موسمِ سرما میں حادثات سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر

ہوا میں خنکی، ٹھنڈی ہوائیں اور روزانہ کم ہوتا درجہ حرارت سردی کی آمد کا اشارہ ہے۔ پاکستان کو اللہ رب العزت نے چار موسموں سے نوازا ہے۔ لہٰذا جون جولائی میں ملک کے میدانی حصوں میں شدید گرمی پڑتی ہے۔ اسی طرح پہاڑی اور دیگر شمالی علاقہ جات دسمبر جنوری میں شدید سردی سے دو چار ہوتے ہیں۔ سردیوں کے منتظر افراد گرمجوشی سے سیزن بدلنے کا انتظار کرتے ہیں۔ اور موسمِ سرما کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ بدلتا موسم ہمارے معمولات اور کھانے پینے میں تبدیلی لاتا ہے۔ اس کے برعکس ہمیں اپنی حفاظت کا ذمہ لینے کے لیے بھی تیار ہونا چاہیئے۔ ہر سال سردی میں ہمیں مختلف حادثات اور اموات کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ جن میں سے بیشتر موسمِ سرما میں حادثات سےبچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر نہ اختیار کرنے کے باعث پیش آتے ہیں۔

 

دستانوں اور سکارف میں ملبوس برف سے بنا ہوا سنو مین

 

موسمِ سرما میں گھریلو حادثات کی وجہ

فائر پِٹ، ہیٹر اور گیزر موسمِ سرما میں استعمال کیے جانے والے آلات ہیں۔ لہٰذا سردی کی آمد سے قبل ہی ان آلات کی صفائی اور کارکردگی کی پرکھ نہایت ضروری ہے۔ تاکہ سخت موسم میں گھر کے ماحول کو آرام دہ بنایا جا سکے۔ تاہم، احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ان آلات کا استعمال کیا جانا آپ کی اولین ترجیحات میں ہونا چاہیئے۔ سخت موسم میں گیس کا پریشر کم اور زیادہ ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ، گرمی میں بجلی کی طرح سردیوں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں، کمروں میں دن اور رات کے مختلف اوقات میں ہیٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہیٹر جلا کر سونے والے، یا پھر گیس بھرنے سے اموات کا شکار ہونے والے لوگ بے احتیاطی کے باعث حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔

 

فائر پٹ کے سامنے براجمان موزے پہنے، چائے کے کپ اور کتاب کے ساتھ خاتون

 

آلات کا استعمال

ہم اگر آلات کے ساتھ دیے گئے بک لِٹ یا ہدایات نامہ ایک بار غور سے پڑھ لیں۔ تو بہت سی آگاہی، بچاؤ اور طریقہ استعمال سے آگاہ ہو جائیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم میں سے بیشتر لوگ ایسا نہیں کرتے۔ اور ہر آلے یا مشین کو ایک عام استعمال کی چیز سمجھ کر چلانے لگتے ہیں۔ نتیجتاَ، کم علمی اور استعمال کے ناقص طریقوں کے باعث حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ مزید براں، کمرے میں ہیٹر آن رہنے کے دوران پانی سے بھرا ایک بڑا پیالہ رکھیں۔ تاکہ ماحول میں گھٹن نہ ہونے پائے۔

 

گیس کنکشن کی نوب گھماتے ہوئے ایک شخص کا ہاتھ

 

گھریلو حادثات سے بچاؤ

 کامن سینس یعنی بنیادی عقل کا استعمال ہمیں بےشمار نقصانات سے بچا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، گیزر میں پانی کا لیول کم ہوتے ہوئے بھی اسے آن رکھنا۔ کمرے میں ہیٹر جلا کر سو جانا۔ یا پھر ہیٹر میں کَٹ لگے بوسیدہ یا پھٹے ہوئے پائپ نصب کرنا۔ اسی طرح بند کمرے میں ہیٹر جلانے سے گیس بھرنے کے واضح امکانات ہوتے ہیں۔ کیونکہ گیس لوڈ شیڈنگ اور یا پریشر کم ہونے کے باعث ہیٹر بند ہو جاتا ہے۔ لیکن گیس بھرنے کی صورت میں دم گھٹنے سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس، کمرے میں آگ لگنے کے بھی امکانات ہوتے ہیں۔ لہٰذا، سونے سے قبل ہیٹر مکمل طور پر بند کریں۔ اور کمرے سے باہر رکھیں۔ یا پھر کمرے میں ہوا کے گزر کو یقینی بنائیں۔ کیونکہ غفلت آپ کو موت کی نیند سُلا سکتی ہے۔

 

ہیٹر کے آگے بیٹھے گرمائش لیتے ایک چھوٹے بچے کے ہاتھ

 

 

کچن میں احتیاط

کمروں کی طرح کچن میں بھی احتیاط بَرتیں۔ سردی کی آمد سے پہلے گیس کے کنکشن، چولہے یا کوکنگ رینج سے ممکنہ لیکیج چیک کر لیں۔ سردی کے موسم میں اکثر کچن کے اندر ہی ڈائننگ ٹیبل کا اہتمام کر لیا جاتا ہے۔ تاکہ آرام دہ ماحول میں کھانا نوش کیا جائے۔ یا چائے اور کافی سے لطف اندوز ہوا جا سکے۔ تاہم، احتیاط کے پیشِ نظر باورچی خانے میں گیس کے کنکشن، جوڑ اور پائپوں کی جانچ پرکھ یا تبدیلی بلاشبہ بہت اہم ہے۔ بصورتِ دیگر، گیس بھرنے کی صورت میں مندرجہ ذیل ضروری اقدامات اٹھاتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

 

کچن میں موجود ڈائننگ ٹیبل، کرسیاں اور پھل

 

گیس بھرنے کی صورت میں فوری اقدامات

کمرے، کچن یا گھر کے کسی بھی حصے میں گیس بھر جانے کی صورت میں کیے جانے والے فوری اور ضروری اقدمات یہ ہیں۔

ماچس کا استعمال نہ کریں

بلب یا کوئی دوسری لائٹ آن نہ کریں

تمام برقی آلات آف کر دیں

فون یا موبائل پر کال ملانے یا ریسیو کرنے سے پرہیز کریں

گیس سے بھرے ممکنہ علاقے میں گاڑی اسٹارٹ نہ کریں

گیس کا مرکزی کنکشن آف کر دیں

گھر میں اور ارد گرد موجود افراد کو فوری آگاہ کریں

جلد از جلد گیس سے بھرے حصے، کمرے یا گھر سے دور جانے کی کوشش کریں

فائر بریگیڈ آفس میں فوری اطلاع دیں

 

گیس لیکیج آف کرتے ہوئے ایک شخص کا ہاتھ

 

بیرونی حادثات

گھریلو حادثات کے برعکس کچھ بیرونی حادثات بھی موسمِ سرما کے باعث پیش آتے ہیں۔

شدید دھند

 سردی میں دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے کے باعث جلد سورج غروب ہوتا ہے۔ لہٰذا، شام میں شہر کے اندر یا باہر سفر کرنا ایک معمول سمجھا جاتا ہے۔ سخت سردی میں پنجاب کے اکثر شہر شدید دھند کا شکار ہوتے ہیں۔ جس کے تحت شام یا رات کے اوقات میں حدِ نگاہ صفر ہو کر رہ جاتی ہے۔ اور گاڑی سے ایک یا دو فٹ کے فاصلے پر بھی کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ اور یوں چھوٹے بڑے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ دھند میں گاڑی چلاتے ہوئے فوگ لائٹس کا استمعال لازمی کریں۔ اور سیزن کے آغاز میں ہی اس کی تنصیب یا درستگی یقینی بنا لیں۔

 

شدید دھند میں سڑک پر چلتی دو گاڑیاں

 

موسمِ سرما کی پہلی برف باری

ہر سال موسمِ سرما میں برف باری دیکھنے لاکھوں سیاح مری اور دیگر شمالی علاقہ جات کا رخ کرتے ہیں۔ لہٰذا، محکمہ موسمیات کی جانب سے جوں ہی برف باری کی پیشگوئی کی جاتی ہے۔ متعدد فیملیز اور سیاح اپنے ٹرپ پلان کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شمالی علاقے برف کی لپیٹ میں آتے ہی سیاحوں کا رش بڑھ جاتا ہے۔

شمالی علاقہ جات کی سیر کے لیے، یا برف باری دیکھنے کے شوق میں سیزن کے عروج پر جانے سے پرہیز کریں۔ یاد رکھیں، جان ہے تو جہان ہے۔ ایسے مواقع آپ زندگی میں کبھی بھی انجوائے کر سکتے ہیں۔ کیونکہ لاکھوں سیاحوں کی موجودگی میں آپ لطف اندوز نہیں ہو سکتے۔ علاوہ ازیں، آپ بری طرح ہوٹلوں، گاڑیوں اورسڑکوں پر پھنس سکتے ہیں۔ یاد رہے گزشتہ برس مری میں گاڑیوں میں سو جانے والے لوگوں کی اموات ہوئیں۔ بدقسمتی سے انہیں نہ کوئی قیام گاہ مل پائی اور نہ ہی واپسی کا راستہ۔

 

برف باری میں سڑک پر چلتی گاڑیاں اور پیدل چلتے لوگ

 

بیمار ہونے سے بچیں

آپ سیزن کے عروج پر مری یا دیگر پہاڑی علاقوں کا رخ کریں یا پھر کم سردی کے دنوں میں۔ لیکن پہاڑی علاقوں میں درجہ حرارت کم ہی ملے گا۔ جو رات میں مزید کم ہو جاتا ہے۔ برف باری کی صورت میں آپ کے پاس لانگ بوٹ، جوگرز، کوٹ، ٹوپی، سکارف اور گرم دستانے ضرور ہونے چاہیئں۔ علاوہ ازیں، بخار، پین کِلر یعنی درد ختم کرنے والی اور قے ختم کرنے والی دوائیں ضرور ہمراہ لے جائیں۔

 

برفباری میں کوٹ، جوگرز اور سکارف میں ملبوس دو شخص

 

سردی کے موسم میں داخل ہونے سے قبل بہتر ہے کہ گھر میں فرج، کارپٹ، پردے، کھڑکیوں اور دروازوں کی صفائی یقینی بنائیں۔ فریزر کی اچھی طرح صفائی کریں۔ اور اسے نئے سیزن کے لوازمات محفوظ کرنے کے لیے تیار کر لیں۔ کھڑکیوں کے شیشے خوب چمکا لیں۔ تاکہ ان سے اچھی دھوپ گھر کے اندر داخل ہو سکے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے