مون سون، خوشگوار موسم میں حفاظتی تدابیر بھی ضروری

Monson BI

ٹھنڈی ہوا، جھومتے درخت، گیت گاتے پرندے، گہرے بادل اور زمین پہ برستی بارش کے سبب مٹی سے اٹھتی مسحور کن مہک، آمد ہے مون سون کی جس نے جھلستے چہروں کو مسکراہٹ بخشی، دہکتے جنگلات پر ابرِرحمت برسایا اور گرمی کے ستائے ہر ذی روح میں زندگی جی اٹھی۔

مون سون، برسات اور ساون بھادوں ہر سال ہمیں اپنے جوبن دکھانے آتے ہیں اور بلند درجہ حرارت کو خوشگوار موسم میں بدل دیتے ہیں۔ مزے مزے کے پکوان اور سیر وتفریح سے لطف اندوز ہوتے بچے اور بڑے موسمِ برسات میں حفاظتی تدابیر کو نظر انداز کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ فن، مستی اور مزاح کے ساتھ اگر ہم احتیاط کا دامن تھامے اس موسم کو خوش آمدید کہیں تو کسی ناخوشگوار واقعے اور حادثے سے بچاؤ ممکن ہے۔

 

آسمان پر چھائے گہرے بادل

بارش کے موسم میں حفاظتی اقدامات

برسات کے موسم میں مناسب احتیاط سے آپ اپنی حفاظت یقینی بنا سکتے ہیں۔

 

بجلی کے کھمبوں اور تاروں کو مت چھوئیں

مسلسل بارش در و دیوار، گلیوں اور سڑکوں کو گیلا کر دیتی ہے۔ شہروں اور دیہاتوں کے اکثر نشیبی علاقے زیرِ آب آنے کی صورت میں وہاں نصب بجلی کے پول اور تاروں میں کرنٹ آنے کا خدشہ ہوتا ہے، بلکہ ہر سال بے احتیاطی اور نا مناسب اقدمات کے پیشِ نظر حادثات رونما ہوتے ہیں اور کچھ افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے موسم اور حالات میں سمجھداری سے کام لیں، کھمبوں اور تاروں سے دور رہنے کے ساتھ بارش کے اس پانی میں سے گزرنے سے پرہیز کریں جس میں بجلی کے کھمبے نصب ہیں۔

برساتی موسم میں کوئی بھی بجلی کی تار گھر کے دروازے یا دیوار کے ساتھ منسلک ہونے کی بنا پر کرنٹ لگنے کا باعث بن سکتی ہے۔ اور اسی احتیاط کے پیشِ نظر بچوں کو بارش کے کھڑے پانی میں کبھی کھیلنے مت دیں۔

بارش میں بھیگتے بجلی کے کھمبے اور تاریں

بیماریوں اور انفیکشنز سے بچاؤ

برسات کے موسم میں مخلتف بیماریاں اور انفیکشنز آسانی سے حملہ آور ہوتے ہیں، کیونکہ اس موسم میں مچھر، کیڑے مکوڑے اور حشرات پیدا ہوتے ہیں جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

آںکھوں میں انفیکشن، ملیریا اور جِلدی بیماریاں عام ہو جاتی ہیں۔ پیٹ کی خرابی جن میں ہیضہ اور ڈائریا شامل ہیں لوگوں کو زیادہ تر متاثر کرتی ہیں۔

ایسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ضروری ہے کہ پینے کے لیے صاف یا اُبال کر پانی استعمال کیا جائے، مکھیوں اور مچھروں سے بچاؤ کے لیے کھانے پینے کی اشیا کو ڈھانپ کر رکھا جائے، کچن کی صفائی کا ضرورت سے زیادہ خیال رکھا جائے۔

مون سون کیڑوں مکوڑوں کی افزائش کا موسم ہے۔ مچھر کے باعث ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ کیڑے مکوڑوں سے بچاؤ کے لیے الیکٹرانک ریکٹ، بلب، کوائل یا سپرے کا استعمال ضرور کریں، سپرے کا استعمال ہمیشہ اپنا منہ اور چہرہ ڈھانپ کر کریں کیونکہ اس میں موجود زہریلے کیمیکل سانس کے ساتھ اندر جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

 

پودے کی شاخ پر بارش کے قطرے اور لیڈی برڈ

فالتو روشنیوں سے اجتناب

آپ نے غور کیا ہو گا کہ برسات کے موسم میں گھر میں روشن بلب اور لائٹس پر مچھر اور کیڑے مکوڑے آتے ہیں، اور یوں گھر کے دیگر حصوں میں بھی انہیں داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے جو بیماریوں کے پھیلاؤ کا آسانی سے سبب بنتا ہے۔ ہمیشہ گھر کی فالتو روشنیاں آف رکھیں، خاص طور پر وہ روشنیاں جو گھر کے اندرونی حصوں میں نصب ہوں۔ ضرورت کے تحت کم سے کم روشنیوں کا استعمال کریں اور لمبی بازو کی قمیض پہنیں تاکہ تمام اہلِ خانہ کیڑے مکوڑوں کے حملے سے محفوظ رہیں۔

 

روشن بلب کے گرد اڑتے پتنگے

 

الیکٹرانک آلات آف رکھیں

ہمارے ہاں کچھ کام اتنے عام اور بےضرر تصور کیے جاتے ہیں جن سے نقصان اٹھانے کے بعد ہی احتیاط کرنے کا سوچا جاتا ہے۔ ٹی وی دیکھنے والے گھر کے بیشتر افراد ریموٹ کنٹرول سے آن، آف اور چینلز کی تبدیلی کرتے ہیں، لیکن سوئچ بورڈ سے پلگ نکالنا ہمیں ایک فالتو کام لگتا ہے، جو وجہ بن سکتا ہے کرنٹ لگنے کا اور مزید یہ کہ ہر وقت سٹینڈ بائی پوزیشن میں رہنے والا ٹی وی آپ کے بل میں خاموش اضافہ کرتا ہے چاہے بہت کم ہی کیوں نہ ہو۔

اس کے علاوہ ضروری ہے کہ موبائل فون چارج ہونے کے بعد چارجر بھی فوری ہٹا دیں اور اسی طرح وہ دیگر الیکٹرانک آلات جو فی الوقت آپ کے استعمال میں نہیں یا ضروری نہیں فوری آف کر دیں اور اَن پلگ کر دیں کیونکہ گھر کی وائرنگ میں کرنٹ آنے سے کوئی بھی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔

 

A man is switching off button

ڈرائیونگ میں احتیاط

بارش میں گاڑی نہ چلانا سب سے بڑی احتیاط ہے، لیکن راستے میں شروع ہونے والی بارش اور ضروری امور کے تحت بارش میں باہر نکلنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ بھاری اور اونچی گاڑیوں سے دور رہیں، تیز بارش کی صورت میں ہیڈ لائٹس آن رکھیں تاکہ سامنے سے آنے والی ٹریفک کو آپ بآسانی نظر آئیں اور ڈرائیو شروع کرنے سے قبل بریک اور وائپرز ضرور چیک کریں۔ گاڑی چلاتے ہوئے موٹر سائیکل سواروں کا خیال رکھیں اور ان سے جلدی راستہ لینے کے لیے بلاوجہ ہارن بجانے سے پرہیز کریں کیونکہ بائیک گیلی سڑک پر بآسانی پھسل جاتا ہے اور حادثات کا سبب بنتا ہے۔ اگر آپ خود موٹرسائیکل چلاتے ہیں تو آہستہ رفتار اپنائیں تاکہ اپنے اور دوسروں کے لیے پریشانی کا سبب نہ بنیں۔

 

بارش کے پانی میں سڑک سے گزرتی کار

بچوں کے لیے ضروری احتیاط

بچے بارش کے گرویدہ ہوتے ہیں اور برستی بارش میں نہانے کے شوقین ہوتے ہیں، اس موسم میں کھیل کود ان کا پسندیدہ عمل ہوتا ہے، اور ان ہی وجوہات کی بنا پر وہ کسی بیماری یا حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ بچوں کو گھر تک محدود رکھیں، بند جوتوں اور صاف لباس کا استعمال کریں۔ گھر سے باہر جانے پر درختوں، دیواروں اور الیکٹرک پولز کو ہاتھ نہ لگانے دیں۔

 

بارش کے پانی میں کاغذ کی کشتی سے کھیلتا ہوا چھوٹا بچہ

بازاری کھانوں سے پرہیز

برسات کے موسم میں سب سے خطرناک اور جان لیوا باہر کے مضرِ صحت کھانے ہو سکتے ہیں جو چٹ پٹے اور مزیدار ضرور ہوتے ہیں لیکن حفظانِ صحت کے اصولوں پر مبنی نہیں ہوتے۔  ناقص تیل میں فرائی کی جانے والی چیزیں اور غیر معیاری صفائی پیٹ کی بیماریوں کا سبب بن کر آپ کو بیمار کر سکتی ہے۔

ضروری ہے کہ بارش کے موسم میں گھر میں بنے کھانوں کو ترجیح دی جائے۔ اور موسمِ برسات کے روایتی پکوان کو اہمیت دی جائے۔

 

بارش کے موسم میں میز پر رکھے چائے کے دو خالی کپ

موسمِ برسات کے پسندیدہ پکوان

برسات کا موسم ہو اور مزے مزے کے پکوان تیار نہ ہوں ایسا شاید ہی کسی گھر میں ہوتا ہو، پاکستانی گھرانوں میں سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے امور میں برسات کے پکوان کا شمار ہوتا ہے۔ جن میں کچھ پکوان بہت کم قیمت اور گھر میں موجود اجزاء سے ہی بآسانی تیار ہو جاتے ہیں۔

پکوڑے اور چائے

پکوڑوں اور چائے کو بارش کے موسم میں پسند کیے جانے اور بنائے جانے والے کھانوں میں درجہ اول حاصل ہے۔ ادھر بارش شروع ہوئی اور ادھر پکوڑوں کی فرمائش ہونے لگی۔ اور چائے کے شوقین افراد کے لیے پکوڑوں کے ساتھ چائے ہو تو مزہ اور دوبالا ہو جاتا ہے۔

 

 

پکوڑے، چائے کا کپ اور کیچپ

 

گُلگُلے

کیا آپ نے کبھی گُلگُلے کھائے ہیں؟ یہ برسات میں پسند کی جانے والی وہ میٹھی ڈش ہے جو بچے بہت شوق سے کھاتے ہیں۔ انہیں میدہ، چینی، سونف اور دیگر اجزاء ملا کر بنایا جاتا ہے جو دیکھنے میں پکوڑوں جیسے لیکن کھانے میں میٹھے، نرم اور مزیدار ہوتے ہیں۔

پھلوں کا بادشاہ آم

آم نہ صرف پھلوں کا بادشاہ ہے بلکہ گرمیوں کی وہ سوغات ہے جو لوگ تحفتاَ بھی ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں۔ بچوں اور بڑوں کا پسندیدہ پھل ہونے کی بنا پر اسے موسمِ برسات میں بہت شوق سے کھایا جاتا ہے۔ آموں کی بے شمار اقسام کے مختلف اور منفرد ذائقے ہیں۔

 

لکڑی کی میز پر رکھے پیلے رنگ کے آم

آلو کے پراٹھے، بیسن کی روٹی

بچوں اور بڑوں میں آلو کے پراٹھے بہت مقبول ہیں اور بارش کےموسم میں فرمائش کیے جانے والے کھانوں میں سے ایک ہیں، پودینے اور ٹماٹر کی چٹنی پراٹھوں کا لطف دوبالا کر دیتی ہے۔ اسی طرح بیسن کی روٹی گھر کے بڑے اور بزرگ شوق سے نوش فرماتے ہیں اور زیادہ تر ساگ کے ساتھ کھانا پسند کرتے ہیں۔

 

 

آلو کے پراٹھے، مکھن ، پیاز اور ہری مرچ

 

سُوجی کا حلوہ

یوں تو پاکستان کے روایتی کھانوں میں حلوہ جات کا بڑا عمل دخل ہے اور ان کی بے شمار اقسام ہیں۔ لیکن مون سون اور ساون کے موسم میں جلدی اور آسانی سے تیار ہو جانے والا سوجی کا حلوہ بچے اور بڑے دونوں پسند کرتے ہیں۔

 

سوجی کا حلوہ

گھر کے باغیچے میں درخت ہو اور اس پہ جھولا نہ ہو، برسات کے موسم کے ساتھ بہت بڑی بے مروتی ہے۔

دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا

اس طرح برسات کا موسم  کبھی آیا  نہ  تھا

قتیل شفائی

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔