پاکستان میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا مستقبل

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کسی بھی مُلک کا معاشی پہیہ چلانے کی سکت رکھتا ہے۔ آپ ایک فعال ریئل اسٹیٹ سیکٹر کو ایک فعال معیشت اور ایک خوشحال معاشرے کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔ ہم میں سے بیشتر لوگ یہ سمجھتے ہیں ریئل اسٹیٹ محض غیر منقولہ جائیداد کی خرید و فروخت کا نام ہے تاہم ایسا نہیں ہے۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی بنیاد تو اسی بات میں ہے تاہم 250 سے زائد الائیڈ انڈسٹریز کے ساتھ یہ سیکٹر اس بات کی گارنٹی دیتا ہے کہ اس کے فعال رہنے سے روزگار کے مواقع پیدا ہونا اور خوشحالی کا دور دورہ ہونا یقینی ہے۔

حال اور مستقبل

پاکستان جیسے ملک میں مستقبل ہمیشہ کئی سوالات کی دھند میں ہوتا ہے۔ سیاسی عدم استحکام اور معاشی دگرگوں کی صورتحال کی وجہ سے ہم لوگ کافی حد تک مستقبل کے بارے میں پریشان رہتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں ہم نے دیکھا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہمارے معاشی سسٹم میں کلیدی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حکامِ بالا کو ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے اصلی پوٹینشل کا ادراک کرنے کا احساس ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کورونا وبا میں تعمیراتی صنعت کو ایک مراعاتی پیکج، ون ونڈو آپریشن کا قیام، پچاس لاکھ گھروں کے قیام کا اعلان اور اس ضمن میں ہاؤسنگ و تعمیرات کیلئے ایک باقاعدہ قومی رابطہ کمیٹی کی تشکیل، یہ وہ اقدامات ہیں جن کا اس سیکٹر پر ہر لحاظ سے ایک اچھا اثر ہوا۔ یہ انہیں اقدامات کا نتیجہ ہے کہ بہت سے معاشی اشاریے جو اس سیکٹر سے جڑے تھے وہ پری کویڈ لیولز پر پہنچ گئے ہیں۔

ٹیکنالوجی کا استعمال

ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے مستقبل کے بارے میں کوئی بھی شخص اپنی رائے دے سکتا ہے مگر اس کی رائے کو حتمی نہیں مانا جاسکتا۔ تاہم چند پوائنٹس ایسے ہیں جن کی صداقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں ٹیکنالوجی کا استعمال اور اس استعمال سے اس سیکٹر ہے حالات و واقعات کا بدلاؤ، اس سے انکار نہیں ہوسکتا۔ انویسٹرز کو مزید آن لائن لسٹنگ پلیٹ فارمز، اسمارٹ فون ایپس، ورچول ریئلٹی اور بلاک چین ٹیکنالوجی کیلئے تیار ہونا چاہیے۔ مزید آن لائن لسٹنگ پلیٹ فارمز سے لوگوں کو اس بات کا خوب احساس ہوگا کہ اُن کے پاس آپشنز کی بہتات ہے اور اُنہیں جو چاہیے وہ اُنہیں مل کر رہے گا۔ اسی طرح سے ورچول ریئلٹی بھی ریئل اسٹیٹ کی دنیا کو آنے والے ایام میں متاثر کرے گی۔ تھری ڈی والک تھروز، 360 ڈگری تصاویر ایک عام بات ہوجائےگی۔

شہری مراکز کی اہمیت میں اضافہ

عالمی جریدے فوربز کے مطابق لوگوں میں ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ سے متعلق جلدی ختم ہوجائےگی۔ شہری مراکز مضبوط اور سالم رہیں گے اور اُن کی قیمتیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہیں گی۔ فوربز کہتا ہے کہ لوگ افورڈایبل ہاؤسنگ کی طرف پہلے سے کئی زیادہ مائل ہوں گے۔ ایسے میں کرایہ داری کی اہمیت بڑھے گی اور کرایہ داری کے قوانین بہت مضبوط کردیئے جائیں گے۔ فوربز کہتا ہے کہ دنیا میں آبادی بڑھ رہی ہے۔ وسائل اور مسائل کے بیچ پنپتے اس دور میں لوگ شہری مراکز میں ہر صورت رہنے کو ترجیح دیں گے چاہے اُنہیں چھوٹے سے چھوٹے ہاؤسنگ یونٹ میں ہی کیوں نہ رہنا ہو۔

ملٹی فیملی گھروں کی بڑھتی ڈیمانڈ

اسی طرح سے مشہور ریئل اسٹیٹ ویب سائٹ زلو کے مطابق ملٹی فیملی گھروں کی ڈیمانڈ میں اضافہ ہوگا، سنگل فیملی گھروں کی سپلائی کم سے کم ہوجائےگی اور ان کی قیمتیں بڑھیں گی۔ کورونا وبا کے بعد امریکا میں یہ ٹرینڈ رہا اور آہستہ آہستہ اس ٹرینڈ میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا جائیگا۔ اگر کچھ عالمی منظر نامے کی بات کی جائے تو ذلو کے مطابق امریکا میں افورڈایبل ہاؤسنگ ناپید ہوجائےگی، قیمتیں عام امریکی شہری کی پہنچ سے دور ہوجائیں گی، مارکیٹ میں نئے سرمایہ کاروں کا طلوع ہوگا اور یوں یہ ٹرینڈ آئندہ ایک دو سالوں تک رہے گا۔ فوربز کی تمام ریئل اسٹیٹ سیکٹرز کیلئے ایک پیش گوئی ہے کہ ریئل اسٹیٹ میں آہستہ آہستہ ایجنٹس اور مڈل مین کا کردار کم ہوجائےگا۔ پراپرٹی مارکیٹس میں اگلے دس سالوں میں ایجنٹس کے کردار میں کمی واقع ہوگی کیونکہ ریئل اسٹیٹ پورٹل خود ہی کیش اونرز کو اپروچ کریں گے اور ڈیلنگ سمیت دیگر معاملات ڈائریکٹ طے ہوں گے۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ فوربز کہتا ہے کہ اگلے چند سالوں میں ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کا کردار بہت اہم ہوگا لیکن جس جانب یہ ٹرینڈ چل پڑا ہے ایسے میں آپ اس بات کو نوشتہ دیوار سمجھیں کہ آہستہ آہستہ معاملات ڈائریکٹ ہوجائیں گے اور ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی اہمیت میں کمی واقع ہوگی۔ اسی طرح سے آہستہ آہستہ لوگوں کا شہری مراکز سے ذہن ہٹے گا، وہ مضافاتی علاقوں کا رخ کریں گے، آبادی بڑھے گی اور شہر پھیلاؤ کا شکار ہوں گے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔