پراپرٹی کی تصدیق کے جدید نظام کے باعث سمندر پار پاکستانیوں کا اعتماد بحال۔۔۔۔۔۔ مگر کیسے؟

پاکستان سمیت دنیا بھر میں ریئل اسٹیٹ انتہائی پُرتعیش اور منافع بخش کاروبار تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ نے گذشتہ چند ہی سالوں میں ناقبلِ یقین حد تک ترقی کی ہے۔

بلاشبہ ریئل اسٹیٹ شعبے میں سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کے لیے ملکی قوانین پر عملدرآمد یقینی بناتے ہوئے جہاں حکومتی ادارے اپنا کلیدی کردار ادا کر رے ہیں وہیں دوسری جانب اس حوالے سے مذکورہ شعبے سے منسلک نجی سیکٹر نے بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں ۔

گذشتہ سال پاکستان میں زرِ مبادلہ کی مد میں 33 ارب ڈالر موصول ہوئے۔ زرِ مبادلہ کے ذخائر میں حالیہ اضافے کو سامنے رکھتے ہوئے وفاقی حکومت نے سمندر پار پاکستانیوں کی ملک میں محفوظ سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے مختلف اسکیم بھی متعارف کرا رکھی ہیں  جو بہت حد تک پاکستانیوں کی ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے میں مدد گار ثابت ہو رہی ہیں۔

اپنی آج کی تحریر میں ہم اپنے قارئین کے ساتھ کچھ ایسی اہم معلومات پر تفصیلی تبادلہ خیال کرنا چاہیں گے جن کی مدد سے سمندر پار پاکستانی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور وفاقی ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے زیر انتظام علاقوں میں جاری تعمیراتی و ہاؤسنگ کے منصوبوں سمیت پلاٹس کی خریداری میں محفوظ سرمایہ کاری کر سکتے ییں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے حال ہی میں پراپرٹی کی تصدیق کا ایک ایسا نظام متعارف کروایا ہے جس کی مدد سے سمندر پار پاکستانی جو دنیا کے کسی بھی حصے میں آباد ہوں، اِس ںطام کی مدد سے صرف چند آسان مراحل کے بعد آن لائن پراپرٹی کی تصدیق سے متعلق درست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ بلاشبہ حکومتی اقدام کے باعث پراپرٹی کی خرید و فروخت میں بہت حد تک فراڈ اور مالی بدعنوانیوں کی روک تھام میں نمایاں کمی واقع ہو گی۔

گذشتہ ایک ماہ کے دوران 650 سے زائد سمندر پار پاکستانیوں نے پراپرٹی کی تصدیق کے نظام سے استفادہ کیا

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پراپرٹی کی تصیق کے متعارف کردہ نظام کے تحت ابھی تک 650 سے زائد بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے ہاؤسنگ سوسائٹیز سمیت رہائشی اور کمرشل نوعیت کے پلاٹس کی تصدیق کے حوالے سے آن لائن استفادہ کیا۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے مطابق مستفید ہونے والے 85 فیصد افراد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور سی ڈی اے کے زیر انتظام علاقوں میں تعمیراتی اور ہاؤسنگ کے منصوبوں میں جن پلاٹس کی تصدیق کے لیے ڈیجیٹلی معلومات حاصل کیں ان میں سے زیادہ تر پلاٹس یا تو غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی میں تھے یا پھر ان پراپرٹیز کے کاغذات قانونی لحاظ سے غیر تسلی بخش قرار پائے۔ دوسرے لفظوں میں پراپرٹی کی تصدیق کے جدید نظام کے باعث سمندر پار پاکستانی فراڈ اور مشکوک منصوبوں میں سرمایہ کاری سے بچ گئے۔

اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے زیر انتظام پراپرٹی کی تصدیق کے اس نظام کے تحت کوئی بھی شہری یا سمندر پار پاکستانی جو اسلام آباد یا اس سے ملحقہ آبادیوں میں زیر تعمیر یا مجوزہ رہائشی منصوبوں میں پلاٹس اور گھر سمیت کسی بھی کمرشل پراپرٹی کی خرید و فروخت کے لیے ڈیجیٹل نظام کے تحت تمام مطلوبہ اور دستیاب تفصیلات کے ساتھ آن لائن درخواست جمع کروائے گا جو کہ چند ہی سیکنڈز میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) آفس میں موصول ہو جائے گی۔ ڈی سی آفس اس درخواست پر فوری عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے پراپرٹی سے متعلق مطلوبہ معلومات 24 گھنٹوں کے اندر درخواست گزار کو ای میل کے ذریعے فراہم کرنے کا پابند ہے۔

غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی تشہیر ممنوع قرار

ریئل اسٹیٹ کے منافع بخش اور پُر کشش کاروبار کے بڑھتے رحجان کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں فراڈ اور مالی بدعنوانیوں کے معاملات کو بھی کسی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام آباد میں ایسی بہت سی ہاؤسنگ سوسائٹیز ہیں جو یا تو وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے سے منظور شدہ نہیں ہیں یا پھر اِن تعمیراتی منصوبوں کے پاس سرکاری محکموں سے مختلف شعبوں میں 14 کے قریب این او سیز کا عدم حصول اور اسی طرح کچھ تو ہاؤسنگ سوسائٹیز ایسی ہیں جو اسلام آباد کی حدود میں آتی بھی نہیں ہیں لیکن مالکان پلاٹس کے اچھے ریٹس کے لیے ان سوسائٹیز کی تشہیر اسلام آباد کی حدود میں کرتے نظر آتے ہیں۔

اب ڈپٹی کمشنر آفس اسلام آباد نے وفاقی دارالحکومت سمیت اس سے ملحقہ آبادیوں میں ہاؤسنگ سوسائٹیز اور دیگر تعمیراتی منصوبوں کی تمام تر تفصیلات کی تصدیق کے بعد ان کا ایک ڈیٹا بیس تیار کر لیا ہے۔ لہذا پراپرٹی کی تصدیق کے جدید نظام کے بعد اب ڈپٹی کمشنر آفس فراڈ اور مالی بدعنوانی میں ملوث سوسائٹی کے مالکان کے خلاف براہ راست کاروائی کا بھی مجاز ٹھہرا دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے اشتہار پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے یہاں تک کہ کوئی بھی غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹی یا تعمیراتی منصوبہ جو کہ سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کی اشتہار بازی کرے گا، جرم کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا۔

ڈپٹی کمشنر آفس میں دستیاب تفصیلات کے مطابق اب تک اسلام آباد اور اس سے ملحقہ آبادیوں میں 150 سے زائد غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کی نشاندہی کے بعد ان کے خلاف مختلف قانون نافذ کرنے والے اداروں میں کاروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے جبکہ سینکڑوں غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ پلازوں کو سیل کر دیا گیا ہے۔

سمندر پار پاکستانی محفوظ سرمایہ کاری کیسے یقینی بنائیں

دنیا بھر میں مقیم لاکھوں کی تعداد میں پاکستانی شہری وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں زیر تعمیر ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتے ہیں اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ جہاں وہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہاں انہیں محفوظ مواقعوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ سمندر پاس پاکستانی اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کے پورٹل پر جا کر اپنے قومی شناختی کارڈ کے ذریعے رجسٹرڈ ہونے کے بعد خریدی جانے والی پراپرٹی، گھر اور پلاٹ کی تمام تر مطلوبہ تفصیلات وہاں پورٹل پر فراہم کریں گے۔

تمام تر تفصیلات کی ایک خود کار نظام کے تحت مکمل چھان بین کے بعد 24 گھنٹوں کے اندر ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے درخواست گزار کو مطلوبہ پراپرٹی کی قانونی حیثیت سے متعلق آگاہ کر دیا جائے گا۔ یوں کہہ لیجیے کہ برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی اسلام آباد کے کسی منصوبے آشیانہ (فرضی نام) ہاؤسنگ اسکیم میں سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔ وہ اس پورٹل پر اپنے قومی شناختی کارڈ نمبر سے لاگ ان ہونے کے بعد ایک آن لائن تحریر درخواست میں پوچھے گا کہ آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت کیا ہے تو اس سوسائٹی سے متعلق تصدیق شدہ حقائق سے درخواست گزار کو ای میل کے ذریعے آگاہ کر دیا جائے گا کہ آیا یہ منصوبہ قانونی ہے یا غیر قانونی۔

یاد رہے کہ پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر شہری مجموعی طور پر 3 سے 4 ارب روپے غیر قانونی منصوبوں میں پھنسا بیٹھتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے