ریٹائرمنٹ کے بعد ریئل اسٹیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری آمدن کا شاندار ذریعہ

مہنگائی کے اس دور میں آمدن کے مستحکم وسائل ایک ایسے ادھورے خواب کی مانند ہے جس کی تعبیر کے لیے ایک عام شہری اپنی تمام جمع پونجی بغیر کسی منصوبہ بندی کے کسی ایسے شعبے یا کاروبار میں لگا دیتا ہے جہاں ماسوائے پچھتاوے کے اس کے پاس کچھ نہیں بچتا۔

پاکستان کے سرکاری اداروں میں 82 فیصد ملازمین ایسے ہیں جو اپنی ساری عمر کی سروس کے بعد بمشکل 16 ویں گریڈ تک پہنچ پاتے ہیں جبکہ 15 فیصد ملازمین اپنی سروس کی مدت پوری کرنے کے بعد 17ویں سے بیسویں گریڈ کے درمیان اپنے عہدوں سے ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔

ریٹائرمنٹ کے بعد ہر سرکاری ملازم اپنی پینشن کی رقم کو لے کر اپنے خاندان کی کفالت اور سماجی ذمہ داریوں سے آزاد ہونے کے خواب سجائے بیٹھا ہوتا ہے۔ بہت سے ریٹائرڈ ملازمین دل کی بجائے دماغ سے کام لیتے ہوئے اپنی پینشن کی رقم کو مکمل منصوبہ بندی اور تحقیق کے بعد ایسے کاروبار یا منصوبوں میں لگانے کو ترجیح دیتے ہیں جس سے ان کی مستقل آمدن کا پہیہ چلتا رہے۔

لیکن ہاں! ایک اہم بات جس کی وجہ سے ہم نے اپنی آج کی تحریر کو ترتیب دیا ہے، وہ یہ کہ عمر بھر کی جمع پونجی کو کہیں بھی انویسٹ کرنے سے پہلے ایک مرتبہ مکمل تحقیق ضرور کر لیں کہ آیا جہاں آپ سرمایہ لگانے جا رہے ہیں وہاں آپ کا پیسہ محفوظ بھی ہے یا نہیں۔

ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری ایک منافع بخش کاروبار مگر احتیاط سے

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے حوالے سے اپنی ایک منفرد پہچان قائم کر چکا ہے اور اس کی شاید بنیادی وجہ محفوظ سرمایہ کاری پر منافع کی شرح ایک عام آدمی کی سوچ سے بالاتر ہونا ہے۔ ریئل اسٹیٹ کے کسی بھی منصوبے میں سرمایہ لگانے سے پہلے اس منصوبے کے ملکیتی حقوق، متعلقہ سرکاری اداروں سے اس منصوبے کی وابستگی اور منظوری سے متعلق اچھی طرح جانچ پڑتال کرنے کے بعد ہی کسی منصوبے میں سرمایہ لگائیں۔

ملک بھر میں بہت سے ایسے تعمیراتی منصوبے ہیں جو حکومتی اداروں سے منظور شدہ نہیں اور ایک عام آدمی ریٹائرمنٹ کے بعد جلد بازی میں ایسے ہی کسی منصوبے میں سرمایہ کاری کر بیٹھتا ہے جو بعد ازاں تحقیقاتی اداروں کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے اور سرمایہ کار کے پاس ماسوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہیں رہتا۔

ریئل اسٹیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری کے لیے پراپرشور ایک بہترین انتخاب

اعلیٰ شہرت کے حامل ریئل اسٹیٹ کے ادارے امارات گروپ کے زیر انتظام ایک کمپنی پراپشور بھی سرمایہ کار کے لیے پراپرٹی کی تصدیق اور ریئل اسٹیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری سے متعلق خدمات فراہم کر رہی ہے۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت کے وقت تصدیق کے عمل میں کسی بھی قسم کی دشواری کی صورت میں پراپشور کمپنی سے بھی رابطہ کیا جا سکتا۔

پراپشور ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں پاکستان کی پہلی کمپنی ہے جس نے ملک بھر کے شہری علاقوں کی اراضی اور پراپرٹی کا ڈیجیٹل ڈیٹا اکھٹا کر کے اسے کمپیوٹرائز کیا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کی مدد سے اب پراپرٹی کی خرید و فروخت میں شفافیت اور محفوظ سرمایہ کاری کے عمل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

شہری علاقوں کی ڈیجیٹل نقشہ سازی کے اس سارے عمل کے پیچھے پراپشور کی انتہائی پیشہ وارانہ اور ماہرین پر مشتمل ٹیم کار فرما ہے جبکہ اس ڈیجیٹل میپنگ کی مدد سے اب صارفین کسی بھی پراپرٹی کی مکمل اور درست تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔

کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل منصوبوں میں سرمایہ کاری

کثیر المنزلہ رہائشی و کمرشل منصوبوں میں سرمایہ کاری کے حوالے سے کچھ ایسے منصوبے زیر تعمیر ہیں جن میں سرمایہ کاری نہ صرف ایک محفوظ کاروبار ہے بلکہ ان منصوبوں کی جانب سے پیش کردہ منافع کی شرح بھی انتہائی اطمینان بخش ہے۔

حال ہی میں امارات گروپ نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہ ایکسپریس وے پر پُر آسائش کثیر المنزلہ رہائشی منصوبے امارات ریزیڈینسیز کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

امارات ریزیڈنسز کا قیام امارات بزنس ڈسٹرکٹ میں کیا جارہا ہے جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ یہ منصوبہ کمرشل اور ریزیڈینشل پراسپیکٹس کا ایک بہترین امتزاج ہوگا۔

یہ منصوبہ شہر کے دیگر رہائشی منصوبوں سے منفرد ہے چونکہ یہ منصوبہ بزنس سینٹرز کی قربت میں واقع ہے۔ یہاں کے رہائشیوں کو ضروریاتِ زندگی کی تمام سہولیات ایک ہی احاطے میں دستیاب ہوں گی۔

امارات ریزیڈنسز وفاقی دارلحکومت میں ایکسپریس وے پر امارات گروپ کے زیر انتظام بزنس ڈسٹرکٹ میں ایک لگثری اور پُرآسائش سہولیات سے آراستہ بنیادی طور پر کثیر المنزلہ رہائشی منصوبہ ہے۔ جہاں کاروباری مواقع کے لیے دفاتر اور تمام ضروریات زندگی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے منصوبے کا ایک حصہ کاروباری سرگرمیوں کے لیے بھی مختص کیا گیا ہے۔

امارات ریزیڈنسز 1،2 اور 3 بیڈز کے علاوہ اسٹوڈیو اپارٹمنٹس پر مشتمل رہائشی منصوبہ ہے جس میں تمام بنیادی سہولیات جیسے پارکنگ، رہائشیوں کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نگرانی کا مربوط نظام، بجلی کی بلا تعطل فراہمی کے لیے جنریٹر کی سہولت، پارک، اعلیٰ معیار کے جم سمیت دیگر پُرآسائش زندگی کی تمام سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے