پلاٹ کی خریداری کے پیچیدہ عمل سے نمٹنے کی چند اہم تدابیر

ریئل اسٹیٹ کے پُر تعیش اور منافع بخش کاروبار میں پراپرٹی یا پلاٹ کی خرید و فروخت بلاشبہ ایک کھٹن مرحلہ ہے۔ پلاٹ کی خرید و فروخت کے حوالے سے خریدار یا فروخت کنندہ کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت سے متعلق بنیادی معلومات اور اس سارے عمل کو آسان بنانے اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں سے نمٹنے کے لیے چند ایسے اہم ترین عوامل کا خیال رکھنا ضروری ہے جو خریدار یا پلاٹ کے فروخت کنندہ کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی مالی پریشانی یا فراڈ سے بچنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔

پراپرٹی یا پلاٹوں کی خرید و فروخت اب باقاعدہ طور پر ایک صنعتی کاروبار کا درجہ اختیار کر چکی ہے اور یہی وجہ ہے کہ پلاٹوں کے کاروبار میں سرمایہ کاری کے حوالے سے خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

آج کی اس تحریر میں ہم اپنے قارئین کے ساتھ پلاٹ کی خرید و فروخت کے پیچیدہ عمل کے حوالے سے چند اہم تدابیر پر تبادلہ خیال کرنا چاہیں گے جنھیں اپناتے ہوئے آپ ریئل اسٹیٹ میں محفوظ سرمایہ کاری کو نہ صرف یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ خرید و فروخت کے اس پیچیدہ عمل کو بطریقِ احسن پایہ تکمیل تک پہنچاتے ہوئے پریشانی سے بھی بچ سکتے ہیں۔

پراپرٹی اور بالخصوص پلاٹ کی خریداری کے عمل کو ابتدائی طور پر تین بنیادی مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پلاٹ کی بلاواسطہ خرید کے عمل کے دوران پہلے مرحلے میں آپ کو پراپرٹی ڈیلر کی خدمات حاصل کرنا ہوتی ہیں۔ دوسرے مرحلے میں ایک سرکاری دستاویز بیعنامہ یا اقرارنامہ اور تیسرے مرحلے کے دوران اس پلاٹ کی رجسٹری کا حتمی دستاویز حاصل کرنا ہوتا ہے۔

یہاں ہم یہ کوشش کریں گے کہ ان تمام مراحل کو انتہائی اختصار اور آسان فہم میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اس سے استفادہ کرتے ہوئے پلاٹوں کی خرید و فروخت کے عمل کو بغیر کسی حجت کے پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں۔

پراپرٹی ڈیلر کی دلچسپی کا فطری محور صرف کمیشن

پراپرٹی ڈیلر کا آفس سہولیات کا ایسا مرکز ہوتا ہے جو خریدار یا کرایہ دار اور فروخت کنندہ کے مابین ایک پُل کا کردار ادا کرتا ہے۔ پراپرٹی ڈیلر کا یہ فرض ہے کہ وہ پوری ایمانداری کے ساتھ فروخت کے لیے دستیاب پلاٹ کے تمام مثبت اور اسی طرح منفی پہلو خریدار کے سامنے رکھے اور پھر یہ فیصلہ اُس پر چھوڑ دے کہ وہ پلاٹ کی خریداری میں دلچسپی رکھتا ہے یا نہیں۔

عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ پراپرٹی ڈیلر کا سب سے پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ آپ کی مالی گنجاءش کتنی ہے؟ اور یہی سوال بنیادی طور پر خریدار کی ذہانت کا امتحان ہوتا ہے۔ خریداری کا یہ بنیادی اصول ہے کہ آپ فروخت کنندہ کو اپنی پسند نا پسند یا اس اراضی کے رقبے سے متعلق اپنی رائے تو دے سکتے ہیں لیکن مالی گنجائش سے متعلق کبھی بھی اپنے خیالات کا تبادلہ مت کریں۔

پراپرٹی ڈیلر سے کمیشن کی رقم پیشگی طے کر لیں

پراپرٹی کے حوالے سے یا کسی بھی پلاٹ میں دلچسپی ظاہر کرنے سے پہلے آپ لازمی طور پر پراپرٹی ڈیلر سے کمیشن کی رقم طے کر لیں۔ اپنے پسندیدہ پلاٹ میں دلچسپی ظاہر کرنے سے پہلے جب آپ ڈیلر کے ساتھ کمیشن طے کریں گے تو ممکن ہے کہ وہ ایک فیصد کمیشن پر ہی رضامند ہو جائے تاہم پلاٹ کی خریداری میں دلچسپی کے اظہار کے بعد یہ ممکن ہے کہ پراپرٹی ڈیلر آپ سے زیادہ کمیشن کا مطالبہ کرے۔ یاد رہے کہ کمیشن کی یہ رقم عمومی طور پر پلاٹ کی طے شدہ رقم کے بیعانہ کی ادائیگی پر ہی وصول کر لی جاتی ہے۔

موقع پر پہنچ کر پلاٹ کے محلِ وقوع کا تفصیلی جاءزہ

خریدار کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ جس پلاٹ کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کر رہا ہے اس پلاٹ کے محلِ وقوع کا موقع پر جا کر تفصیلی جائزہ لے۔ پلاٹ کی قیمت کا اصل تعین اس جگہ کے محلِ وقوع پر منحصر ہے جیسا کہ وہ پلاٹ مارکیٹ یا بینادی سہولیاتِ زندگی سے کتنا قریب ہے، پلاٹ کی اپنی موجودہ اور اس کے گردو نواح کی گلیوں کی پیمائش، پلاٹ کی ترتیب جیسے چوکور، مستطیل یا مثلث وغیرہ۔ اسی طرح پلاٹ کی گہرائی، اس کے اطراف میں تعمیراتی سرگرمیاں، پلاٹ کے فرنٹ کی پیمائش وغیرہ چند ایک ایسی معلومات ہیں جو پلاٹ کی قیمت کے تعین میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

سودا طے ہونے سے قبل پلاٹ کی فرد کا دستاویز لازمی ملاحظہ کریں

پلاٹ کا سودا طے ہونے سے قبل مطلوبہ پراپرٹی کی فرد کا اچھی طرح جائزہ لے لیں۔ بنیادی طور پر فرد ایک ایسا سرکاری دستاویز ہوتا جس میں مطلوبہ پلاٹ کا محل وقوع اور اس کی اصل پیمائش درج ہوتی ہے۔ اس وجہ سے پلاٹ کی ڈیل کو حتمی شکل دینے سے قبل فرد کو اچھی طرح پڑھ لیں اور متعلقہ پٹواری سے اس کی تصدیق لازمی کروائیں۔ بعض اوقات فرد میں پلاٹ کی پیمائش میں ملحقہ گلیوں یا پراپرٹی کا کچھ حصہ شامل کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کی جا سکے تاہم بعد ازاں جب رجسٹری ہو جاتی ہے تو یہ پتا چلتا ہے کہ قابلِ فروخت رقبہ جو ملکیت میں منتقل ہوا ہے وہ کم ہے۔ اصل فرد سے آپ کو یہ اندازہ بھی ہوسکے گا کہ پلاٹ کی کیا کیفیت ہے اور یہ فروخت کنندہ کے نام پر ہے یا اس کا اصل مالک کوئی اور ہے وغیرہ۔

بیعنامہ فروخت کنندہ کی جانب سے ایک موثر اقرارنامہ

مذکورہ دستاویز خریدار کے نام حاصل کیے گئے ایک (غیر عدالتی) اسٹام پیپر پر لکھی ہوئی قانونی تحریر ہوتی ہے۔ جس میں فروخت کنندہ کی طرف سے اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ مخصوص پلاٹ جس کا حدود اربعہ اور جملہ تفصیلات یہ ہیں کہ میں با رضا و رغبت اتنی رقم کے عوض یہ پلاٹ فروخت کرتا ہوں۔ اس میں یہ بھی لکھا جاتا ہے کہ کتنی رقم آپ ایڈوانس ادا کریں گے اور بقایا کس تاریخ کو ادا کی جائے گی۔ یہ جو رقم آپ پیشگی ادا کر رہے ہیں اسے بیعانہ کہتے ہیں۔

فروخت کنندہ کی جانب سے ملکیتی حقوق خریدار کو منتقل کرنے کا دستاویز یعنی رجسٹری

عمومی طور پر بقایا جات کی ادائیگی سے قبل آپ پراپرٹی ڈیلر یا مالک کو فرد مہیا کرنے کا کہتے ہیں۔ یہ فرد برائے بیع ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ عام فرد جو ریکارڈ کے لئے ہوتی ہے وہ رجسٹری کے لئے کارگر نہیں ہوتی۔  فرد برائے بیع لینڈ ریکارڈ، کمپیوٹر سیکشن یا پھر پٹواری سے حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسٹام پیپر لکھوانے سے پہلے تمام شرائط طے کر لی جائیں کہ رجسٹری کب ہو گی؟ رجسٹری اخراجات کون ادا کرے گا اور فرد برائے فروخت مہیا کرنا کس کی ذمہ داری ہے۔

کاغذات جب تیار ہوجائیں تو بیانات کا مرحلہ آتا ہے چونکہ سارے معاملات پراپرٹی ڈیلر کروا رہا ہوتا ہے لہذا کاغذات کی تیاری کے بعد ہی وہ دستخط یا نشان انگوٹھے کے لئے وثیقہ نویس سے ملواتا ہے۔ بیان کے لئے اصل مالک یا اس کے مختارِ عام کو کچہری یا متعلقہ جگہ پر خود آنا پڑتا ہے۔ یہاں کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کے لئے آپ کی ڈیجٹل فوٹو وغیرہ لینے کے بعد بیانات کا عمل ہوگا۔ جس کے بعد رجسٹری کا عمل مکمل ہوجائے گا۔ کچھ دن بعد آپ کو رجسٹری کی ایک کاپی مل جائے گی جس پر انتقال کروایا جاسکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے