پراسائش رہائشی سہولیات سے آراستہ اسمارٹ اپارٹمنٹس کا بڑھتا رحجان

کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے بعد کمرشلائزیشن اور شہروں میں اراضی کے سمٹتے وسائل  کے پیشِ نظر شہری آبادکاری کے تحت عوام میں اسمارٹ اپارٹمنس یا دوسرے لفظوں میں کثیر المنزلہ عمارتوں میں پُرآسائش رہائشی سہولیات کے ساتھ دستیاب تعمیراتی منصوبوں کے رحجان میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

شہری آبادکاری وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ شہری آبادکاری سے ملک میں 2 ٹریلین ڈالر کی کاروباری سرگرمیوں کو فروغ مل سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک میں رہائشی یونٹس پر مشتمل منصوبوں کی تعمیر نا گزیر ہو چکی ہے۔

دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے جہاں انسانی ضروریات کے بنیادی وسائل میں تیزی سے کمی واقع ہو رہی ہے وہیں شہروں کے سکڑنے کی وجہ سے لوگوں کے رہنے کے لیے گھروں کی تعداد میں بھی کمی کا سامنا ہے۔

گزشتہ کچھ برسوں کے دوران گھروں کے حجم میں اختصار اسمارٹ اپارٹمنٹس کی تعمیر کے میلان میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔چھوٹے گھروں یا اسمارٹ اپارٹمنٹس کے رجحان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ دنیا بھر میں مہنگائی اور آبادی میں غیر یقینی حد تک اضافہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک میں کرہ ارض پر رہنے کے لیے جگہ کی دستیابی میں خطرناک حد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔

دنیا میں گزشتہ کچھ برسوں کے دوران اسمارٹ اپارٹمنٹس کی تعمیر کے رجحان میں اضافہ دیکھا گیا ہےاسمارٹ اپارٹمنٹس کے رجحان میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ ریئل اسٹیٹ کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں ہیں، تاہم اس کی ایک اور وجہ دنیا کے کئی ملکوں میں جگہ کی کمی بھی ہے۔

اسمارٹ اپارٹمنٹس کے بڑھتے رجحان کی وجوہات زیادہ تر معاشی ہوتی ہیں۔ اندازہ ہے کہ امریکا میں ایک عمومی گھر کی اوسط قیمت پانچ لاکھ ڈالر جبکہ کئی ریاستوں میں ساڑھے سات لاکھ ڈالر تک ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کئی ریاستوں میں کئی لوگوں کے لیے گھر خریدنا قوتِ خرید سے باہر ہوجاتا ہے۔ اسمارٹ اپارٹمنٹس اس مسئلے کا حل فراہم کرتے ہیں۔

دیگر ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی اسمارٹ اپارٹمنٹس کا رحجان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ صرف وفاقی دارلحکومت اسلام آباد اور اس سے ملحقہ علاقوں میں اس وقت 50 سے  زیادہ اسمارٹ اپارٹمنٹس کے منصوبے زیر تعمیر ہیں ۔

امارات ریزیڈینسیز کثیرالمنزلہ رہائشی منصوبہ، ایک بہترین انتخاب

حال ہی میں امارات گروپ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ ایکسپریس وے پر پُر آسائش کثیر المنزلہ رہائشی منصوبے امارات ریزیڈینسیز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

امارات ریزیڈنسز کا قیام امارات بزنس ڈسٹرکٹ میں کیا جارہا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ منصوبہ کمرشل اور ریزیڈینشل پراسپیکٹس کا ایک بہترین امتزاج ہوگا۔

یہ منصوبہ شہر کے دیگر رہائشی منصوبوں سے منفرد ہے چونکہ یہ منصوبہ بزنس سینٹرز کی قربت میں واقع ہے یہاں کے رہائشیوں کو ضروریاتِ زندگی کی تمام سہولیات ایک ہی احاطے میں دستیاب ہوں گی۔

امارات ریزیڈنسزوفاقی دارلحکومت میں ایکسپریس وے پر امارات گروپ کے زیر انتظام بزنس ڈسٹرکٹ میں ایک لگثری اور پُرآسائش سہولیات سے آراستہ بنیادی طور پر کثیر المنزلہ رہائشی منصوبہ ہے۔ جہاں کاروباری مواقع کے لیے دفاتر اور تمام ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے منصوبے کا ایک حصہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔

امارات ریزیڈنسز1،2 اور 3 بیڈز کے علاوہ اسٹوڈیو اپارٹمنٹس پر مشتمل رہائشی منصوبہ ہے جس میں تمام بنیادی سہولیات جیسے پارکنگ، رہائشیوں کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کا مربوط نظام، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے جنریٹر کی سہولت، پارک، اعلیٰ معیار کے جم سمیت دیگر پُرآسائش زندگی کی تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

گالفرز پیراڈائز اور قدرتی نروانہ، گالف فلوراز

اسی طرح ایک اور مُلکی ریئل اسٹیٹ کے سب سے بڑے اور لگژری گالف فلوراز کی تعمیر کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ قدرتی نظاروں اور جدید آسائشوں کے اس امتزاج، جِسے گالفرز پیراڈائز اور قدرتی نروانہ بھی کہا جاتا ہے، میں 523 ہائی اینڈ کنڈومینیمز ہیں جو کہ اسے جڑواں شہروں کی سب سے بہترین ریزورٹ لیونگ کمیونیٹی بناتا ہے۔

یہ سسٹنیبل ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ ہے جس میں سٹوڈیو، 2 اور 3 بیڈروم اپارٹمنٹس ہیں اور یہ گارڈن سٹی بحریہ ٹاؤن کی شاندار لوکیشن پر واقع ہے۔ اس تک ڈی ايچ اے، بحریہ ٹاؤن فیز فائیو، سیون اور ایٹ سے باآسانی پُہنچا جا سکتا ہے۔

پاکستان میں رہائشی سہولیات کی دستیابی کے حوالے سے مرتب کردہ تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں عوام کی دیہی علاقوں سے شہروں کی جانب منتقلی میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے رہائشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ حالیہ مردم شماری کے مطابق ملکی آبادی 2.9 فیصد فی برس کے اعتبار سے بڑھ کر 22 کروڑ 77 لاکھ ہوچکی ہے جبکہ شہری آبادی میں 2.7 کی شرح سے اضافہ دیکھنے میں آیا جو تقریباً 9 کروڑ 67 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے۔

بڑھتی ہوئی آبادی  اور شہروں کے سکڑنے کی وجہ سے اسمارٹ اپارٹمنٹس کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔ جو بلاشبہ رہائشی مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک بہترین حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔