منافع بخش سرمایہ کاری کیسے یقینی بنائی جائے؟

خود کو معاشی اعتبار سے مستحکم کرنے کی خواہش رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ آج کل کا دور ایسا ہے کہ خوشحالی، وسائل اور مالی استحکام کے معنی بدل چکے ہیں۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر خود کو معاشی طور پر خوشحال بنانے کیلئے ایک آئیڈیل ایونیو ہے۔ منافع بخش سرمایہ کاری کے جتنے وسیع مواقع آپ کو یہ سیکٹر دیتا ہے، وہ شاز و نادر ہی کسی اور جگہ میسر آتے ہیں۔

ہمارے مُلک میں گزشتہ چند برسوں میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر نے خوب ترقی کی ہے۔ اس ضمن میں ٹیکنالوجی نے کلیدی کردار ادا کیا ہے کہ آہستہ آہستہ ہی سہی، اس سیکٹر کی چند دیرینہ روایات کا بدلاؤ ہورہا ہے۔ آہستہ آہستہ ہی سہی، ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے حقیقی پوٹینشل کا ادراک ہورہا ہے۔ حکومتی سطح پر اس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ ریئل اسٹیٹ میں سالانہ بنیادوں پر کی جانے والی کُل سرمایہ کاری کا نصف حصہ کیپیٹل ٹریپ میں پھنس جاتا ہے۔ اس بات کا بھی احساس ہوچکا ہے کہ پاکستان میں ہاؤسنگ یونٹس کی پیداوار میں آبادی کے لحاظ سے اضافہ نہیں ہورہا اور نچلے طبقے کیلئے کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ آہستہ آہستہ ہی سہی، لوگوں میں یہ فہم بھی آرہا ہے کہ منافع بخش سرمایہ کاری کے اصول کیا ہوتے ہیں، کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی یا ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ کی قانونی جانچ کیسے کی جائے، غیر قانونی تعمیرات سے کیسے بچ کر رہا جائے اور اپنے سرمائے کو دُرست جگہ پر کیسے لگایا جائے۔

ابتدائی ریسرچ کی اہمیت

آج کی تحریر آپ کو منافع بخش سرمایہ کاری کرنے کے چند مفید مشورے لیے ہوئے ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر آرٹ اور سائنس کا ایک حسین سنگم ہے۔ یہاں ترقی کرنا مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔ سارا تعلق مگر سمجھنے سے ہے کہ جس کو سمجھ آگئی، اُس نے دیر سے ہی سہی دن دوگنی رات چوگنی ترقی ضرور کی۔ منافع بخش سرمایہ کاری کیلئے سب سے ضروری امر ہوم ورک ہے۔ یعنی اپنے تئیں مکمل ریسرچ کرنا، معاملات کی ہر طرح سے فہم و فراست حاصل کرنا۔ ہوم ورک کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ماہرین کی رائے لی جائے اور اسے پلے سے باندھا جائے۔ کہاں کے دام اُوپر جارہے ہیں اور کہاں کے ریٹ نیچے آرہے ہیں، قیمتوں میں بدلاؤ آنے کی وجوہات کیا ہیں، جہاں ریٹ کمی کا شکار ہیں آیا وہاں آنے والے دنوں میں یہ دوبارہ اُوپر جاسکتے ہیں یا نہیں، اور اگر جاسکتے ہیں تو کیا ایسے میں کوئی انویسٹمنٹ اسٹریٹجی ہے جس سے معاشی لحاظ سے کوئی چانس بن سکتا ہے یا نہیں، یہ سب وہ سوال ہیں جن کا جواب اگر خود پر لازم کرلیا جائے تو ہوم ورک اپنے آپ ہی مکمل ہوجاتا ہے۔ چونکہ ریئل اسٹیٹ سرمائے کا کھیل ہے لہٰذا کوشش یہ کرنی چاہیے کہ خود کو ہر لحاظ سے خطرات سے دور رکھا جائے۔

فنانشل اسٹریٹجی، ایک ضروری اقدام

ایسے میں ایک فنانشل اسٹریٹجی بنانا بھی ضروری ہے۔ کسی بھی سرمایہ کاری سے قبل اپنی مالی استطاعت اور درپیش معاملے میں ممکنہ اخراجات پر نظر ضرور ڈالیں۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے معاملے میں جلدی کرنا خود کو آپ ہی خطرات سے دوچار کرنے کے مصداق ہے۔ ایک معاشی اندازے کا تعلق تو ڈائریکٹ انویسٹمنٹ سے ہوتا ہے کہ اگر آپ نے کسی پراپرٹی میں انویسٹ کرنا ہے تو اُس کی ایک مختص کردہ قیمت ہوگی لیکن ایک ایسی کُشن اماؤنٹ ہوتی ہے جو اُس پراسیس میں حائل ہوتی ہے جس کا ابتدائی ایام میں یا باہر سے اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ آپ نے ایک گھر خریدا جسے آپ کچھ عرصہ استعمال کر کے بیچنا چاہتے ہیں مگر جیسے ہی آپ وہاں رہائش پذیر ہوئے تو ایسے کچھ مسئلے نکل آئے کہ جنہیں دور کرنے کیلئے آپ کو اپنے بجٹ سے باہر نکلنا پڑےگا۔ اب اگر آپ نے پہلے سے ہی انویسٹمنٹ میں سرکولیٹ کرنے کچھ رقم مختص کی ہوتی تو آپ ایک دم سے خرچہ نکل آنے کی کوفت سے بچ جاتے۔ انسان کو اسٹریٹجی میں اپنی ذات کو بھی شامل کرنا چاہیے کہ اگر وہ کہیں مکان خرید رہا ہے تو آنے والے دور میں وہ مکان اُس کے اور اُس کے خاندان کیلئے کتنا فائدہ مند ثابت ہوگا، مکان کے سائز اور خاندان کے سائز میں باہم میل ہوگا کہ نہیں اور وہ کتنے ٹائم تک ایک مخصوص سرمایہ کاری کو ہولڈ کرسکتا ہے۔

قانونی حیثیت کی تصدیق

کہیں بھی سرمایہ کاری کرنے سے قبل کچھ ایسی ضروری باتیں ہوتی ہیں جن کو لے کر اچھی طرح تسلی کرلینی چاہیے۔ ایک تو جب بھی آپ کسی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ خریدیں، اس بات کا یقین کرلیں کہ وہ سوسائیٹی متعلقہ ترقیاتی و قانونی اداروں سے تصدیق شدہ ہے۔ آج کل جعلی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کی جہاں بھرمار ہے، وہیں ترقیاتی ادارے اِن کے خلاف مہم تیز کیے ہوئے ہیں۔ آپ اسلام آباد میں سرمایہ کاری کررہے ہیں تو سی ڈی اے اور اگر راولپنڈی میں سرمایہ کاری کررہے ہیں تو آر ڈی اے کی ویب سائٹ پر جا کر معلومات کرسکتے ہیں کہ آیا کوئی ہاؤسنگ سوسائٹی بلیک لسٹ تو نہیں ہے۔

اسی طرح سے جہاں سرمایہ کاری کررہے ہیں، اُسے منافع بخش بنانے کیلئے ضروری ہے کہ اِن ڈیمانڈ پراپرٹی خریدی جائے یعنی اُس کی ری سیل ویلیو بھی ہو۔ ایسے میں آپ کو پراپرٹی کی کنڈیشن کے ساتھ ساتھ اُس کی لوکیشن پر خصوصاً توجہ دینی ہوگی۔ یاد رہے کہ کوئی بھی پراپرٹی جب تک لیگل ہو اور اس کی لوکیشن اچھی ہو، اُس کی قیمت کبھی بھی کم نہیں ہوتی، یعنی سرمایہ دار کیلئے ہمیشہ فائدے کا سامان ہوتی ہے۔ لوکیشن کا تعین کرنے کیلئے آس پاس کے ماحول اور سہولیات کا اندازہ لگانا انتہائی ضروری ہے۔ سرمایہ کاری کیلئے حال اور مستقبل کی فہم اور بصیرت رکھنا بھی ضروری ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔