سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کی شہری ترقی میں اہمیت

پاکستان نے گذشتہ مالی سال کے دوران آئی ٹی برآمدات میں 23 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب ڈالر زیادہ کمائے ہیں۔ اس اضافے سے مطمئن ہو کر وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے سال2023 میں آئی ٹی برآمدات کا ہدف پانچ ارب ڈالرز مقرر کیا ہے۔

اس ہدف کے حصول اور سافٹ ویئر پارکس کی کامیابی کے لیے پرکشش مراعات کا اعلان کیا گیا ہے جن میں انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، جنرل سیلز ٹیکس کسٹم اور منافع سمیت دیگرکئی ٹیکسوں میں دس سال کی چھوٹ شامل ہے۔

اب تک فعال ہونے والے 15 سافٹ وئیر پارکس میں 100 سے زائد آئی ٹی کمپنیاں کام کررہی ہیں اور ان کے ساتھ براہ راست دس ہزار افراد روزگار سے منسلک ہیں۔

ملک میں آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کے پیش نظر سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کیے جا رہے ہیں۔ غیر استعمال شدہ عمارتوں کو جدید آئی ٹی پارکس میں تبدیل کرنے پر بھی حکومت کی جانب سے کوششیں جاری ہیں۔ علاوہ ازیں مختلف یونیورسٹیوں میں بھی آئی ٹی پارک قائم کیے جا رہے ہیں۔

وفاقی حکومت نے آئی ٹی مصنوعات اور ان کی برآمدات میں اضافے کے لیے فوری طور پر اسلام آباد، لاہور، کوئٹہ، گوادر، فیصل آباد، بنوں، سوات، مردان، سکھر اور حیدرآباد سمیت ملک کے کئی شہروں میں نئے ’سافٹ ویئر پارکس‘ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکومت اگلے دو سال تک پاکستان میں 25 نئے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے اشتراک سے امارات گروپ آف کمپنیز کے زیرانتظام ایمزون بزنس سینٹر پر 44 ہزار مربع فٹ رقبے پر محیط سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کا افتتاح کر دیا گیا ہے۔

وزارت انفارمیشن تیکنالوجی کا کہنا ہے کہ ایمیزون مال اور ستارہ کمیکلز ٹیکنالوجی پارکس کے قیام میں حکومت وسیع تعاون فراہم کریں گے اور کئی ملین ڈالرزکی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ بلاشبہ ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے آئی ٹی ماہرین اور تربیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی کا معیار بہتر بنانے میں مدد ملے گی اور غیرملکی سرمایہ کاری کے علاوہ روزگار کے وسیع مواقع بھی فراہم ہوں گے۔

پاکستان میں مجموعی طور پر 16 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس موجود

اس وقت پاکستان میں مجموعی طور پر 16 سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس موجود ہیں جن میں چار اسلام آباد، دو راولپنڈی، آٹھ لاہور، ایک کراچی اور ایک گلگت میں قائم ہے۔ پچیس نئے پارکس کی تکمیل کے بعد آئندہ دو برسوں میں ان کی تعداد 40 ہو جائے گی۔

کوئٹہ میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک قائم کردیا گیا ہے۔ کوئٹہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع سافٹ ویئر پارک 13 ہزار 800 مربع فٹ جگہ پر مشتمل اور جدید سازوسامان اور سہولیات سے آراستہ ہے.

بلاشبہ سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک کے قیام سے یہاں کے تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال نوجوانوں کو دنیا بھر میں اپنی صلاحیتیں منوانے اور پاکستان کیلئے بھاری ریونیو کے حصول کا ایک سنہری موقع حاصل ہوگا۔

ادھر کراچی سافٹ ویئر پارک کی تعمیر کے لیے ایئرپورٹ کے قریب زمین حاصل کرلی گئی ہے۔ ملک کے ہر چھوٹے بڑے شہر میں ایس ٹی پیز کا ایک جال بچھا دیا جائے کیونکہ ڈیجیٹل ورلڈ کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے نیٹ ورک میں توسیع کرنا لازم ہے۔

چک شہزاد آئی ٹی پارک کے قیام  کے لیے جنوبی کوریا سے نہایت آسان شرائط پر قرضہ

اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں 60 ہزارمربع میٹر کی گنجائش والے آئی ٹی پارک کے قیام سے متعلق سرکاری سطح پر کام جاری ہے۔ یہ پارک 12 منازل پرمشتمل ہوگا اور اس پارک  کے قیام کے لیے حکومت نے جنوبی کوریا سے نہایت آسان شرائط پر قرضہ حاصل کیا ہے جبکہ اس پارک کے قیام کی مجموعی لاگت کا تخمینہ 13 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

کراچی سافٹ وئیر پارک کی تعمیر کے لیے ایئرپورٹ کے قریب زمین حاصل کرلی گئی ہے۔ اس 11 منزلہ آئی ٹی پارک منصوبے پر مجموعی لاگت 31 ارب روپے سے زائد آئے گی. اس آئی ٹی پارک کا مجموعی رقبہ ایک لاکھ مربع میٹرسے زائد ہوگا۔

ایک اور ٹیکنالوجی پارک فیصل آباد میں ستارہ کیمیکل کے علی فاطمہ کالج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں قائم کیا جائے گا جس کا رقبہ 19 ہزار 500 مربع فٹ ہو گا۔

سیکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان سے 65 آئی ٹی کمپنیاں رجسٹرڈ ہیں جن میں سے 61 کمپنیاں کوئٹہ میں قائم ہیں، ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے مزید کمپنیوں کی نہ صرف رجسٹریشن ہوسکے گی بلکہ اس سے ہزاروں نوجوانوں کو باعزت روزگار بھی میسر آئے گا۔

امارات گروپ  ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے پُر عزم

امارات گروپ آف کمپنیز کے چیئرمین اور گرانہ ڈاٹ کام کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شفیق اکبر کا ایمزون مال کو حکومت کی جانب سے سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس قرار دیے جانے کے حوالے سے کہنا ہے کہ پاکستان ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی یافتہ ممالک کی مہارتوں سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کر سکتا ہے کیونکہ آگے تمام کاروباری سرگرمیوں کا مستقبل انفارمیشن ٹیکنالوجی پر منحصر ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کہ ان سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کے قیام سے آئی ٹی ماہرین اور تر بیت یافتہ افرادی قوت کے ساتھ ساتھ نہ صرف سافٹ ویئر ٹیکنالوجی کے معیار کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی بلکہ غیر مکی سرمایه کاری کیلئے نئی راہیں ہموار ہونے کے ساتھ روزگار کے بھی وسیع مواقع فراہم ہوں گے۔ گزشتہ ایک  دو سال کے دوران پاکستان نے  اس شعبہ میں نمایاں ترقی کی ہے، پاکستان کی سافٹ ویئر کی برآمدات میں 47 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

گروپ ڈائریکٹر فرحان جاوید اس حوالے سے کہتے ہیں کہ کہ پاکستان میں آئی ٹی سیکٹر تیزی سے فروغ پا رہا ہے جس کا ثبوت آئی ٹی کی بڑھتی ہوئی برآمدات ہیں۔ آئی ٹی انڈسٹری کی ترقی کے پیش نظر سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارکس کا قیام پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کا ایک ترقی پسند اقدام ہے۔

ان کے مطابق آئی ٹی برآمدات میں اضافہ ‏ڈیجیٹل پاکستان ویژن کی جانب اہم قدم ہے اور آئی ٹی واحد شعبہ ہے جہاں باعزت روزگار کے مواقع ‏بے شمار اور آمدنی لامحدود ہے۔

نئے ٹیکنالوجی پارکس بنانے سے پانچ ہزار سے زائد آئی ٹی پروفیشنلز کو روزگار اور پرکشش آمدنی کے مواقع میسر آنے کا امکان ہے۔

آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے آئی ٹی پروفیشنلز کی تربیت انتہائی ضروری ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں آئی ٹی یونیورسٹیز کی استعداد کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ صوبائی حکومتوں اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس حوالے سے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ نئے آنے والے آئی ٹی پروفیشنلز بین الاقوامی معیار پر پورا اتر سکیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔