رواں سال ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات

گذشتہ چند سالوں سے پاکستان سمیت دنیا بھر میں تعمیراتی صنعت سمیت ریئل اسٹیٹ کے شعبے نے خاطر خواہ ترقی کی ہے۔ ریئل اسٹیٹ کا شعبہ اب پوری دنیا میں کسی بھی ملک کے مالیاتی اُمور اور معاشی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ماضی کے ابتدائی ادوار میں ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو عام طور پر پراپرٹی کی خرید و فروخت یا صرف گھروں کی کرایہ پر فراہمی سے جڑی کاروباری سرگرمیوں سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ لیکن ایک طویل جدوجہد اور خود کو جدید ٹیکنالوجی، علوم اور تحقیق سے ہم آہنگ کرنے کے بعد آج مذکورہ شعبہ ایک نئی شناخت کے ساتھ دنیا بھر میں اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔

ریئل اسٹیٹ شعبے کی ترقی و ترویج کی دیگر وجوہات میں سے ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں منافع کی شرح کسی بھی دوسرے کاروباری شعبے کے مقابلے میں ناقابلِ یقین حد تک زیادہ ہے۔

ایک عام مشاہدے کی بات ہے کہ پاکستان میں ریئل اسٹیٹ منصوبوں میں سرمایہ کاری کے نتیجے میں ہونے والے منافع کی شرح میں بتدریج اضافہ ملک میں غیرمستحکم سیاسی صورتحال اور مہنگائی جیسے عوامی مسائل سے مستثنٰی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار نے اپنی تمام تر توجہ اس پُرکشش شعبے پر مرکوز کر لی ہے۔

آج کی اس تحریر میں ہم اپنے قارئین کے ساتھ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے متعلق رواں سال 2022ء کے مجوزہ رجحانات سے متعلق مفید معلومات کا تبادلہ خیال کریں گے۔

ملک میں کثیر المنزلہ رہائشی منصوبوں میں سرمایہ کاری کا بڑھتا رجحان

ریئل اسٹیٹ شعبے کے ارتقائی دور میں سرمایہ کاروں نے شہروں کے پوش علاقوں میں پرانی طرزِ تعمیر کے گھر خرید کر ان کی تزئینِ نو کے بعد ان گھروں کی فروخت کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کاروبار میں بلاشبہ سرمایہ کار نے اُس دور کے مطابق اچھا منافع کمایا تاہم منافع کی اِس شرح کا اگر آج کے جدید ریئل اسٹیٹ شعبے سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو اسے آٹے میں نمک کے برابر کی کہاوت سے تعبیر کرنا بےجا نہ ہو گا۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کار نے خود کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں قدم جمانا شروع کیے اور سرمایہ کاروں نے پرانے گھروں کی خرید اور تزئینِ نو کے بعد فروخت کے عمل کو خیر باد کہتے ہوئے بڑے پیمانے پر زمینوں کی خریداری سمیت رہائشی منصوبوں کی تعمیر سے خود کو وابستہ کرنا شروع کر دیا۔

اتنے بڑے پیمانے پر زمینوں کی خریداری اور رہائشی منصوبوں کی تعمیر کی وجہ سے نہ صرف شہری آبادیوں بلکہ دیہی اور شہری آبادی کے سنگم پر واقع اراضی کے رقبے میں بھی کمی واقع ہوتی چلی گئی۔ رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے اب صرف ایک ہی راستہ بچا اور وہ یہ کہ کثیرالمنزلہ رہائشی اپارٹمنٹس کی تعمیر۔عوامی دلچسپی کی وجہ سے کثیرالمنزلہ رہائشی منصوبوں کی تعمیر کے رجحان میں خاطر خواہ حد تک اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ سرمایہ کاروں نے اب ہاؤسنگ سوسائٹیز میں دستیاب رہائشی پلاٹس پر کثیر المنزلہ اپارٹمنٹس کی تعمیر میں سرمایہ لگانا شروع کر دیا ہے۔ کثیرالمنزلہ رہائشی منصوبوں میں عوامی دلچسپی کی ایک بنیادی وجہ پُر آسائش اور شاندار رہائش کے ساتھ ساتھ تمام بنیادی ضرویات کی ایک ہی چھت تلے دستیابی ہے۔

ریئل اسٹیٹ اور سیاحت، سرمایہ کاری کا ایک حسین امتزاج

رہائشی اور کمرشل منصوبوں کے بعد ریئل اسٹیٹ سے وابستہ سرمایہ کاروں نے سیاحت کے فروغ کے بعد اس شعبے میں سرمایہ کاری کا رُخ کر رکھا ہے۔ پاکستان کے شمالی علاقہ جات بلاشبہ قدرتی نظاروں، بلند و بالا برفانی چوٹیوں، بہتے جھرنوں اور سرسبز و شاداب کھلیانوں کی وجہ دنیا بھر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی سیاحت کے فروغ کے لیے خاطر خواہ اقدامات اٹھائے ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاروں نے اب شمالی علاقہ جات اور سیاحتی مقامات پر تعمیراتی منصوبوں میں سرمایہ لگانے کو ترجیح دینا شروع کر دی ہے۔ اسلام آباد سے لے کر ہنزہ تک، کوئٹہ سے گوادر تک، پشاور سے طورخم اور کراچی میں سمندری پٹی سے ملحقہ سیاحتی مقامات پر ہوٹلز، ریسٹورانٹس، رہائشی و کمرشل منصوبوں پر تعمیرات کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

اسلام آباد سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع ملکہ کوہسار، سوات میں مالم جبا، کالام، کمراٹ ویلی اور اسی طرح ناران، کاغان، بابوسر ٹاپ، پھر آگے گلگت بلتستان میں سکردو، ضلع چترال میں کیلاش اور ہنزہ ویلی دنیا بھر کے سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف ملکہ کوہسار مری میں سیاحت سے سالانہ آمدن کا حجم 200 ارب روپے سے زاءد ہے۔ سیاحتی شعبے کو ماضی میں کبھی بھی حکومت کی سرپرستی نہیں رہی لیکن اب حکومتی دلچسپی اور ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی توجہ کے بعد اس شعبے میں تیزی سے رونما ہوتی مثبت اور منافع بخش تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) سرمایہ کاری کا بہرین ذریعہ

ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) بنیادی طور پر ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کی ایک ایسی اسکیم ہے جس میں سمندر پار اور مقامی سرمایہ کاروں کے مابین ہم آہنگی سے سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ بلاشبہ ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (ریٹ) کا نظریہ پاکستان میں نیا ہے لیکن اس اسکیم نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کے باعث تیزی سے فروغ پایا ہے۔ حال ہی میں پاکستان کے سب سے بڑے نجی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ (آرای آئی ٹی) نے تعیراتی سرگرمیوں سے 500 ملین ڈالر کی آمدن کا ہدف طے کیا ہے۔ مذکورہ ٹرسٹ 60 فیصد بیرونی سرمایہ کاروں جبکہ 30 فیصد فنڈز مقامی سرمایہ کاری سے حاصل کرنے سے متعلق امور پر یقین رکھتا ہے۔ پاکستان کے پہلے ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹ نے کراچی میں کرایہ داری کی بنیاد پر تعمیراتی منصوبے میں سرمایہ کاری پر ابتدائی طور پر 12 فیصد سالانہ منافع جبکہ رہائشی منصوبے لے لیے 8 ارب روپے کی سرمایہ کاری پر 30 فیصد ریٹ آف ریٹرن کا اعلان کر رکھا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے