پاکستان میں تعمیراتی کمپنی کی رجسٹریشن کا طریقہ کار

ملکی قوانین کے مطابق پاکستان میں تعمیراتی منصوبوں پر کام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ مذکورہ کاروباری شعبے سے وابستہ کمپنی کو ملک کی مجاز اتھارٹیز کے ساتھ رجسٹریشن کو یقینی بنایا جائے۔

پاکستان میں کسی بھی سرکاری یا نجی تعمیراتی منصوبوں پر ترقیاتی کام کے حصول کے لیے تعمیراتی کمپنی کا تین بنیادی حکومتی اداروں کے ساتھ رجسٹریشن ایک لازم و ملزوم عمل ہے۔ ان اداروں میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) شامل ہیں۔

تعمیراتی کمپنی سمیت کسی بھی کاروباری ادارے کی مذکورہ سرکاری محکموں کے ساتھ رجسٹریشن میں مختلف مراحل کار فرما ہیں۔ اگر تعمیراتی کمپنی کی رجسٹریشن کی بات کی جائے تو سب سے پہلے مرحلے میں کمپنی کو سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل مکمل کرنا ہوتا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کاروباری ادارے کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ساتھ رجسٹریشن کرانے کے بعد نیشنل ٹیکس نمبر کا حصول ضروری ہے جبکہ تیسرے اور حتمی مرحلے میں کمپنی کو پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے ساتھ رجسٹریشن کروانا لازمی ہے۔ ان تمام مراحل کی تکمیل کے بعد ہی تعمیراتی کمپنی ترقیاتی منصوبوں پر کام حاصل کر سکتی ہے۔

آج کی تحریر میں ہم اپنے قارئین کو مذکورہ سرکاری اداروں کے ساتھ تعمیراتی کمپنی کی رجسٹریشن کے طریقہ کار سے متعلق مفید معلومات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کا طریقہ کار

بنیادی طور پر سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان مالیاتی ریگولیٹری اتھارٹی ہے۔ جس کی بنیادی ذمہ داری ملک میں میں کمپنیوں کی رجسٹریشن کے علاوہ کارپوریٹ سیکٹر کو ریگولیٹ کرنا اور ان کے مالیاتی امور کی نگرانی شامل ہے۔

ایس ای سی پی قوانین کے تحت آپ اپنے کاروبار کو یا تو انفرادی ملکیت کی حامل کمپنی کے طور پر مذکورہ ادارے کے ساتھ رجسٹرڈ کر سکتے ہیں جس کے لیے ایک ڈائریکٹر اور ایک سیکرٹری کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کی صورت میں کمپنی میں کم از کم دو ڈائریکٹرز کی ضرورت ہوتی ہے۔

ایس ای سی پی کے ساتھ پاکستان میں کنسٹرکشن کمپنی کی رجسٹریشن کے تین اہم مراحل ہیں۔ عام طور پر اس عمل کی تکمیل میں تقریباً ڈیڑھ ماہ کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

کاروباری ادارے کے نام کا انتخاب اور شناخت کو محفوظ بنانا

کسی بھی کاروبار کو شروع کرنے سے پہلے اس کاروبار کی شناخت کے لیے ایک عدد نام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کاروبار کے لیے انتخاب کردہ نام کی دستیابی کے بعد آپ ایس ای سی پی کے قریبی علاقائی دفتر میں اُس نام کو محفوظ بنانے کے حوالے سے درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔ آن لائن خود کار نظام کے تحت درخواست جمع کروانے کے لیے آپ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے آن لائن پورٹل سے بھی رجوع کر سکتے ہیں۔ کمپنی کے نام کے انتخاب کے لیے آپ کو تین نام تجویز کرنا ہوتے ہیں جن میں سے ایس ای سی پی رجسٹرار کسی ایک نام کو حتمی شکل دیتے ہوئے آپ کو آگاہ کر دے گا۔

عام طور پر ایس ای سی پی کو کمپنی کے نام کا ریزرویشن سرٹیفکیٹ کے اجراء کے لیے ایک دن کا وقت درکار ہوتا ہے۔

کمپنی کی کاروباری حیثیت سے متعلق معلومات کا تبادلہ

ایس ای سی پی کو کارپوریشن کی دستاویزات جمع کرانا کمپنی رجسٹریشن کے عمل کا دوسرا مرحلہ ہے۔ یہاں دستاویزات کی ایک طویل فہرست ہے جس مکمل کرنا درخواست گزار کی ذمہ داری ہے۔ مثال کے طور پر میمورنڈم آف ایسوسی ایشن ایک ایسا دستاویز ہے جو کمپنی کے اصل کاروبار کے ساتھ اس کے نام اور اس صوبے، ضلع اور شہر کی معلومات پر مشتمل ہے جہاں اس کمپنی کا مرکزی دفتر واقع ہے۔ اسی طرح ایسوسی ایشن کے مضامین پر مشتمل دستاویز یہ بتاتے ہیں کہ کمپنی کیسے کام کرے گی۔

کمپنی کی رجسٹریشن کے دیگر لوازمات میں تمام ڈائریکٹرز کے قومی شناختی کارڈز کی نقول، بینک ڈیپازٹ رسید کی نقل، متعلقہ اہلکاروں کی طرف سے دستاویزات جمع کرانے کا اجازت نامہ وغیرہ شامل ہیں۔ علاوہ ازیں آپ ان دستاویزات کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ایس ای سی پی کے ای پورٹل پر بھی جمع کرا سکتے ہیں۔

کارپوریشن کی سند کا اجراء

ایک بار جب سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان آپ کی جمع کرائی گئی دستاویزات کی جانچ پڑتال اور تصدیق کا عمل مکمل کر لیتا ہے تو این آئی ایف ٹی آپ کو ایک سرٹیفکیٹ آف کارپوریشن جاری کرے گا جو آپ کی کمپنی کی نوعیت اور آپریشن کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن جمع کرانے کے بعد ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ساتھ رجسٹریشن

سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں اپنی کمپنی کو رجسٹر کرنے کے بعد آپ کو ٹیکس ریٹرن کی فائلنگ کے لیے اپنے کاروبار کو ایف بی آر کے ساتھ رجسٹرڈ کرانا ہوتا ہے۔ نیشنل ٹیکس نمبر کے حصول کی درخواست دینے کے لیے آپ کو جن دستاویزات اور تفصیلات جمع کرانے کی ضرورت پیش آئے گی ان میں قومی ٹیکس نمبر درخواست فارم، کمپنی کی رجسٹریشن کا ثبوت، میمورنڈم آف ایسوسی ایشن کا دستاویز، ایسوسی ایشن کے مضامین، بینک اکاؤنٹ نمبر، تمام ڈائریکٹرز کے قومی شناختی کارڈ کی نقول اور تصدیق شدہ کاروباری پتہ کی تفصیلات شامل ہیں۔ سیلز ٹیکس نمبر کے حصول کا طریقہ کار بھی بالکل این ٹی این نمبر کے حصول جیسا ہے۔ تاہم اب آپ ایف بی آر کی موبائل ایپ کے ذریعے بھی سیلز ٹیکس نمبر کے حصول کے لیے اپنی کمپنی کو رجسٹرڈ کروا سکتے ہیں۔

پاکستان انجینئرنگ کونسل کے ساتھ رجسٹریشن

تعمیراتی کمپنی کو پاکستان انجینئرنگ کونسل (پی ای سی) کے ساتھ رجسٹرڈ کروانا انتہائی اہم ہے۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل بنیادی طور پر ایک ایسا پیشہ ورانہ ادارہ ہے جو ملک میں انجینئرنگ کے شعبے کو منظم کرتا ہے۔ پی ای سی ایکٹ کے تحت تشکیل دی گئی اس کونسل کی اہم ذمہ داریوں میں انجینئرز اور کنٹریکٹرز کی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کی جانب سے پیش کیے جانے والے انجینئرنگ پروگراموں کی منظوری بھی شامل ہے۔

پاکستان میں کسی بھی تعمیراتی کمپنی کو پی ای سی کے ساتھ رجسٹرڈ کرنا لازمی ہے کیونکہ وہ کسی بھی سول یا سرکاری تعمیراتی منصوبے پر کونسل سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کیے بغیر کام نہیں کر سکتی۔ کنٹریکٹرز اور آپریٹرز کے لیے پی ای سی رجسٹریشن کے آٹھ مختلف درجے ہیں۔

پاکستان میں تعمیراتی کمپنی کو پی ای سی کے ساتھ رجسٹرڈ کرنے کے لیے جن دستاویزات کی ضرورت پڑتی ہے ان میں درخواست فارم، تمام ڈائریکٹرز، شراکت داروں اور شیئر ہولڈرز کے قومی شناختی کارڈز کی نقول، اصل فیس کی ادائیگی کی رسید، گذشتہ سال کی بینک اسٹیٹمنٹ یا چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تصدیق شدہ مالیاتی اسٹیٹمنٹ، این ٹی این سرٹیفکیٹ کی تصدیق شدہ نقل، تعمیراتی کمپنی کے ملکیتی اثاثہ جات جیسے مشینری اور آلات کی تفصیلات، مشینری فراہم کرنے والے کاروباری ادارے کے ساتھ معاہدہ کی نقل، کمپنی کے سربراہ کی جانب سے دستخط شدہ کمپنی کے تنظیمی ڈھانچے کا چارٹ، شمولیت کا سرٹیفکیٹ، سی ای او سمیت ڈائریکٹرز اور پارٹنرز سے 100 روپے کے اسٹامپ پیپر پر معاہدے کے دستاویزات شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے