لاہور کے 13 دروازے اور ان کی تاریخ

شہرِ لاہور ایک تاریخی شہر ہے جو صدیوں پہلے دریائے راوی کے کنارے تعمیر کیا گیا۔ آج ہم اس کے 13 تاریخی دروازوں سے متعلق آپ کو اہم معلومات فراہم کریں گے۔

لاہور جو کہ پنجاب کی ثقافت کے مختلف رنگ لیے اپنی مثال آپ ہے، تاریخی حوالے سے بھی اپنی ایک خاص حیثیت رکھتا ہے۔ کھانے، موسیقی، پہناوے الغرض ہر شے میں لاہور کا اپنا ایک رنگ چھلکتا ہے۔

صدیوں پہلے شہر کی تعمیر کے بعد جب اس کو فتح کرنے کے لیے حملے شروع ہوئے تو اسے ایک اونچی دیوار پر مبنی چار دیواری سے محفوظ کر لیا گیا۔ اس چار دیواری کے 13 دروازے تھے۔

آئیے ان دروازوں کی دلچسپ تاریخ آپ کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

 بھاٹی گیٹ

یہ شہرِ لاہور کی مغربی جانب دوسرا تعمیر کیا گیا گیٹ ہے۔ اسے برطانوی دور میں مسمار کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ یہ وقت گزرنے کے ساتھ کاروبار کا مرکز بھی بن گیا۔

بھاٹی گیٹ کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ بڑھتی آبادی کی وجہ سے بھاٹی گیٹ کے اندر کی ثقافت بھی بدل چکی ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ ایک دوسرے کو جانتے تھے اور گھل مل کر رہنے کو ترجیح دیتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جینے کے طور طریقے بھی بدلتے گئے اور اب لوگ اپنی زندگی کو رازداری کے ساتھ جینا پسند کرتے ہیں اور گھل مل کر رہنے کی قدیمی ثقافت معدوم ہو چکی ہے۔

Bhaati gate lahore

ٹیکسالی گیٹ

یہ لاہور کی مشہورِ زمانہ گوالمنڈی اور فوڈ اسٹریٹ کے قریب واقع تھا۔ وہ فوڈ اسٹریٹ جو اپنے روایتی کھانوں کی وجہ سے ایک بہترین سیاحتی مقام سمجھی جاتی ہے، جہاں نسل در نسل ایک سے بڑھ کر ایک ترکیبوں پر مشتمل لذیذ کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔

کھابوں کے ساتھ ساتھ ٹیکسالی گیٹ کے اندر برِ صغیر کے مشہورِ زمانہ موسیقار اور مدُھر آوازوں کے مالک گلوکار بھی رہائش پذیر ہوا کرتے تھے۔ برطانوی دور میں اس گیٹ کو توڑ دیا گیا اور اس کے بعد دوبارہ اس کی  کبھی تعمیر نہ ہو سکی۔

موری گیٹ

موری گیٹ شہر کے جنوب میں واقع تھا۔ اس کو بھی برطانوی دورِ حکومت میں مسمار کیا گیا اور اس کے بعد دوبارہ کبھی اس کی تعمیر نہ ہو سکی۔ یوں یہ ثقافتی ورثہ ماضی کے جھروکوں میں ہی رہ گیا۔ موری گیٹ کی جگہ پر اس وقت لاہور کی سب سے بڑی مچھلی منڈی موجود ہے۔

Moori gate

لاہوری گیٹ

یہ گیٹ اب بھی قائم ہے اور اسے مغل بادشاہ اکبر نے تعمیر کروایا تھا۔ یہ انارکلی بازار کے سامنے قائم ہے۔ یہ اس دور سے لیکر اب تک تجارتی مرکز سمجھا اور مانا جاتا ہے۔

کسی زمانے میں لاہوری گیٹ کے اندر موجود عظیم الشان حویلیوں میں شہر کی مشہورِ زمانہ رقاصائیں رہائش پذیر ہوا کرتی تھیں۔ آج بھی اس دور کی حویلیوں میں سے چند حویلیاں موجود ہیں جو اس دور کی ثقافت کی عکاسی کرتی ہیں۔

یہ علاقہ اُس دور میں برِصغیر کی سب سے بڑی بین الاقوامی منڈی کے طور پر جانا جاتا تھا۔

Lahori gate

شاہ عالم گیٹ

سن 1946ء میں تقسیم سے قبل کے فسادات میں شاہ عالم گیٹ کو جلا دیا گیا تھا۔ یہ جگہ بھی کسی زمانے میں تجارت اور کاروبار کا مرکز سمجھی جاتی تھی۔ آج بھی یہاں کی ہول سیل مارکیٹ کا شمار ایشیا کی بڑی ہول سیل مارکیٹوں میں ہوتا ہے۔

سن 1957ء میں لاہور انتظامیہ کی جانب سے شاہ عالم گیٹ کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا ارادہ کیا گیا لیکن یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ لاہور کے رہائشی اس جگہ کو اب شاہ عالمی کے نام سے پکارتے ہیں۔

موچی گیٹ

موچی گیٹ تاریخی اعتبار سے انتہائی دلچسپ ہے۔ یہ جگہ کسی زمانے میں شہر کی آرڈینینس فیکٹری کی طور پر استعمال ہوا کرتی تھی۔ یہاں پر اُس دور کا جنگی ساز و سامان تیار ہوا کرتا تھا جیسے کہ تلواریں، نیزے اور تیر کمان وغیرہ۔ موچی گیٹ کو بھی انگریزوں کی جانب سے تباہ کیا گیا۔ اب موچی گیٹ کی جگہ پر موجود دکانیں موجود ہیں جہاں ڈرائی فروٹ، آتش بازی اور دیگر ساز و سامان بیچا جاتا ہے۔

اکبری گیٹ

اکبری گیٹ لاہور کے مشہور دروازوں میں سے ایک دروازہ تھا۔ اس مقام سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے مرچوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کیا تھا۔ مغل دور میں یہاں پر مرچوں کی بہت بڑی منڈی ہوا کرتی تھی۔ آج بھی یہ جگہ مرچوں اور دالوں کی خرید و فروخت کی بڑی منڈی سمجھی جاتی ہے۔ یہ گیٹ بھی برطانوی دورِ حکومت میں تباہ کر دیا گیا تھا۔

دہلی گیٹ

دہلی گیٹ بھی لاہور کے مشہور دروازوں میں سے ایک ہے اور یہ شہر کی مشرقی جانب واقع ہے۔ یہ بھارت کے وفاقی دارالحکومت دہلی کی جانب کُھلتا ہے جو مغلیہ دورِ حکومت میں بھی دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے یہ گیٹ رات کے وقت روشن کیا جاتا ہے جو دیکھنے والوں پر سحر طاری کر دیتا ہے۔

Dehli gate

کشمیری گیٹ

کشمیری گیٹ لاہور شہر کی شان و شوکت بڑھانے میں منفرد مقام رکھتا ہے۔ اس کا رخ وادی کشمیر کی جانب ہے اسی وجہ سے اس کا نام کشمیری گیٹ رکھا گیا تھا۔ یہاں ایشیا کی چند بڑی مارکیٹوں میں سے ایک کپڑے کی مارکیٹ موجود ہے جسے اعظم کلاتھ مارکیٹ کہا جاتا ہے۔ اصل کشمیری گیٹ برطانوی حکومت کی جانب سے مسمار کر دیا گیا تھا جس کے بعد اس کی تعمیرِ نو کی گئی۔ کشمیری گیٹ کی کئی مرتبہ تزئین و آرائش بھی کی جا چکی ہے۔

یکی گیٹ

یہ گیٹ شہر کی مشرقی جانب واقع تھا۔ اس گیٹ کے نام کی منفرد تاریخ ہے۔ اس گیٹ کے نام کی داستان ذکی نامی فوجی سے منسوب ہے۔ ذکی نامی فوجی نے شمال کی جانب سے حملہ کرنے والے مغلوں سے بھرپور مقابلہ کیا اور لڑائی کے دوران جان کی بازی ہار گیا۔ اس قربانی کے بعد اس گیٹ کا نام اس کے نام سے منسوب کر دیا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ نام بگڑ کر ذکی سے یکی گیٹ ہو گیا۔

یہ شہر کی مشرقی جانب واقع تھا۔ یہاں مغل درباریوں رہا کرتے تھے۔ اس مقام پر مغلیہ دور کی چند حویلیاں آج بھی موجود ہیں۔ یہ گیٹ برطانوی دورِ حکومت میں مسمار کیا گیا اور دوبارہ تعمیر نہ ہو سکا۔

خضری گیٹ یا شیراں والا گیٹ

شیراں والا گیٹ کا نام خضری گیٹ ہوا کرتا تھا جو مشہور صوفی بزرگ حضرت خواجہ خضر الیاس کے نام پر رکھا گیا تھا۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے دورِ حکومت میں شیراں والا گیٹ کے سامنے دونوں جانب پنجرے میں بند دو شیر رکھوا دیے جس کے بعد یہ گیٹ شیراں والا گیٹ کے نام سے مشہور ہو گیا۔

Sheranwala gate

مستی گیٹ

یہ گیٹ بھی لاہور کے 13 دروازوں میں سے ایک دروازہ ہوا کرتا تھا۔ اس گیٹ کا نام شاہی خدمت گار مستی بلوچ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ اس گیٹ کو بھی تباہ کر دیا گیا تھا اور اب اس کا کوئی نام و نشان نہیں۔ یہ لاہور قلعہ کے قریب واقع تھا۔ دورِ حاضر میں اس جگہ پر جوتوں کے ہول سیلرز کی دکانیں موجود ہیں۔

روشنائی گیٹ

یہ واحد گیٹ ہے جو مغلیہ دور سے لے کر اب تک اپنی اصل حالت میں قائم و دائم ہے۔ اس گیٹ کو مغلیہ دور کے معززین، دربان اور دیگر باعزت افراد کی جانب سے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس گیٹ کو 17ویں صدی میں بادشاہی مسجد کے ساتھ جوڑ دیا گیا تھا۔ یہاں شام کے وقت روشنیاں جلائی جاتی تھیں تاکہ مسلمان مسجد تک نماز کے لیے باآسانی پہنچ سکیں۔ یوں یہ روشنائی گیٹ کے نام سے مشہور ہو گیا۔ آج بھی یہ شام کے وقت جگمگ جگمگ کرتا ہے اور یہ منظر آنکھوں کو نہایت بھلا لگتا ہے۔

Roshnai gate

پاکستان کا ثقافتی ورثہ اور اس کی ترویج کی اہم ضرورت

پاکستان کا ثقافتی ورثہ انتہائی قیمتی ہے جس کو سیاحتی مقاصد کے لیے استعمال کرنا ملکی معیشت کے لیے نہایت سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔ شہرِ لاہور کے مندرجہ بالا 13 دروازوں کی تاریخ پر بھرپور تحقیق کی جا سکتی ہے اور اس پر دلچسپ فلمیں اور ڈکومینٹریز تخلیق کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ بین الاقوامی فلمسازوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جائے۔ شہرِ لاہور ویسے بھی ثقافتی ورثے کے اعتبار سے انتہائی قیمتی تاریخ کا مالک ہے۔ لاہور اپنے اندر بےشمار کہانیاں سموئے ہوئے ہے۔ اس کے چپے چپے میں کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ماہر فلمساز ان بکھری کہانیوں کو بُن کر بین الاقوامی فلم سازوں کے سامنے پیش کرے۔ ان 13 دروازوں کی تاریخ پر ہی اگر الگ الگ ڈاکومینٹری بنائی جائے تو شاید ہر دروازے کی تاریخ پر مبنی فلم یا ڈاکومینٹری ایک سے زائد اقساط پر مشتمل ہو گی۔ یوں یہ ڈاکومینٹریز اور فلمیں نہ صرف بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا مثبت امیج اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کریں گی بلکہ اس سے ملک میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ بین الاقوامی سیاحوں کے پاکستان آنے سے ملکی معیشت پر انتہائی مثبت اور سودمند نتائج مرتب ہوں گے۔

اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہماری جانب سے پہلا قدم اٹھایا جائے۔ ملک کا یہ ورثہ قیمتی اثاثہ ہے جس کی تشہیر کے لیے نہ صرف حکومت بلکہ سول سوسائٹی کو بھی بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ ملکی فلم سازوں کو چاہیے کہ اس قیمتی ورثے پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں فلمیں اور ڈاکومینٹریز بنائی جائیں جن کی رونمائی بین الاقوامی فلم فیسٹیولز میں کی جائے۔ بین الاقوامی فلم فیسٹیولز وہ فورم ہیں کہ جن کے ذریعے ملکی ثقافتی ورثے کی تشہیر بخوبی کی جا سکتی ہے۔

اس مقصد کے لیے حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پروڈکشنز کے تحت فلمیں اور ڈاکومینٹریز بنائے۔ اس کے علاوہ ملکی تاریخ پر فلم سازی کرنے والے ہدایت کاروں اور پروڈیوسرز کو خصوصی رعایت دی جائے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملکی ثقافت و تاریخ پر فلم سازی کرنے والوں کے لیے ملکی سطح پر قومی فلم ایوارڈز کا بھی انعقاد کیا جائے جس میں بہترین فلم اور ڈاکومینٹری بنانے والوں کو ایوارڈز سے نوازا جائے۔ یوں ملکی تاریخ پر فلم بنانے کی حوصلہ افزائی ہو گی جو بالآخر ملک میں سیاحت کے فروغ کا باعث بنے گی۔

Lahore sheher ki ronaqen

سوشل میڈیا کے موجودہ دور میں وی لاگرز کا بھی نہایت اہم کردار ہے۔ یہ وی لاگ کا زمانہ ہے جہاں ایک مشہور وی لاگ کسی بھی جگہ کو پوری دنیا میں مشہور کر دینے کا باعث بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے جو بین الاقوامی وی لاگرز دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر وہاں کی تاریخ اور ثقافت پر وی لاگز بناتے ہیں وہ دنیا بھر میں مشہور ہو جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے منفرد کانٹینٹ ہمیشہ پسند کیا جاتا ہے۔ ایسے قومی معروف وی لاگرز جو دنیا بھر میں پسند کیے جاتے ہیں، ان کو چاہیے کہ ملکی تاریخی ثقافتی ورثے پر معلومات سے بھرپور دلچسپ وی لاگز بنائیں جو ملکی تاریخ کے فروغ کا باعث بنیں۔ اس سے نہ صرف بین الاقوامی وی لاگرز کو پاکستان آنے کی تقویت ملے گی بلکہ بین الاقوامی سیاح اور محققین بھی یہاں کا رخ کریں گے۔

مندرجہ بالا تمام سفارشات نہ صرف ملکی معیشت میں بہتری کا باعث بنیں گی بلکہ دوسرے ممالک اور قوموں کی نظر میں پاکستان کا امیج بھی بہتر بنانے میں مدد دیں گی۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Rizwan Ali Shah

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔