پاکستان میں پہلے پراپرٹی ویریفیکیشن سینٹر کا افتتاح، وابستہ توقعات اور چند حقائق

کیپیٹل ایڈمنسٹریشن نے اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے پراپرٹی ویریفیکیشن سینٹر کا افتتاح کردیا ہے۔ یہیں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہمارے ریئل اسٹیٹ سیکٹر میں یومیہ بنیادوں پر 4 سے 5 ارب روپے غیر قانونی اور غیر مصدقہ ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کے گرداب میں پھنستے ہیں۔ اگر ان ابتدائی دو جملوں کو ملا کر پڑھا جائے تو ایسے فریم ورک کی ضرورت تھی کہ جس سے غیر قانونی پراجیکٹس کی پہچان ہوسکے اور لوگوں کا قیمتی سرمایہ ڈوبنے سے بچایا جاسکے۔

اس سسٹم کے اجراء سے پراپرٹی کی غیر قانونی خرید و فروخت کی روک تھام یقینی ہوگی اور لوگ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کے دفتر سے کسی بھی ریئل اسٹیٹ پراجیکٹ میں اپنا سرمایہ لگانے سے قبل اُس پراپرٹی کی قانونی حیثیت کی جانچ بھی کرسکیں گے۔

پاکستان میں ریئل اسٹیٹ سیکٹر کا پوٹینشل

مُلکی ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے بارے میں جس سے بھی پوچھا جائے، وہ اس میں پاکستان کی ترقی کے بے تحاشا پوٹینشل کی بات کرتا ہے مگر ساتھ ہی غیر قانونی اور غیر مصدقہ ریئل اسٹیٹ پراجیکٹس کا شکوہ کرتا بھی دکھائی دیتا ہے۔ تمام باتوں سے قبل مگر ریئل اسٹیٹ سیکٹر کے پوٹینشل کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریئل اسٹیٹ پاکستان میں زراعت کے بعد سب سے میجر امپلائر ہے۔ ماہرین کے مطابق ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی روانی سے تقریباً 250 الائیڈ انڈسٹریز کا پہیہ چلتا ہے اور اس کی انڈسٹری مارکیٹ کی مجموعی ویلیو ایک ٹریلین ڈالر ہے جو کہ مُلکی جی ڈی پی سے تین گنا زیادہ ہے۔

کورونا وبا میں جہاں ہر طرف جمود نے ڈیرے ڈال رکھے تھے، پاکستان میں معاشی نظام چلانے کیلئے سب سے پہلے کنسٹرکشن سیکٹر کے دروازے کھولے گئے۔ ہنرمند اور غیر ہنرمند افراد کیلئے بیش بہا روزگار کے مواقع لیے یہ سیکٹر معاشی نمو میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ علاوہ ازیں، سی پیک کی ملکی ڈیویلپمنٹ کے سفر میں شمولیت سے ریئل اسٹیٹ سیکٹر کی مزید ترقی یقینی ہے۔ مگر پاکستان کی کُل اراضی کا صرف 0.5 حصہ پلانڈ ہے جس سے یہاں بغیر پلاننگ کی تعمیرات ایک بڑے پیمانے پر دور دورہ ہے۔

کیڈسٹرل میپنگ سے سامنے آنے والے حقائق

مُلک بھر میں کیڈسٹرل میپنگ کے ابتدائی مرحلے کی تکمیل کے بعد یہ حقائق سامنے آئے ہیں کہ تقریباً 5.6 ٹریلین مالیت کی اراضی پر لینڈ مافیا قابض ہے۔ یہ بات گزشتہ دنوں وزیرِ اعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ڈیجیٹل میپنگ سروے شیئر کرتے ہوئے کہی۔ اُن کا کہنا تھا کہ صرف لاہور، اسلام آباد اور کراچی میں 2.63 ٹریلین مالیت کی سرکاری اراضی پر لینڈ مافیا قبضہ ہے۔

یاد رہے کہ کیڈیسٹرل میپنگ سے سامنے آنے والے ان حقائق کے بعد وزیرِ اعظم نے لینڈ مافیا کے خلاف بھرپور کارروائی کا اعلان بھی کیا ہے اور ساتھ ہی صوبائی حکومتوں کو کیڈیسٹرل میپنگ مکمل کرنے کیلئے 2 ماہ کی ڈیڈ لائن بھی دی۔ اس کے بعد بڑے پیمانے پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کا آغاز ہوچکا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ کا اصولی فیصلہ

پی وی سی کے افتتاح کے بعد ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات کی میڈیا کانفرنس کی جس میں اُن کا کہنا تھا بہت سی سکیمیں ہیں جو کلیم تو یہ کرتی ہیں کہ وہ اسلام آباد میں ہیں لیکن وہ وہاں موجود نہیں ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ بہت سی منظور شدہ سوسائیٹیز کی جانب سے بھی دھوکہ دہی کی جاتی ہے۔ پاکستان میں پہلے پراپرٹی ویریفیکیشن سینٹر کے قیام پر اُن کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کسی بھی ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ لینا چاہتا ہے تو وہ یہاں سے معلومات چیک کر سکتا ہے کیونکہ سی ڈی اے کا تمام ڈیٹا لیکر اس سسٹم میں ڈال دیا گیا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ فارم فل کرکے معلومات لی جائیں گی تو ڈی سی آفس کی جانب سے میسج موصول ہوجائے گا اور 24 گھنٹوں کے اندر پراپرٹی کی تفصیلات کے حوالے سے معلومات فراہم کردی جائیں گی۔ علاوہ ازیں اُن کا کہنا تھا کہ سسٹم کو فی الحال اسلام آباد کے لیے لانچ کر دیا گیا ہے اور عوام کے لیے سہولت ہے کہ آئندہ ہفتے تک پورٹل پوری دنیا کے لیے اوپن کردیا جائے گا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں غیر قانونی سوسائٹیز اور پراجيکٹس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔

ایک اہم اعلان کے مطابق غیر قانونی سوسائٹی کے ہر طرح کے اشتہارات پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے اور غیر قانونی پراجیکٹس کے اشتہارات چلانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔