مکانات اور تعمیرات کے شعبے  میں کمرشل بینکوں سے فنانسنگ کا بڑھتا رحجان

دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور معاشی عدم استحکام کے باعث جہاں ایک عام انسان کے لیے بنیادی ضرویات جیسے صحت، تعلیم اور مناسب خوراک کی دستیابی کے فقدان کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک کے شہری اضراب کا شکار ہیں وہاں ترقی کے موجودہ مسابقتی دور میں کسی بھی شخص کے لیے اپنی بساط کے مطابق بھی ذاتی گھر کی خرید یا تعمیر ایک خواب بن کر رہ گیا ہے۔

بالخصوص ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان میں ملازمت پیشہ افراد کی اکثریت ساری عمر اپنی ماہانہ آمدن سے ایک ایک روپیہ جمع کرنے کے باوجود بھی اپنے خاندان کے لیے ذاتی گھر کا ادھورا خواب لیے جہانِ فانی سے کُوچ کر جاتی ہے۔

ایسے میں ملازمت پیشہ یا کم آمدن والے افراد کے لیے اپنے ذاتی گھر کے خواب کی تکمیل کے لیے ایک واحد سہولت کمرشل بینکوں سے فنانسنگ یا دوسرے لفظوں میں قرض کا حصول ایک بہترین فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔

گذشتہ چند سالوں سے پاکستان میں بھی کمرشل بینکوں سے گھروں کی خرید، تعمیر اور تزئین و آرائش کے لیے قرض کے حصول کے رحجان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے اپنا گھر اسکیم اور اس سے براہ ِراست وابستہ دیگر پالیسیوں کے تحت سٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام کمرشل بینکوں کو ہدایات جاری کر رکھی ہیں کہ وہ بالخصوص ملازمت پیشہ اور کم آمدن افراد کو اپنی چھت کا حصول یقینی بنانے کے لیے قرض کے حصول میں مکمل رہنمائی اور آسانی فراہم کریں۔

یہی وجہ ہے کہ قرض کے حصول کے بڑھتے رحجان کے پیشِ نظر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات پر گذشتہ سال 2021ء میں گھروں کی خرید، تعمیر، تزئین و آرائش اور دیگر رہائشی و کمرشل تعمیراتی منصوبوں کے لیے کمرشل بینکوں نے مجموعی طور پر 355 ارب روپے کے قرضے فراہم کیے ۔

معاشی عدم استحکام کی ایک بنیادی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی

ملک میں معاشی عدم استحکام کی ایک بنیادی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ بھی بتائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے نہ صرف کاروباری طبقہ بلکہ ایک عام شہری بھی مہنگائی کے ہاتھوں قوت خرید کھو چکا ہے۔

ڈالر کی قیمت میں اضافے کے رجحان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے گذشتہ سال کے دوران ریکارڈ ترسیلات بھیجنے کی وجہ سے مارکیٹ میں پاکستانی روپے پر  کسی حد تک دباو کم ہوا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان میں مہنگائی میں اضافے کی شرح 12.66 فیصد کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب ایک ڈالر 173 روپے سے اوپر چلا جائے گا تو مہنگائی میں اضافہ تو ہو گا۔

ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے مہنگائی سے سب سے زیادہ جو طبقہ متاثر ہوا ہے وہ شہروں میں رہنے والا ہے جہاں اشیائے ضروریہ کے نرخ روز بڑھ رہے ہیں۔ تعمیراتی لاگت کے علاوہ مکان کے کرایوں میں گذشتہ ایک سال میں بڑا اضافہ ہو چکا ہے

کمرشل بینکوں کی جانب سے قرضوں کے اجراء میں 85 فیصد اضافہ

بلاشبہ کمرشل بینکوں سے قرض کا حصول عام فہم آدمی کے لیے ماضی میں ایک مشکل عمل رہا ہے تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بینک فناسنگ کو آسان بنانے کے لیے سٹیٹ بینک آف پاکستان نے مختلف حوصلہ افزاء اقدمات اٹھائے  ہیں۔

کمرشل بینکوں سے گھروں کی تعمیر کے لیے قرض کے حصول کے بڑھتے رحجان کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ گذشتہ دو سالوں کے دوران کمرشل بینکوں کی جانب سے قرض کے اجراء میں 85 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

گذشتہ سال 2021ء میں مکانات اور تعمیرات کے قرضوں میں 163 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس میں حکومت کی جانب سے شروع کی جانے والی میرا پاکستان میرا گھر اسکیم کے تحت 38 اراب روپے کے فنڈز بھی شامل ہیں۔

مکانات اور تعمیرات کے پورٹ فولیو میں وفاقی حکومت کی اسکیم میرا پاکستان میرا گھرمیں مارک اپ زر اعانت اسکیم کے تحت قرضوں میں 38 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہاؤسنگ اور تعمیرات کے شعبے میں قرضوں کی حصول کے اس بڑھتے رحجان کی ایک بنیادی وجہ کمرشل بینکوں کی جانب سے متعارف کرائے گئے ضوابطی اقدامات ہیں۔

پاکستان کے ریاستی مالیاتی ادارے کی جانب سے تمام کمرشل بینکوں کو یہ ہدایات بھی جاری کی گئی تھیں کہ وہ گذشتہ سال کے آخر تک قرضوں کے اجراء کا عمل ملکی نجی شعبے کے 5 فیصد حصے تک یقینی بنائیں ۔ مذکورہ ہدایات کے عدم نفاذ کی صورت میں مختلف بینکوں کو اسٹیٹ بینک کی جانب سے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔

بینک الفلاح نے 3.3 ارب روپے کے قرض جاری کیے

اس میں کوئی شک نہیں کہ گذشتہ سال کے دوران قرضوں کے اجراء کے بڑھتے ہوئے رحجان کے پیشِ نظر کمرشل بینکوں کی فہرست میں حبیب بینک لمیٹڈ، میزان بینک اور بینک الحبیب نے کلیدی کردار ادا کیا۔ میرا پاکستان میرا گھر اسکیم سال 2020ء میں متعارف کروائی گئی تھی اور صرف ایک سال کے قلیل عرصے میں موجودہ اسکیم کے تحت 38 ارب روپے کے فنڈز کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی گئی۔

گذشتہ سال کے آغاز پر بینکوں کی جانب سے قرضوں کا اجراء صفر کے ہندسے پر ریکارڈ کیا گیا تاہم 2021ء کے اختتام پر کمرشل بینکوں کو 276 ارب روپے کے قرضوں کی درخواستیں موصول ہوئیں جبکہ منظور شدہ قرضوں کا حجم 117 ارب روپے تک جا پہنچا۔

اس حوالے سے بینک الفلاح سرفہرست رہا جس نے مجموعی طور پر 3.3ارب روپے کے قرضے جاری کیے۔ مجموعی طور پر 9 کے قریب بینک وہ تھے جنہوں نے 2 ارب روپے تک کے قرضے جاری کیے۔ ان بینکوں میں میزان بینک، بینک اسلامی، نیشنل بینک، اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک، این بی ایف سی ایل، یونائیٹڈ بینک، مسلم کمرشل بینک، بینک آف پنجاب اور حبیب بینک شامل ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے