ریئل اسٹیٹ سیکٹر: مارکیٹ کے رجحانات کا اندازہ کیسے لگایا جائے؟

ریئل اسٹیٹ وہ سیکٹر ہے جو کبھی ساکت نہیں رہتا۔ دنیا میں آبادی بڑھ رہی ہے، لوگ بہتر روزگار کے مواقع ڈھونڈنے کیلئے بے تاب ہیں اور اپنی لائف سٹائل اپ گریڈ کرنے کیلئے شہری مراکز کا رخ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں پراپرٹی کی خرید و فروخت ہمہ وقت چلتی رہتی ہے۔

آئے روز مارکیٹ میں ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ بس اپنی پراپرٹی جلد سے جلد بیچنے کیلئے کوشاں دکھائی دیتے ہیں جبکہ کچھ لوگ صرف ایک ضرورت کے تحت کوئی پراپرٹی خریدنا چاہتے ہیں۔ کچھ لوگ مگر اس مارکیٹ میں کارفرما پوری سائنس جاننا چاہتے ہیں اور معلوم کرنا چاہتے ہیں ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں پنہاں راز و نیاز کی سب باتوں سے آگہی کیسے حاصل کی جائے۔

ریئل اسٹیٹ مارکیٹ اور ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کا کھیل

مارکیٹ بہرحال اپنے انداز سے سب کو سیکھنے کا مکمل موقع دیتی ہے۔ خرید و فروخت کرتے وقت یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ مارکیٹ کا ٹرینڈ ہے کیا، مارکیٹ پراپرٹی کی خریداری کرنے والوں کے حق میں ہے یا فروخت کرنے والوں کے، آسان الفاظ میں آیا کوئی مارکیٹ بائیرز مارکیٹ ہے یا سیلرز مارکیٹ؟ اس کا پتہ لگانا آسان بھی ہے اور مشکل بھی، معاملات مگر ڈیمانڈ اینڈ سپلائی پر ہی آکر رکتے ہیں۔ جو لوگ چاہتے ہیں کہ وہ عین مارکیٹ ریٹ پر ہی خریداری کریں، اُنہیں کسی صورت کوئی فراڈ یا دھوکہ دہی یا ناجائز منافع خوری کا سامنا نہ ہو، اُنہیں اس پوری سائنس سے آگہی ضرور حاصل کرنی چاہیے۔

پراپرٹی مارکیٹ کے دو حصے

پراپرٹی مارکیٹ دو حصوں میں تقسیم کی جاسکتی ہے۔ ایک طرف خریدار ہوتے ہیں تو دوسری طرف فروخت کرنے والے۔ مارکیٹ کا ٹرینڈ کس جانب مائل ہے اور مارکیٹ کے رجحانات میں شفٹ یعنی بدلاؤ کب آسکتا ہے، یہ غور طلب باتیں ہیں۔

پہلا حصہ، بائیرز مارکیٹ

کسی جگہ کی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ خریداروں کے حق میں ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر وہاں فروخت کرنے والے بہت ہوں اور خریدنے والے کم تو ایسے میں خریداروں کے ہاتھوں میں زیادہ پاور ہوتی ہے یعنی اُن کے پاس آپشنز کی وافر مقدار ہوتی ہے جس میں سے وہ اپنی مرضی کی ایک چن سکتے ہیں اور من مرضی کی ڈیل حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کی وجوہات میں اکنامک ڈاؤن ٹرن مرکزی ہے کہ اچانک ایسی کوئی صورتحال آن پڑے کہ لوگوں کو اپنی پراپرٹیز بیچنی پڑ جائیں۔ کسی علاقے میں اگر بہت ساری تعمیراتی سرگرمیاں ہونے لگیں، وہاں کسی وجہ سے آبادی کا تناسب کمی کی جانب ہو، مثال کے طور پر کرائم ریٹ بڑھ جائے یا ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ لوگ وہاں رہنے پر وہاں سے نکلنے کو ترجیح دیں تو سمجھ جائیں کہ وہاں کی مارکیٹ ایک بائیرز مارکیٹ ہے۔ ایسی مارکیٹ کی کچھ خصوصیات ہوتی ہیں، یہاں پراپرٹی کے ریٹ اور جگہوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں، پراپرٹی بکنے میں زیادہ وقت لیتی ہے، پراپرٹی کی قیمتیں مسلسل گرتی ہیں اور مکانات کی اوور سپلائی ہوتی ہے۔

دوسرا حصہ، سیلرز مارکیٹ

وہ پراپرٹی مارکیٹ جو کہ فروخت کنندگان کے حق میں ہو وہاں پراپرٹیز کی تعداد خریداروں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی ہے۔ یہاں گیند پراپرٹی فروخت کرنے والوں کے کورٹ میں ہوتی ہے اور وہ من چاہی قیمتوں پر اپنی پراپرٹی اسٹیج کرسکتے ہیں۔ ایسی مارکیٹ کی خصوصیات یہ ہوتی ہیں کہ پراپرٹی بہت جلدی اور مارکیٹ پرائیس سے بہت اُوپر فروخت ہوجاتی ہے، یہاں پراپرٹی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہتی ہیں اور گھروں کی ایک مستقل ڈیمانڈ ہوتی ہے۔ چونکہ پاکستان کو آبادی کے اضافے کا سامنا ہے اور مکانات کی سالانہ ڈیمانڈ میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے ایسے میں پاکستان کی اوور آل مارکیٹ کو ایک سیلرز مارکیٹ کہا جاسکتاہے۔ ایسی مارکیٹ میں جائیداد میں سرمایہ کاری ذرا مشکل ہوجاتی ہے اور اگر کسی کے پاس اتنی معاشی طاقت ہو تو وہ یہاں انویسٹمنٹ کر کے اپنی رقم دنوں کے حساب سے دوگنی سے چوگنی کر سکتا ہے۔ چونکہ ایسے میں خریداروں کے پاس محدود آپشنز ہوتی ہیں تو اُن کی چاہیے کہ وہ مارکیٹ سے من مرضی کا سودا کھنگالنے کیلئے ایک مفصل اسٹریٹجی ترتیب دیں۔ ایسے میں صبر سے کام لینا اور مارکیٹ کے چپے چپے کو اسٹڈی کرنا ضروری ہے۔ جہاں گزشتہ سطور میں صبر سے کام لینے کی تنبیہ کی گئی وہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ جیسے ہی ضروریات کے مطابق پراپرٹی نظر آئے، مزید ٹال مٹول سے کام لینا اُس پراپرٹی کو اپنے ہی ہاتھوں سے گنوانے کے مترادف ہے۔ فوراً سے اپنی آفر پیش کرنی چاہیے اور اس پر پیشرفت کرنی چاہیے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔