عالمی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے پاکستانی مارکیٹ پر اثرات

جب انٹرنیٹ کا استعمال بڑھا، ساتھ ہی اِس کہاوت کا استعمال بھی زور پکڑنا شروع ہوا کہ دنیا ایک گلوبل ویلیج ہے۔ جیسا کہ عمومی خیال ہے گاؤں میں ہر شخص کو دوسرے کی زندگی، معاملات اور معمولات کی مکمل سُن گُن ہوتی ہے، ویسے ہی بذریعہ انفارمیشن ٹیکنالوجی، دنیا میں بسنے والا ہر شخص دوسرے سے جُڑا ہوا ہے۔ کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے میں جو سب سے بڑا چیلنج پیش آیا وہ اسی میل ملاپ کو ختم کرنا تھا، شاید اسی لیے چین کے شہر ووہان سے نمودار ہونے والا یہ وائرس پوری دنیا میں دنوں کے حساب سے پھیلا کیونکہ دنیا واقعتاً ایک گلوبل ویلیج ہے۔

گلوبلائزیشن کے معنی کیا؟

آج کل یہاں مہنگائی کی جو توجیہات پیش کی جارہی ہیں، اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہماری معیشت درآمدات پر زیادہ انحصار کرتی ہے لہٰذا عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے کا اثر پاکستان پر بھی ہوتا ہے۔ عالمی منڈی کا ذکر ہم خام مال، ادویات اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذکر میں خصوصاً سنتے ہیں۔ ابتدائی چند سطور میں ہم یہ ذکر کر چُکے کہ گلوبلائزیشن کا یہ سفر کس طرح سے طے ہوا اور دنیا کے سبھی ممالک کیسے ایک اندیکھی لڑی میں پروے ہوئے ہیں جہاں ایک میں تبدیلی کا اثر دوسرے پر ضرور ہوتا ہے۔ آج کی تحریر میں مگر عالمی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ میں ہونے والی اونچ نیچ کے پاکستانی مارکیٹ پر اثرات کے بارے میں ہے۔ رکس گلوبل کمرشل پراپرٹی مانیٹر کا کہنا ہے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں عالمی طور پر تیزی اور مندی کے رجحانات کا اثر کسی نہ کسی حد تک تمام ممالک کے ریئل اسٹیٹ پر ہوتا ہے۔ اسی طرح سے کسی نہ کسی سطح پر ایک دوسرے کے ساتھ ریئل اسٹیٹ ٹرینڈز کی ایکسچینج بھی ہوتی رہتی ہے۔

کچھ عالمی حقائق کی روشنی میں

اِس سیکٹر کی عالمی سطح پر اہمیت کا اندازہ اسی بات سے لگائیں کہ سال 2020 میں عالمی ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا حجم 326.6 ٹریلین ڈالر تھا۔ کچھ مزید چونکا دینے والے حقائق کے مطابق گلوبل ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کا 40 فیصد حصہ ایشیا پیسیفک ریجن کنٹرول کرتا ہے جبکہ مغربی یورپ کے پاس 24 فیصد مارکیٹ شیئر ہے۔ چین میں 1.4 ارب لوگ رہتے ہیں اور یہ گلوبل ریزیڈینشل مارکیٹ کا 30 فیصد حصہ اپنے پاس رکھتا ہے۔ امریکہ اس ضمن میں دوسرے نمبر پر آتا ہے جو کہ 11 فیصد حصے پر قابض ہے۔ چین، امریکہ، جاپان، جرمنی، برطانیہ، فرانس، ساؤتھ کوریا، کینیڈا، اٹلی اور آسٹریلیا تقریباً 75 فیصد گلوبل ریزیڈینشل ریئل اسٹیٹ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ عالمی ریئل اسٹیٹ میں افریقہ کے پاس سب سے کم مارکیٹ ویلیو ہے۔

فی کس آمدن کا ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے تعلق

رئیل اسٹیٹ میں قوتِ خرید ہی سب سے اہم پہلو ہے جس کا ڈائریکٹ تعلق فی کس آمدن یعنی جی ڈی پی کے ساتھ ہے۔ جہاں جہاں فی کس آمدنی زیادہ ہوگی اور لوگ خوشحال ہوں گے، ہمیں اس بات کے آثار وہاں کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے نظر آئیں گے۔ عالمی بینک کے مطابق کسی بھی ملک کی معاشی ویلیو کا 70 سے 80 فیصد حصہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر ہولڈ کرتا ہے۔ آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے مختلف ممالک کو کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کی کمی کا سامنا رہتا ہے تاہم اسی ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے نہ صرف مختلف ملکوں میں ہاؤسنگ شارٹ فال کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوسکتے ہیں اور معاشی نمو کیلئے درکار ماحول کا فروغ بھی ہوسکتا ہے۔

عالمی ٹرینڈز اور پاکستان

کورونا وبا نے عالمی سطح پر ہر شعبہ ہائے زندگی کو متاثر کیا تاہم ہم نے دیکھا کہ پاکستان سمیت مختلف ممالک نے لاک ڈاؤن کے بعد تعمیراتی سیکٹر کو کھول کر ہی کورونا وائرس کے معاشی اثرات کا مقابلہ کیا۔ عالمی سطح پر ہم نے دیکھا کہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں کوویڈ 19 کے دوران ریزیڈینشل فلیٹس اور چھوٹے یونٹس کی قدر و قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تو پاکستان میں بھی یہی پیٹرن نمایاں رہا۔ اسی طرح سے عالمی طور پر ورک فرام ہوم ماڈل کی وجہ سے کمرشل پراپرٹیز کی قیمتوں میں فرق ضرور پیدا ہوا اور یہی اثر پاکستان پر بھی رہا۔ اب لوگ اپنے گھروں کی تعمیر میں دفتری اُمور کو نمٹانے کیلئے ایک مخصوص جگہ ضرور رکھتے ہیں۔ کورونا وبا کے دوران جہاں مختلف ممالک کی ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹس میں کمی ہوئی، وہیں متحدہ عرب امارات نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے دس سالہ ریزیڈنسی ویزا پروگرام شروع کیا اور قوانین میں نرمی لائی تاکہ ریئل اسٹیٹ سرمایہ کاری کا فروغ ہوسکے۔ پاکستان کے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی گزشتہ تین برسوں میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ون ونڈو آپریشن، ٹیکس مراعات، مارگیج فنانسنگ، کم لاگت ہاؤسنگ یونٹس کے وسیع پلانز، کیڈسٹرل میپنگ، ماسٹر پلانز کی از سر نو تیاری، قبضہ مافیا سے اراضی کا واگزار ہونا اور قوانین کو جدید خطوط پر لے کر آنا شامل ہے جو کہ سب اُس عالمی پیٹرن کا حصہ ہے جہاں ہم ریئل اسٹیٹ کے حقیقی پوٹینشل کے ادراک سے ملکوں کو خوشحالی کے منازل طے کرتا دیکھتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے