پاکستان کی 6 بڑی مساجد اور ان کا تاریخی پسِ منظر

پاکستان کا فنِ تعمیر دنیا بھر میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔ آج کے بلاگ میں ہم آپ کو پاکستان کی 6 بڑی مساجد کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔

یہ وہ مساجد ہیں جو ملک کا اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ملک میں بین الاقوامی سیاحت کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ آئیے آپ کو ان مساجد کے بارے میں دلچسپ تفصیلات سے آگاہ کرتے ہیں۔

فیصل مسجد، اسلام آباد

فیصل مسجد کا نام سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ فیصل بن عبدالعزیز کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس کو جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی مسجد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ یہ دنیا کی چوتھی بڑی مسجد ہے۔

فیصل مسجد اسلام آباد آنے والے سیاحوں کے لیے ایک بہترین سیاحتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ اس کا خوبصورت فنِ تعمیر انتہائی پُرکشش ہونے کے باعث اپنی مثال آپ ہے۔ عیدین کے تہواروں پر بالخصوص جب فیصل مسجد نمازیوں سے کھچا کھچ بھری ہوتی ہے اور نمازی رب کے آگے سربسجود ہوتے ہیں تو یہ منظر انتہائی پُرنور اور آنکھوں کو بھلا لگتا ہے۔

فیصل مسجد کے ڈیزائن کی تیاری کی تاریخ بھی اس کے فنِ تعمیر کی طرح نہایت دلچسپ ہے۔ اس کے ڈیزائن کی تیاری کے لیے 17 ممالک کی جانب سے 43 ڈیزائن بھیجے گئے۔ ان ڈیزائنز میں سے ترکی سے تعلق رکھنے والے آرکیٹیکٹ ویدت دلوکے کا ڈیزائن منتخب کیا گیا۔

فیصل مسجد کا فنِ تعمیر جدید اور روایتی فنِ تعمیر کا حسین امتزاج ہے۔ اس کے چار خوبصورت مینار ہیں جو ترکی کے فنِ تعمیر سے مماثلت رکھتے ہیں۔ مسجد کا احاطہ نہایت کشادہ ہے اور اسے ماربل سے تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کی منفرد بات یہ ہے کہ روایتی مساجد کی طرح اس کا گنبد نہیں ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے میں ترکش ڈیزائن کا فانوس نہایت دیدہ زیب لگتا ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے کو نہایت دلچسپ ڈیزائنز سے مزین کیا گیا ہے۔

فیصل مسجد میں ایک لاکھ افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ موجود ہے۔ مسجد کے ملحقہ گراؤنڈز کو بھی شامل کریں تو 2 لاکھ افراد بیک وقت نماز کی ادائیگی کر سکتے ہیں۔

Faisal Masjid

بادشاہی مسجد، لاہور

اگر آہ مغلیہ دور کی تاریخ سے دلچسپی رکھتے ہیں اور من میں ایسی خواہش رکھتے ہیں کہ کاش اس دور میں بھی کچھ لمحات گزارے جائیں تو بادشاہی مسجد کا رخ ضرور کیجیے۔ یہ وہ تاریخی مسجد ہے جس میں قدم رکھنے والا اس کے سحر میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ یہ پاکستان کی دوسری بڑی مسجد ہے اور اپنے اندر بیک وقت ایک لاکھ افراد کو سما سکتی ہے۔ یہ مسجد شاہی قلعہ لاہور کے بغل میں تعمیر کی گئی تھی۔ اُس دور میں چونکہ مسجد کی شمال کی جانب سے درائے راوی کا گزر ہوتا تھا اس لیے اس کو زمین کی بلند سطح پر تعمیر کیا گیا تھا تاکہ اسے ممکنہ سیلابی صورتحال سے بچایا جا سکے۔ عالمگیری دروازہ مسجد کو قلعے کے ساتھ جوڑتا ہے۔

بادشاہی مسجد کا فنِ تعمیر مغلیہ فنِ تعمیر کا بہترین نمونہ ہے اور اس دور کی چند نشانیوں میں سے ایک خوبصورت نشانی ہے۔ یہ لاہور کے مشہور ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

مسجد کے ہال کے اردگرد چار مینار ہیں اور اس کے کشادہ دالان کے اردگرد چار اضافی مینار ہیں جو اس کی خوبصورتی میں چار چاند لگانے کا باعث بنتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں اور چھت کو دلکش پتھروں سے مزین کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ماربل سے بھی انتہائی مہارت سے مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کی دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار اس کی جمالیاتی کشش میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

بادشاہی مسجد سیاحوں کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس کی حدود میں کشادہ باغ، فوارے، حضوری باغ بارہ دری، علامہ محمد اقبال کا مزار، برطانوی دور کا روشنائی گیٹ، سر سکندر حیات خان کا مزار اور ایک میوزیم موجود ہے جس میں قیمتی اسلامی نوادرات محفوظ ہیں۔

Badshahi masjid

گرینڈ جامع مسجد، لاہور

گرینڈ جامع مسجد لاہور کا شمار بھی پاکستان کی چند بڑی مساجد میں ہوتا ہے۔ یہ بحریہ ٹاؤن لاہور میں واقع ہے اور سیاحوں کی دلچسپی کا باعث بنتی ہے۔ جدید اور روایتی فنِ تعمیر کا خوبصورت امتزاج یہ مسجد دنیا کی ساتویں بڑی مسجد ہے۔ مسجد کے ہال اور اس سے ملحقہ احاطے میں تقریباً ایک لاکھ افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کا سب سے بڑا گنبد 40 فٹ اونچا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد کے 20 چھوٹے گنبد ہیں اور اور چار مینار ہیں جن کی بلندی 165 فُٹ ہے۔ مسجد کی عمارت کا بیرونی حصہ بھی خوبصورتی کے لحاظ سے نہایت منفرد ہے۔ گرینڈ جامع مسجد کے اندرونی حصے کو ہاتھ سے بنے ترکش قالینوں سے مزین کیا گیا ہے۔ پُرکشش ایرانی فانوس اندرونی حصے کی خوبصورتی میں بلا کا اضافہ کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسجد کے اندرونی حصے کو ایرانی، وسطی ایشیائی، عربی اور ترکش ڈیزائنز سے مزین کیا گیا ہے۔

مسجد کے بیرونی حصے کی تعمیر خاص مٹی کے ہاتھ سے تیار کردہ ٹائلز سے کی گئی ہے۔ مسجد کی بیرونی دیوار پر ڈھائی انچ کے سائز کی ہر ٹائل نہایت نفاست سے ہاتھ سے رکھی گئی ہے۔ مسجد کی حدود میں ایک شاندار آرٹ گیلری اور مدرسہ بھی تعمیر کیا گیا ہے۔ لاہور کے مشہور آرکیٹیکٹ نیر علی دادا اور ایسوسی ایٹس نے مسجد کا ڈیزائن تیار کیا۔

Grand jam i masjid lahore

شاہ جہاں مسجد، ٹھٹھہ

صوبہ سندھ کا ضلع ٹھٹھہ زمانہ قدیم میں سندھ کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ شاہ جہاں مسجد بھی ٹھٹھہ میں واقع ہے۔ یہ مسجد مغل بادشاہ شاہ جہاں نے سندھ کے عوام کے خلوص اور مہمان نوازی سے متاثر ہو کر 1640ء میں تعمیر کروائی تھی۔

ضلع ٹھٹھہ کی سڑکیں اور عمارات عدم توجہی کے باعث بدحالی کا شکار ہیں لیکن شاہ جہاں مسجد آج بھی بہتر حالت میں موجود ہے۔

مسجد کی عمارت پتھر کی بنیادوں پر تعمیر کی گئی ہے۔ مسجد کا بیرونی حصہ سرخ اینٹوں کے ساتھ ساتھ نیلے اور سفید رنگ کی ٹائلز سے مزین کیا گیا ہے۔  روایتی مساجد کے برعکس اس مسجد کا کوئی مینار نہیں ہے لیکن اس کے 33 محراب اور 93 گنبد ہیں۔ پاکستان میں کسی بھی مسجد کے یہ سب سے زیادہ گنبد ہیں۔ اس مسجد کا فنِ تعمیر اس لحاظ سے بھی نہایت منفرد ہے کہ مسجد کے ایک حصے میں دی جانے والی اذان مسجد کے دوسرے حصے میں باآوازِ بلند سنی جا سکتی ہے۔ مسجد میں بیک وقت 20 ہزار افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ موجود ہے۔

shah jahan masjid

مسجدِ طوبیٰ، کراچی

مسجدِ طوبیٰ اپنے منفرد فنِ تعمیر کے باعث گول مسجد بھی کہلاتی ہے۔ یہ ڈی ایچ اے فیز 2، کراچی میں واقع ہے۔ یہ مسجد 1969ء میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی واحد گنبد والی مسجد ہے۔ یہ ایک انتہائی بڑے سائز کے واحد گنبد والی مسجد ہے۔ ڈاکٹر بابر حامد چوہان اور ظہیر حیدر نقوی وہ ماہرِ آرکیٹیکٹ ہیں جنہوں نے مسجدِ طوبیٰ کا ڈیزائن تیار کیا تھا۔

مسجدِ طوبیٰ کے واحد گنبد کا ڈائمیٹر 212 فُٹ اور لمبائی 5148 فُٹ ہے۔ اس مسجد کا صرف ایک مینار ہے جو 120 فُٹ اونچا ہے۔ مسجد کا بیرونی حصہ سفید ماربل سے تعمیر کیا گیا ہے۔ مسجد کے اندرونی حصے کو شیشے اور سنگِ سلیمانی سے انتہائی خوبصورت انداز میں مزین کیا گیا ہے۔ مسجد کے مرکزی ہال میں بیک وقت 5 ہزار افراد نماز ادا کر سکتے ہیں۔ مسجد کے بیرونی حصے یعنی ٹیرس اور لان میں 25 ہزار اضافی افراد کے نماز پڑھنے کی جگہ موجود ہے۔

masjid e tooba

محبت خان مسجد، پشاور

خیبرپختونخواہ کے دل اور دارالحکومت پشاور میں تعمیر شدہ یہ مسجد بھی مغلیہ دور کے فنِ تعمیر کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس مسجد کا نام مغلیہ دور میں پشاور کے گورنر نواب محبت خان کے نام پر رکھا گیا تھا۔ نواب محبت خان مغل بادشاہ شاہ جہاں اور ان کے بیٹے اورنگزیب عالمگیر کے دورِ حکومت میں پشاور کے گورنر رہے۔

خیبر پختونخواہ آنے والے سیاحوں کے لیے یہ مسجد خوبصورت سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ مسجد کے اندر اور بیرونی احاطے میں تقریباً 14 ہزار افراد بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔

سن 1630ء میں تعمیر کی گئی اس مسجد میں ایک بڑا مرکزی ہال ہے جہاں نماز کی ادائیگی خشوع و خضوع کے ساتھ کی جاتی ہے۔ مسجد کے پانچ داخلی دروازے ہیں اور تین گنبد ہیں۔ مسجد کے چھ چھوٹے مینار ہیں جو مرکزی ہال کے اوپر تعمیر کیے گئے ہیں۔ اس کے دو بلند مینار ہیں جو دائیں اور بائیں جانب تعمیر کیے گئے ہیں۔ مسجد کی اندرونی چھت خوبصورت نقش و نگار سے مزین کی گئی ہے۔ اس کا بیرونی حصہ انتہائی نفیس سفید ماربل سے تعمیر کیا گیا ہے۔

محبت خان مسجد کا احاطہ نہات وسیع ہے جس کے عین درمیان میں پانی کا تالاب بھی موجود ہے جو اس کو مزید جاذبِ نظر بنا دیتا ہے۔ احاطے کے اطراف کمرے بھی تعمیر کیے گئے ہیں۔

masjid e tooba

تاریخی اثاثوں کی بدولت سیاحت کا فروغ

مندرجہ بالا مساجد نہ صرف ملک کا اثاثہ ہیں بلکہ ان کی قیمتی تاریخی حیثیت ملک میں ملکی و غیرملکی سیاحت کے فروغ کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ سیاحت کا فروغ نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گا بلکہ پاکستان کا امیج پوری دنیا میں اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

اگر ہم ترقی یافتہ ممالک پر غور کریں تو وہ اپنے سیاحتی مقامات کی زبردست تشہیر کرتے ہیں جو سیاحوں کی دلچسپی ان ممالک میں بڑھانے کا باعث بنتی ہے اور وہ وہاں کا رخ کرتے ہیں۔ ایسے ممالک کو اپنے سیاحتی مقامات کی مارکیٹنگ کرنا بخوبی آتا ہے۔ پاکستان اسے لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔ اس مقصد کے لیے سرکاری اور نجی سطح پر ہمارے سیاحتی مقامات پر مبنی ڈاکمینٹریز، وی لاگز اور فلمیں بنائی جانی چاہیئیں اور ان کی پوری دنیا میں بھرپور انداز میں تشہیر کی جانی چاہیے۔

کسی بھی ملک کی بین الاقوامی سطح پر شناخت اس کی فلمیں ہوا کرتی ہیں۔ پوری دنیا ان فلموں کی بنیاد پر ہی اس ملک کو اچھا یا برا گردانتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پڑوسی ملک بھارت میں بین الاقوامی سیاح بڑی تعداد میں جاتے ہیں کیونکہ ان کی فلموں نے بین الاقوامی سطح پر ان کے ملک کا امیج بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ملک کے مختلف مقامات پر فلموں کی شوٹنگ ان سیاحتی مقامات کی تشہیر کا باعث بنتی ہے جو دنیا کے مختلف ممالک کے سیاحوں کی توجہ مبذول کرانے کا باعث بنتی ہے۔

آج کے بلاگ میں جن مساجد کا ذکر کیا گیا، اگر ان کی تاریخ، فنِ تعمیر اور خوبصورتی پر بھی ڈکیومینٹریز بنانے کا سلسلہ شروع کیا جائے تو اس سے نہ صرف سیاح پاکستان آئیں گے بلکہ ان کی دلچسپی ملک کے دیگر تاریخی سیاحتی مقامات میں بھی بڑھے گی۔ اس سے نہ صرف ملک کے زرِ مبادلہ میں اضافہ ہو گا بلکہ ملکی معیشت کو بھی استحکام ملے گا۔ ملک ترقی کی جانب گامزن ہو گا اور پوری دنیا میں پاکستان کو مزید تکریم و عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔