ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئے ٹرینڈز

ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں آئے روز رجحانات کی تبدیلی واقع ہوتی رہتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ٹرینڈز کی تبدیلی کسی بھی شعبہ ہائے زندگی کو زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے۔ معاملات اور معمولات میں لوگوں کی دلچسپی اسی طرح سے برقرار رہتی ہے۔

کورونا وبا نے مگر بہت سوں کو بہت کچھ سکھا دیا۔ کورونا سے پہلے کی دنیا اور اس مہلک وبا کے بعد کی دنیا میں جہاں بہت کچھ مشترک ہے وہیں اس میں بہت سی قدریں مختلف ہیں۔ اب لوگوں کو ایک احساس ہے کہ کسی بھی چیز کو فار گرانٹڈ لینا دراصل ایک احمقانہ فعل ہے۔ جب ہر طرف جمود نے ڈیرے ڈال رکھے ہوں تو حرکت کی گراں قدر خدمات کا اندازہ کسے نہیں ہوتا۔ گو کہ امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے معاشی جمود کو روانی کی راہ پر گامزن کیا اور اس کے آؤٹ پٹس اب پری کوویڈ لیولز پر واپس آگئے ہیں تاہم بہت کچھ ہے جس پر ابھی غور کرنا باقی ہے۔

ڈیلٹا ویرینٹ کے بعد اب نئے ویرینٹ یعنی اومی کرون کی بات کی جارہی ہے جس سے یہ بات ثابت ہے کہ یہ وائرس طرح طرح کی اقسام کے ساتھ ہمارے اُوپر حملہ آور ہے اور اب رہنا ہے تو اسی کے ساتھ رہنا ہے۔

ورٹیکل ڈویلپمنٹس اور ماحول دوست تعمیرات

دنیا میں بڑھتی آبادی یعنی اراضی کی عدم دستیابی کے پیشِ نظر گلوبل ڈویلپرز اس نتیجے پر آ چکے ہیں کہ ورٹیکل ڈویلپمنٹس ہی تعمیرات کا مستقبل ہیں۔ یوں یہ بات انتہائی وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ دورِ حاضر اور مستقبل کے لہاظ سے ورٹیکل ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس رہائش و سرمایہ کاری کیلئے کلیدی اہمیت کا حامل ہوں گے۔ حالیہ دنوں میں ایک تحقیق کے مطابق کمرشل ریئل اسٹیٹ کاربن اخراج کے تقریباً 40 فیصد حصے کا باعث ہے۔ کوپ 26 کانفرنس میں دنیا کے 197 ممالک کے لیڈران کو بریف کیا گیا کہ کمرشل ریئل اسٹیٹ انڈسٹری کو ماحول دوست کیسے بنایا جائے، اسمارٹ اور سسٹنیبل عمارات کا قیام کیسے کیا جائے، اور کیسے دنیا میں مستقبل کی نسلوں کیلئے ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ کنسٹرکشن کی جائے۔ نئے ٹرینڈز میں ریزیڈینشل عمارات میں ویسٹ منیجمنٹ کے مربوط نظام، آبی ذخائر کے تحفظ اور اسمارٹ عمارات کی ضرورت غالب رہے گی۔

مائیکرو اپارٹمنٹس کا رجحان

مائیکرو اپارٹمنٹس کا آئیڈیل سائز زیادہ سے زیادہ 500 مربع فٹ ہوتا ہے۔ آج کا دور چونکہ وسائل کے لحاظ سے ایک نفسا نفسی کی کیفیت کی گرفت میں ہے، سنگل لیونگ اور نیوکلیئر فیملیز کا ٹرینڈ بھی بڑھ رہا ہے۔ مائیکرو اپارٹمنٹس رہائشیوں کو بڑھتے ہوئے کرائے اور مینٹیننس کی لاگت کا حل فراہم کرتے ہیں۔ انہیں افورڈایبل لیونگ کی غرض سے آئیڈیل ترین کہا جاتا ہے۔ مائیکرو اپارٹمنٹس کا رجحان اس وجہ سے بھی بڑھ رہا ہے کہ آج کل عالمی طور پر مہنگائی کا دور ہے۔ جس شخص سے بھی پوچھیں وہ بڑھتی ہوئی کاسٹ آف لیونگ کا رونا روتے نظر آئیگا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر کسی نے لکھا تھا کہ دن کے 24 گھنٹوں کا بیشتر حصہ یہ سوچتے ہوئے گزرتا ہے کہ خرچوں میں کٹوتی کہاں کی جائے یعنی سیونگز کو کیسے معمولاتِ زندگی میں شامل کیا جائے۔ ایسے میں مائیکرو اسمارٹ ہومز میں آپ کو ضرورتِ زندگی کی ہر چیز کی دستیابی ہوتی ہے اور ان میں اسپیس ضائع نہیں کی جاتی۔ ان اپارٹمنٹس کو انتہائی سوچ بچار کے بعد بنایا جاتا ہے اور ان میں ڈیکور ٹرینڈز اور جدید اربن لیونگ اسٹائل کو ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ لارج ریزیڈینشل یونٹس کے برعکس اِن میں یوٹیلیٹی بلز اور ان کی تزئین و آرائش کی لاگت بھی بہت کم ہوتی ہے۔

پندرہ منٹ لائف سٹائل

مشہور امریکی جریدے فوربز میں مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں 15 منٹ لائف سٹائل اب بہت سی چیزوں کو ڈکٹیٹ کریگا۔ یعنی لوگ اب ہر چیز ایک مخصوص پیرائے میں چاہتے ہیں جسے گورے نے 15 منٹ لائف سٹائل کا نام دیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ ایسی لیونگ کے خواہشمند ہیں جس میں اُنہیں زیادہ اِدھر اُدھر جانے کی ضرورت نہ پڑے اور اُنہیں ہر چیز 15 منٹ کے فاصلے پر مل جائے، یعنی اسکول، گروسری سٹور، شاپنگ سینٹرز، ہسپتال، لائبریری، پارکس، فلنگ اسٹیشنز نیز سب کچھ ایک مخصوص احاطے میں دستیاب ہو، جس کی وجہ سے ہم دیکھیں گے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں آل اِن ون کمیونیٹیز کا رجحان بڑھیگا جس سے لوگوں کی ہر ممکن ضرورت ایک ہی چار دیواری میں پوری ہوگی۔

ٹیکنالوجی، ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی ۔۔۔

دنیا میں جدت کا ایک عجب دور چل رہا ہے۔ یوں کہیے کہ ٹیکنالوجی کے زیرِ سایہ ایجادات کا ایک طوفان ہے اور اُس کے آگے بند نہیں باندھا جا رہا۔ یہ ٹیکنالوجی نامی بلا عالمی نقشہ تبدیل کررہی ہے یعنی جیسی دنیا تھی، اب نہیں ہے اور جیسی دکھ رہی ہے، آنے والے ایام میں یوں نظر نہیں آئے گی۔ آج سے نصف صدی قبل شاید ہی کسی نے ڈرون ٹیکنالوجیز کا تعمیراتی سائٹس پر استعمال کا سوچا ہو، شاید ہی اسمارٹ ہومز کی اس قدر پذیرائی کا کسی نے تصور کیا ہو۔ بات یہ ہے کہ جب بھی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں نئے ٹرینڈز کی بات ہوگی، ٹیکنالوجی کے کردار کو کسی صورت بھی رول آؤٹ نہیں کیا جائیگا کیونکہ آئے روز کی نئی ڈسکووریز، نئی ایجادات نیز لفظ انٹرنیٹ سے منسلک ہر چیز انسانی حسیات کو ششدر کرنے کیلئے کافی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے