپلائی کرنا پڑتا ہے جس میں عرصہ بیت جاتا ہے۔ کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کے فروغ کیلئے اربن پلانرز کو آن بورڈ لے کر ہر شہر میں ون ونڈو آپریشن کا قیام ہونا چاہیے تاکہ آسان معاملات سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے حقیقی پوٹینشل کا ادراک ہوسکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے