ریئل اسٹیٹ فراڈ سے کیسے بچا جائے؟

دھوکہ دہی، فراڈ اور دروغ گوئی ایسے الفاظ ہیں جن سے ازل سے انسان بچنے کی کوشش کرتا چلا آرہا ہے۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ ہر شخص کے پاس اِن کے شکار ہونے کی الگ اور عجب داستانوں کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔ انسان جیسے جیسے ترقی کرتا گیا، فراڈ اور دھوکہ دہی کے نت نئے طریقے جنم لیتے رہے اور انسان اِن کا شکار ہوتا رہا۔ کہتے ہیں کہ تجربہ آپ کو ہمیشہ غلط فیصلوں سے بچاتا ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ تجربہ آتا غلط فیصلوں سے ہی ہے۔ صبح کا گھر سے نکلا رات کو خیریت سے گھر پہنچنے کو ہر حال میں ترجیح دیتا ہے مگر معاملات اور معمولات ہر شخص کے گرد ایک ایسا کھیل سجاتے ہیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے کہ ہوا تو کیا ہوا۔ ریئل اسٹیٹ ایک ایسا سیکٹر ہے جو کہ سرمائے کے گرد گھومتا ہے۔ پاکستان میں مگر اس سیکٹر پر ہمیشہ چند عناصر کے مرہونِ منت دھوکہ دہی کے ایسے بادل چھائے رہے کہ پراپرٹی فراڈ کے قصے زبان زدِ عام ہوگئے ہیں۔ ملکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے مسائل کو اگر چار حصوں میں تقسیم کرلیا جائے تو فہرست کچھ یوں ملتی ہے:
پلاننگ کا فقدان
معلومات کی عدم دستیابی
ڈیٹا کی کمی
غلط کاروبار

invest with imarat

Islamabad’s emerging city centre

Learn More

غیر مصدقہ ہاؤسنگ پراجیکٹس

ان چار پوائنٹس کی روشنی میں آج کی تحریر اِن نکات پر مبنی ہے کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کون کون سے فراڈ ہوتے ہیں اور ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ پاکستان کی کُل 0.5 فیصد اراضی ایسی ہے جہاں کسی پلاننگ کے تحت تعمیرات ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر ساری تعمیرات ایسی ہیں جو بغیر کسی پلاننگ کے ہیں۔ شہری مراکز کے ماسٹر پلانز فرسودہ ہوگئے، بُھلا دیے گئے اور آج ملکی تعمیرات جیسی تصویر پیش کرتی ہیں اُنہیں دیکھ کر یہ گمان ہوتا ہے کہ جس کا جہاں دل کیا اُس نے وہاں من مرضی کی تعمیر کر کے اپنی جگہ بسا لی۔ یہیں اس امر کی بھی نشاندہی کرلی جائے کہ ہمارے ہاں بہت سے ایسے ہاؤسنگ پراجیکٹس ہیں جو کہ صرف کاغذوں میں بستے ہیں۔ آن گراؤنڈ یعنی زمین پر یعنی حقیقی دنیا میں اُن کا کوئی وجود نہیں ہوتا۔ لوگ مگر اشتہارات کے نرغے میں آکر ایسا پھنستے ہیں کہ اپنا قیمتی سرمایہ حقائق سے عدم آگہی کی بنیاد پر کھو بیٹھتے ہیں۔ اس فراڈ سے بچنے کا سب سے آسان فارمولہ اونرشپ، اپرول، ڈیمانڈ اینڈ ڈیلیوری چیک کرنے کا ہے یعنی کہیں بھی سرمایہ کاری سے قبل آپ وہاں کی مکمل جانچ پڑتال کرلیں کہ متعلقہ قانونی اداروں سے اُن کو منظوری دی گئی ہے کہ نہیں، اُن کے پاس نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) ہے کہ نہیں، اُن کی ڈیمانڈ مارکیٹ میں کیسی ہے اور اُن کو تعمیر کرنے والے کی مارکیٹ میں ساکھ کیسی ہے اور اُس کا ڈیلیوری پورٹ فولیو وسیع ہے کہ نہیں۔

غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز

مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا سب سے بڑا المیہ غیر رجسٹرڈ پراپرٹی ڈیلرز کا ہونا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں سند یافتہ کاروبار کا رواج نہیں اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں داخلے کیلئے تاحال آپ کو کسی قانونی تقاضے کو پورا نہیں کرنا ہوتا۔ ایسے میں آپ کو ہر جگہ ایجنٹوں کی بھرمار نظر آتی ہے، آپ کو آئے روز ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ایسے کئی لوگ اپروچ کرتے ہیں جو کہ یہ کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ وہ پراپرٹی ڈیلر ہیں اور آپ کو فائلوں کے نئے اور پُرانے ریٹس کے نرغے میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے لیے آپ کو سب سے پہلے تو یہ اپنے ساتھ طے کرلینا ہے کہ آپ کو کسی بھی ایسے ریئل اسٹیٹ ڈیلر پر بھروسہ نہیں کرنا جس کا تعلق کسی مصدقہ ریئل اسٹیٹ ادارے کے ساتھ نہ ہو۔ گرانہ ڈاٹ کام پر آپ کو قانونی طریقہء کاروبار کا ایک ایسا اسٹینڈرڈ ملتا ہے جس کی نظیر اور کہیں نہیں ملتی۔ آپ ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی بات کریں یا پھر معیاری اور بروقت ڈیلور کردہ ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کا ذکر کریں، آپ کو گرانہ ڈاٹ کام مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ہر مسئلے کا حل دکھائی دیتا ہے۔ یاد رہے کہ گرانہ ڈاٹ کام وہ پہلا برانڈ ہے جس نے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں باقاعدہ تعلیم کی بنیاد رکھی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے ساتھ باقاعدہ ریئل اسٹیٹ سرٹیفیکیشن کا آغاز ہو یا یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب (یو سی پی) کی شراکت سے پہلی بی ایس ڈگری پروگرام کا انعقاد ہو، گرانہ ڈاٹ کام نے ثابت کیا کہ وہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں صاف، شفاف اور منصفانہ کاروبار کا داعی ہے۔

جعلی دستاویزات

جہاں بات ہورہی ہے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں فراڈ پر مبنی طریقِ کاروبار کی تو وہاں جعلی دستاویزات کا ذکر کیسے نہ کیا جائے۔ یہی وہ دستاویزات ہیں جو کہ جعلی پراجیکٹس کی فروخت کا باعث بنتی ہیں۔ پراپرٹی ٹرانسفر کے معاملے میں دیکھنا ہوتا ہے کہ اگلی پارٹی نے آپ کو اوریجنل دستاویزات دی ہیں کہ نہیں۔ فیک ڈاکومنٹیشن کا یہ مرحلہ کسی بھی تجربہ کار وکیل کے ذریعے گزارا جاسکتا ہے جسے پراپرٹی کے معاملات کی خوب سمجھ ہو۔ یہ بات انتہائی غور طلب اُن لوگوں کے لیے ہے جو کہ پہلی پہلی بار پراپرٹی ڈیلنگ کے مرحلے سے گزر رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ وہ لوگ لیگل ٹرانسفر کے معاملات کا بیک گراؤنڈ اور اس کے پیچھے کار فرما سائنس کی مکمل آگاہی حاصل کریں اور پھر ہی یہ مرحلہ طے کریں۔ کبھی بھی کسی ایسے ڈاکومنٹ پر دستخط نہ کریں جو کہ دیکھنے میں ہی اپنے حقیقی ہونے کا احساس نہ دلائے۔

invest with imarat Islamabad’s emerging city
centre
Learn More
Scroll to Top
Scroll to Top