مٹی اور گرد کے طوفان میں کونسے حفاظتی اقدامات اپنائے جائیں؟

بدلتے موسم اس زمین کا خاصہ ہیں۔ عام طور پر موسموں کو چار حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

invest with imarat

Islamabad’s emerging city centre

Learn More

سردی، گرمی، بہار اور خزاں۔ لیکن ان سیزنز کے ساتھ کبھی کبھی موسم ایسا رخ اختیار کرتا ہے جس کی پیشگوئی کی جا سکتی ہے لیکن زیادہ تر یہ اچانک وارد ہونے والے موسمی حالات میں سے ایک ہیں جنھیں عام اصطلاح میں آںدھی، گرد یا مٹی کا طوفان کہا جاتا ہے۔

ایشیائی ممالک جہاں اپنی بہت سی خصوصیات سے جانے جاتےہیں وہیں یہاں کے بدلتے موسم بھی ساری دنیا میں قابلِ ذکر ہیں۔

مٹی کا طوفان کیا ہے؟

دھول، ریت یا مٹی کا طوفان ایک موسمیاتی رجحان ہے جو بنجر اور نیم خشک علاقوں میں عام ہے۔ دھُول کے طوفان اس وقت اٹھتے ہیں جب جھونکا یا تیز ہوا خشک سطح سے ڈھیلی یا ہلکی ریت اور دھول یا خشک مٹی کو فضا میں اڑاتا ہے۔ گرمی کی آمد کے ساتھ ہی ایشیائی ممالک میں مٹی، ریت، گرد اور دھول کے طوفان اور تیز آںدھیاں چلنے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ جن میں زرد آندھیاں بھی شامل ہیں۔

ایشیائی ممالک میں زرد آندھیوں اور دھول کی بنیادی وجہ شمالی چین، منگولیا اور وسطی ایشیا کا صحرائی ہونا ہے۔ ان علاقوں میں کثیر تعداد میں ریگستانی جنگلات اور قابلِ کاشت زمین کی وسیع پیمانے پر کٹائی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہیں۔

 

مٹی اور گرد آلود ہواؤں کے منفی اثرات

پچھلی دہائی کے دوران سائنسدانوں کو آب و ہوا، انسانی صحت، ماحولیات اور بہت سے سماجی و اقتصادی شعبوں پر پڑنے والے اثرات کا احساس ہوا ہے۔

ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) اقوام متحدہ کی ایک خصوصی ایجنسی ہے جو ماحولیاتی سائنس، موسمیات، ہائیڈرولوجی اور جیو فزکس پر بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے کا کام کرتی ہے۔ ڈبلیو ایم او کے رُکن ممالک ان اثرات کا جائزہ، تیاری، موافقت اور شدت میں کمی کی پالیسیوں پر رہنمائی کے لیے مصنوعات تیار کرنے میں کوشاں ہیں۔

انسانی صحت پر اثرات

جس طرح موسمِ سرما یا گرمی انسانی صحت پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح دھول، مٹی، گرد اور آندھیاں بھی انسانی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں جو کہ مختلف وبائی بیماریوں کا سبب بن سکتی ہیں۔

ان ممکنہ وبائی امراض جیسا کہ کھانسی، چھینکیں، آنکھوں کا سرخ ہوجانا اور جِلدی امراض سے عمومی طور پر سب سے زیادہ بچے، بزرگ اور کمزور افراد متاثر ہوتے ہیں۔ سانس لینے میں دشواری، دمہ یا کسی بھی الرجی کے شکار افراد کے لیے مٹی اور گرد آلود ہوائیں بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماحول اور زراعت پر اثرات

دھول مٹی ماحول اور زراعت پر بھی بہت سے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ بے تحاشا مٹی اور ریت کے باعث پودے زمین میں دفن ہونے پر فصل کی پیداوار میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آبپاشی کے لیے دستیاب نہری پانی کے بہاؤ میں ہوا کے ساتھ آئے کوڑا کرکٹ سمیت بہت سی غیر معیاری اشیاء رکاوٹ کا سبب بنتی ہیں۔

ہوائی جہازوں، ریل گاڑیوں اور ٹریفک کی نقل و حمل میں سست روی اور تاخیر کی دیگر وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ دھول مٹی، گَرد کا طوفان اور ماحولیاتی اثرات ہیں۔

 

پنجاب میں آنے والی آںدھیاں اور مٹی کے طوفان

پانچ دریاؤں کی سرزمین صوبہ پنجاب موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مٹی اور گرد کے طوفان کے لیے اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔

سینٹرل پنجاب کے شہر لاہور سے لے کر جنوبی پنجاب اور صوبہ سندھ کے سرحدی علاقے رحیم یار خان تک پورا صوبہ گرمی کی آمد کے ساتھ ہی گرد آلود ہواؤں کی لپیٹ میں آ جاتا ہے اور ان تمام موسمیاتی تبدیلیوں کے باوجود بلاشبہ پنجاب کی مٹی تاریخی شہروں لاہور، ملتان، بہاولپور ہو یا رحیم یار خان کے لوگوں کے لیے ماں کا درجہ رکھتی ہے۔

مقامی زبانوں میں مٹی کے طوفان کو آندھی، اندھیری، جھکڑ یا مِٹی کٹا جیسے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔

حفاظتی اقدامات

آںدھی، مٹی یا گرد کے طوفان میں کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی حفاظت کو اولین ترجیح دیں۔ اگر آپ گھر سے باہر لیکن گھر کے قریب ہیں تو کوشش کریں کہ آپ گھر پہنچ سکیں کیونکہ باہر کی نسبت آپ گھر میں زیادہ محفوظ رہ سکتے ہیں۔

گھر سے باہر محفوظ جگہ پر قیام

اگر آپ اپنی کسی سواری جیسے موٹر سائیکل یا گاڑی میں موجود ہیں تو رُک جانا اور کسی محفوظ جگہ پر گاڑی پارک کرنا ضروری ہے کیونکہ طوفانی صورتحال میں گاڑی چلاتے رہنے کی صورت میں دھول اور مٹی کی وجہ سے باہر دیکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ طوفان کی شدت زیادہ ہو تو چند ہی منٹوں میں حدِ نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے اور کسی بھی حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔ مزید یہ کہ سڑک پر موجود کوئی بھی کھمبا، بجلی کی تاریں یا سڑک کے کنارے نصب تشہیری بورڈز آپ کی گاڑی یا براہِ راست آپ کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی قریبی عمارت میں موسم کی شدت کم ہونے تک انتظار کیا جانا ہی عقلمندی ہے۔

چہرے اور آنکھوں کو ڈھانپنا ضروری

گرد، مٹی اور دھول کے طوفان میں کروڑوں کی تعداد میں ایسے چھوٹے چھوٹے ذرات پاءے جاتے ہیں جو ہماری جِلد، آنکھوں اور پھیپھڑوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایسے شدید موسمی حالات میں چہرے کو ڈھانپنا ایک بہترین احتیاطی تدبیر ہو سکتی ہے۔

 

آندھی اور طوفان سے گھر کو کیسے بچائیں؟

آندھی یا طوفان کے دوران اگر آپ اپنے گھر میں موجود ہیں تو اس سے زیادہ محفوظ جگہ اور کوئی نہیں۔ جس کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ آپ اپنی حفاظت کے ساتھ اپنے گھر کی حفاظت کو بھی یقینی بنا سکتے ہیں۔

طوفان کا علم کیسے ہو؟

میڈیا پر گردش کرنے والی خبریں اور اطلاعات بےشک آپ کی نظروں سے نہ گزری ہوں یا جھوٹی ہوں، گھر میں موجود ہونے کا اہم فائدہ یہ ہے کہ موسم کی اچانک تبدیلی سے زرا پہلے آپ باخبر ہو جاتے ہیں ۔ تیز آندھی یا مٹی اور دھول اڑنے سے قبل فضا کا رنگ زردی مائل ہو جاتا ہے۔ پرندے زیادہ تعداد میں اور تیز اڑنے لگتے ہیں اور ہوا کی رفتار آہستہ آہستہ بڑھنے لگتی ہے۔ ایسے میں آپ کی سمجھداری یا چَھٹی حِس الارم بجاتی ہے کسی شدید موسمی وار کا۔

بند دروازے اور کھڑکیاں زیادہ محفوظ

کبھی بھی موسم کے تیور بدلنے یا تیز اور گرد آلود ہوائیں چلنے پر آپ گھر کے کھڑکیاں اور دروازے مضبوطی سے بند کر لیں تاکہ مٹی اور دھول گھر کے اندر کم سے کم آنے پائے۔

الیکٹرونکس اور فرنیچر کی حفاظت

الیکٹرونکس یا برقی آلات جیسے فریج، اوون اور اے سی وغیرہ کو کسی کپڑے کی شیٹ سے ڈھانپ دیں تاکہ شدید طوفان ان کی کارکردگی کو متاثر نہ کر سکے۔ صوفہ، بیڈ اور کرسیاں آپ کے گھر کا قیمتی فرنیچر ہوتے ہیں جن کو طوفان کے پیشِ نظر چادروں یا پلاسٹک کی شیٹوں سے ڈھانپنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔

 

اپنی حفاظت یقینی بنائیں

کسی بھی شدید موسم میں ایسے لباس کا انتخاب کریں جو آپ کو موسمی شدت کے منفی اثرات سے محفوظ رکھے۔ دروازوں اور کھڑکیوں میں کھڑے ہونے سے پرہیز کریں اور گھر کے اندرونی حصے میں قیام کریں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

invest with imarat Islamabad’s emerging city
centre
Learn More
Scroll to Top
Scroll to Top