ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے مختلف طریقے

یہ بات انتہائی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری آج کل کے بہت سے انویسٹمنٹ ایونیوز میں محفوظ ترین ہے۔ تحقیق سے یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ جو لوگ اپنے سرمائے کو کم وقت میں بڑھانے کے خواہاں ہیں، اُن کیلیے ریئل اسٹیٹ سیکٹر آئیڈیل ترین ہے۔

گو کہ آج کی تحریر کا موضوع ریئل اسٹیٹ بمقابلہ دیگر انویسٹمنٹ ایوینیوز نہیں ہے، لیکن ابتدائی طور پر ان باتوں کا ذکر کرنا اِس لیے ضروری تھا تاکہ آپ کو آنے والے سطور کیلئے ذہنی طور پر تیار کیا جاسکے۔

انویسٹمنٹ پورٹ فولیو کی وُسعت کے فوائد

ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا حصہ بننے کے بہت سے طریقے ہیں اور لوگ انواع و اقسام کے ذرائع کو بروئے کار لاکر خود کو اس کاروباری ڈھانچے میں ڈھال سکتے ہیں۔ یہاں دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آپ کے لائف سٹائل اور مالی استطاعت کے ساتھ کون سا انویسٹمنٹ ماڈل موزوں ہے۔ یہ فیصلہ صرف اور صرف آپ ہی کرسکتے ہیں۔ کئی لوگ ایک سے زائد انویسٹمنٹ ماڈل کو اپنا کر اپنا اور اپنے خاندان کا مستقبل محفوظ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ انسان جیسے جیسے اس سیکٹر میں مختلف منازل عبور کرتا ہے، اُس کا انویسٹمنٹ پورٹ فولیو وسیع ہوتا چلا جاتا ہے اور کسی بھی سرمایہ کار کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ انویسٹمنٹ پورٹ فولیو وسیع ہونے کے کتنے فوائد ہیں۔

رینٹل پراپرٹی کی خریداری

ایک عمومی تاثر یہ ہے کہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ کرنے کا سب سے آسان اور موثر طریقہ رینٹل پراپرٹی خرید کر اُسے رینٹ آؤٹ کرنا یعنی ماہانہ کرایہ وصول کرنا ہے۔ ایک اور طریقہ پراپرٹی خرید کر مستقبل میں اُس کی قیمت بڑھ جانے پر اسے بیچ دینا ہے۔ لوگ عموماً کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی سے پلاٹ کی فائل خرید کر اُس کی قیمت کے بڑھنے کا انتظار کرتے ہیں اور بڑھنے پر بیچ دیا کرتے ہیں۔ اس ضمن میں لوگ فلیٹس، اپارٹمنٹس يا کمرشل پراپرٹی کا انتخاب کرتے ہیں۔

دورِ جدید کی سہولیات

پاکستان میں آبادی بڑھ رہی ہے اور ایسے میں لینڈ اسپیس میں کمی واقع ہورہی ہے۔ لوگوں کے ضروریاتِ زندگی میں بھی تبدیلی واقع ہورہی ہے اور لوگ سہولیات سے مزین علاقے میں زندگی گزارنے کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اس سلسلے میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) نے کافی مثبت کردار ادا کیا جس سے پاکستان کی انویسٹمنٹ مارکیٹ میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ سی پیک سے پاکستان عالمی طور پر ایک انویسٹمنٹ ایونیو کے طور پر سامنے آیا اور حکومت نے تعمیرات کی مد میں بہت ساری ٹیکس مراعات کا اعلان کیا۔ شرح خواندگی اور اُس کے ساتھ ساتھ عمومی سوجھ بوجھ کا بڑھنا لوگوں کے طرزِ زندگی میں تبدیلی لا رہا ہے، یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے کسی صورت بھی انکار ممکن نہیں۔ ہر شخص کی یہ کوشش ہے کہ اُس کا مسکن دورِ جدید کے مطابق ڈھلتی زندگی سے عین مطابقت رکھے۔ تعلیمی درسگاہوں، تفریحی پارک، اعلیٰ پائے کے طبی مراکز، شاپنگ مالز، گراسری اسٹورز اور مرکزی شاہراہوں کی قربت کا پراپرٹی کے ریٹس پر کافی اثر ہوتا ہے۔

پراپرٹی فلپگ کے معنی

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا حصہ بننے کیلئے بہت سی راہیں میسر ہیں اور اُن راہوں کی منزل ایک ہے یعنی منافع بخش سرمایہ کاری اور معاشی طور پر ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد۔ ایک طریقہ جو آج کل یعنی سال 2022 کے پراپرٹی ٹرینڈز میں کافی حد تک رائج ہے وہ پراپرٹی فلپنگ کا ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کے تحت لوگ ایک ایسی پراپرٹی خریدتے ہیں جو صرف اس لیے سستے داموں فروخت کی جارہی ہوتی ہے کہ اُس کی کنڈیشن آئیڈیل نہیں ہوتی یعنی وہاں رنویشن اور بحالی کا کافی سارا کام کرنا ہوتا ہے۔ لوگ کم لاگت پر ایسی پراپرٹی خرید کر وہاں کی بحالی نو کا کام کرتے ہیں اور پھر اُسے مارکیٹ ریٹ پر فروخت کردیتے ہیں۔

ہاؤسنگ سوسائٹیز میں سرمایہ کاری

چند سطور قبل کرایہ داری پر بات ہوئی۔ پراپرٹی کرائے پر دینے میں کافی سارے عوامل ہیں جن کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ کرایہ داروں کا خیال رکھنا، اُن کے لیونگ اسپیس کی رینویشن، کسی بھی کمی بیشی کی دوری اور کرایہ داری کے قوانین پر توجہ دینا اس ضمن میں کافی اہم ہیں۔ اسی طرح سے ایک بہتر انویسٹمنٹ پلان کے ساتھ پلاٹ کی خریداری بھی ایک اچھا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ مانا کہ یہ انویسٹمنٹ مالی لحاظ سے ابتدائی ایام میں تھوڑی مہنگی ہوگی لیکن ایک مدت گزرنے کے بعد اس کے ریٹرن آن انویسٹمنٹ سے انکار مشکل ہے۔ یہ ریٹرن آن انویسٹمنٹ بھی چند عوامل پر منحصر ہے۔ وہ یہ کہ آیا جو پراپرٹی آپ نے خریدی ہے، وہ ڈیمانڈ میں ہے یا نہیں، اُس کی لوکیشن کیا ہے، وہ جس ڈویلپر کی تعمیر ہے آیا اُس کی مارکیٹ کی ساکھ دُرست ہے کہ نہیں اور مذکورہ منصوبے کے پاس تمام تر منظوریاں ہیں یا نہیں۔ ان تمام تر سوالات کا اگر جواب ہاں میں ہو تو آپ کی انویسٹمنٹ کی ویلیو بڑھے گی اور اُس کی معاشی لاگت میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہوگا۔

بہتر ریٹرن آن انویسٹمنٹ کا حصول کیسے کیا جائے؟

بہت سارے لوگ یہ سوال کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں کہ کسی بھی پراپرٹی کی قانونی حیثیت کی جانچ کرنے کا کیا طریقہ ہے۔ اُوپر کے چند سطور میں کو سوالات آپ کے سامنے رکھے، اُسے اونر شپ، اپروول، ڈیمانڈ اور ڈیلیوری کا فارمولہ کہتے ہیں۔ مزید برآں، حکومت کے براہِ راست احکامات کے مطابق مختلف شہروں کی ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز نے اپنی اپنی ویب سائٹس پر اُن شہروں میں واقع تمام رہائشی و کمرشل منصوبوں کی فہرست جاری کردی ہے، جس سے لوگوں کو معلوم ہوسکتا ہے کہ کس پراجیکٹ کو نو آبجکشن سرٹیفکیٹ ملا ہوا ہے اور کس منصوبے کو متعلقہ اتھارٹی سے این او سی نہیں ملا ہوا۔ ایسے میں لوگوں کی یہ زمہ داری ہے کہ وہ کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے قبل اُس منصوبے کی ہر طرح سے جانچ پڑتال کرلیں تاکہ اُن کی سرمایہ کاری ضایع نہ ہو۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے