گھر کی خریداری سے قبل کن باتوں کا اطمینان ضروری ہے؟

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی ترقی سے پورے ملک کی معاشی تصویر بدلی جاسکتی ہے۔ اِس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ یہ سیکٹر اپنے ساتھ متعدد الائیڈ انڈسٹریز کا پہیہ بھی چلاتا ہے۔ صنعتی ترقی سے درآمدات پر زور کم ہوتا ہے، برآمدات میں اضافہ ہوتا ہے، روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں اور یوں خوشحالی اور معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

آج ہم جس دور میں زندہ ہیں، وہ دور وسائل کے لحاظ ایک ایسی دوڑ میں پنپ رہا ہے کہ جس میں ہر شخص کی کوشش ہے کہ وہ دورِ جدید کیلئے ضروری کم و بیش تمام سہولیات سے استفادہ کرسکے۔

سر پر ایک مناسب چھت کا انتظام روزِ اول سے ہی انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک رہا ہے۔ انسان ہمہ وقت اِس کوشش میں مگن رہتا ہے کہ اُس کا مسکن اُس کے طرزِ زندگی میں سہولت کا باعث بنے نہ کہ رکاوٹ کے۔ یوں صبح کو شام کرتے اُس کی تمام تر تگ و دو کا مرکز و محور اپنے گھر کو سہولیات سے آراستہ کرنے میں گزرتا ہے تاکہ اُس کے لائف اسٹائل میں کسی کمی کی جگہ نہ رہے۔ کہتے ہیں کہ انسان کا گھر اُس کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ جب گھر شخصی تصویر کی حیثیت اختیار کرجائے تو کون چاہے گا کہ اُس میں کسی کمی کی گنجائش ہو؟ بس یہی کوشش انسان کو محوِ عمل رکھتی ہے اور گھر کے اِس کانسیپٹ کو دلچسپ بناتی ہے۔

 

مکان کی خریداری، ایک بڑا فیصلہ

یہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ گھر روز روز نہیں بنتے۔ مکان کی خریداری بلا شبہ ایک بڑا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ فیصلہ کرتے وقت بہت سارے عوامل کو ملحوظِ خاطر رکھنا ہوتا ہے۔
جیسے گھر کے اندر کی سہولیات سے گھر کی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ویسے ہی کسی بھی مکان کی مالیاتی لاگت اُس کے آس پاس کی سہولیات پر بھی منحصر ہے۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ پراپرٹی خریدنے سے قبل تین چیزوں کا اطمینان کرلینا ضروری ہے، اور وہ تین عوامل لوکیشن، لوکیشن اور بس لوکیشن ہیں۔ یہ ایک ایسا فیکٹر ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پراپرٹی قانونی ہو، اُس کی ملکیت مشکوک نہ ہو اور اُس کی لوکیشن آئیڈیل ہو تو اُس کی قدر و قیمت بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کسی بھی پراپرٹی کی لوکیشن کو آئیڈیل تب قرار دیا جاتا ہے جب اُس کے آس پاس روز مرہ کی سہولیات کے مراکز عین قُربت میں موجود ہوں، یعنی ہسپتال، تعلیمی و تفریحی مراکز، شاپنگ سینٹرز وغیرہ۔

 

مکان کی خریداری سے قبل ریسرچ کیوں ضروری ہے؟

مکان کی خریداری سے قبل ریسرچ بھی ایک اہم فیکٹر ہے۔ مارکیٹ ریسرچ سے آپ کو رائج ٹرینڈز اور قیمتوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ وہ دن گئے جب لوگ صرف ایک ریئل اسٹیٹ ایجنٹ کی گائیڈ لائنز پر ہی خریداری کیا کرتے تھے۔ اب ڈویلپرز کا دور ہے جو کہ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ڈیجیٹل پراپرٹی ٹورز اور خریداری کا ایک الگ ہی تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ چونکہ یہ دور انٹرنیٹ کا ہے تو لوگ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے متعدد پراپرٹیز کی قیمتوں اور سہولیات کا تقابلی جائزہ کرسکتے ہیں۔ آن لائن آپ مکانات کی خرید و فروخت کے عمل اور ڈاکومنٹس کی تفصیل کے بارے میں بھی جان سکتے ہیں اور کسی بھی پراپرٹی کے حوالے سے لوگوں کی رائے کا اندازہ بھی لگا سکتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ پراپرٹی کی خریداری سے قبل وہاں کی پلمبنگ، کنسٹرکشن اور الیکٹرک وائرنگ کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے تاکہ بعد ازاں تکلیف سے بچا جاسکے۔

اپنی لائف اسٹائل اور مستقبل کا اندازہ لگائیں

گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان پورے دن کی محنت اور ریاضت کے بعد داخل ہوتا ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں سے انسان اِس دور میں جینے کے وسائل اکٹھے کرنے کیلئے اپنی حسیات تر و تازہ کرنے کے بعد نکلتا ہے۔ چند سطور قبل اِس بات کا ذکر کیا گیا کہ انسان کا گھر اُس کی شخصیت کا عکس ہوتا ہے۔ ایسے میں گھر کا انسان کی شخصیت سے مطابقت رکھنا بہت اہم ہوجاتا ہے۔ مکان کی خریداری سے قبل خود سے سوال کریں کہ آپ کو اپنی قُربت میں کس قسم کی سہولیات چاہئیں۔ آپ محض سرمایہ کاری کیلئے یہ گھر خرید رہے ہیں یا مستقل رہائش کی غرض ہے۔ اگر سرمایہ کاری کی غرض سے گھر کی خریداری کررہے ہیں تو ضروریات اور طرح کی ہوں گی اور اگر رہائش کی غرض سے گھر کی خریداری کررہے ہیں تو پھر اور طرح کی سہولیات درکار ہوں گی۔ اندازہ لگانے کی کوشش کریں کہ آپ کا لائف اسٹائل مستقبل میں کتنا تبدیل ہوسکتا ہے، خاندان کتنا بڑھ سکتا ہے اور ایک گھر میں اُن کی ضروریات کا احاطہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔

ملکیتی دستاویزات کی تصدیق

پراپرٹی کی اؤنرشپ یعنی ملکیت کی تصدیق بھی اہم ترین فیکٹر ہے۔ سرمایہ کاری سے پہلے اس امر کا اطمینان کرلیں کہ جس ہاؤسنگ یونٹ کی آپ خریداری کرنے والے ہیں وہ کس کی ملکیت ہے۔ پھر اس بات کا اطمینان کرلیں جس کی ملکیت ہے کیا اُس کے پاس اپنی ملکیت کے ثبوت کے طور پر تصدیق شدہ دستاویزات ہیں کہ نہیں ہیں۔ پاکستان میں لینڈ ریکارڈز آج سے پہلے پٹوار کلچر کے زیرِ انتظام تھے جس کی وجہ سے کاغذی کاروائیوں اور دھوکہ دہی کا نظام پنپتا رہا۔ ملکیت کے بے شمار مسائل سامنے آئے کہ اگر اُن کے بارے میں اگر لکھنا شروع کردیا جائے تو دن تمام ہوجائے پر احاطہ نہ ہو پائے۔ ہمارے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے منسلک عدالتی مقدمات کے 60 فیصد کا براہِ راست تعلق جائیداد کی اؤنرشپ سے ہے۔ یوں بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ سوال کتنی اہمیت کا حامل ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے