جنوبی پنجاب کے منفرد پہاڑی مقام فورٹ منرو کی سیر

کہتے ہیں کہ حُسن دیکھنے والے کی آںکھ میں ہوتا ہے۔ لیکن بات کی جائے اگر زمینی حُسن کی تو پاکستان نے اپنے خوبصورت، دلفریب، سرسبز و شاداب اور منفرد سیاحتی مقامات کی بدولت سب کو اپنا گرویدہ بنا رکھا ہے۔

پاکستان کے شمالی علاقہ جات دنیا بھر میں قدرتی حُسن اور سیاحت کے حوالے سے جانے جاتے ہیں جو ہر سال لاکھوں مقامی اور بین الاقوامی سیاحوں کی مہمان نوازی کا بیڑہ اٹھاتے ہیں۔

جنوبی پنجاب کا حُسن، فورٹ منرو

ربِ کائنات نے چاروں موسموں کی طرح پاکستان کے ہر خطے کو منفرد مقامات اور زمینی خوبصورتی سے نوازا ہے۔ پنجاب پانچ دریاؤں کی سرزمین جو اپنے میٹھے پانی، سرسبز فصلوں اور طرح طرح کی سوغاتوں کی وجہ سے مشہور ہے اور پھر جنوبی پنجاب کے میدانی علاقے صحرا، ریگستان، مٹی، ریت اور گرم و خشک آب و ہوا سے پہچانے جاتے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے سیاحتی مقامات پر نظر ڈالیں تو فورٹ منرو ایک ایسا منفرد پہاڑی مقام ہے جو پنجاب کے باسیوں کو شمالی علاقہ جات جائے بغیر ایک دلکش سیاحتی مقام کی سیر کراتا ہے اور سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔

فورٹ منرو جنوبی پنجاب کا مری

ایک خوبصورت پہاڑی مقام ہونے کے سبب فورٹ منرو کو جنوبی پنجاب کا مری بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں کا موسم ٹھنڈا اور خوشگوار ہوتا ہے اور بارش کی صورت میں یہ مقام مزید حسین مناظر پیش کرنے لگتا ہے۔ جس کی بناء پر پنجاب کی گرمی کے ستائے لوگ اس قریبی مقام پر سکون کی تلاش میں آتے ہیں۔ پنجاب میں ایک الگ اہمیت اور شناخت کی بناء پر اسے سیاحوں کی جنت بھی کہا جاتا ہے۔

فورٹ منرو جنوبی پنجاب میں کہاں واقع ہے؟

فورٹ منرو پنجاب کے جنوبی حصے میں واقع شہر ڈیرہ غازی خان سے تقریباً 85 کلومیٹر اور ملتان سے تقریباً 185 کلومیٹر کے فاصلے پر کوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے میں واقع ہے جس کی اونچائی 1800 میٹر ہے۔ یہ خوبصورت مقام سطح سمندر سے 6,470 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔

فورٹ منرو تک کیسے پہنچا جائے؟

اس خوبصورت مقام تک لورالائی بلوچستان یا جنوبی پنجاب کے صدر مقام ملتان کے راستے پہنچا جا سکتا ہے۔ پنجاب کی طرف سے یہ پہاڑی سلسلہ ’رکھنی‘ کے قریب سے شروع ہوتا ہے جو بلوچستان اور پنجاب کے درمیان سرحدی چوکی ہے۔


فورٹ منرو کا پرانا نام اور تاریخ

بعض مورخین کے مطابق فورٹ منرو کا پرانا نام ”اناری” تھا جسے برصغیر پر انگریزوں کے قبضے کے بعد سر رابرٹ سنڈیمن نے 1869 میں تیار کیا تھا۔ اس کا نام برطانوی فوج کے ایک افسر لیفٹینینٹ کرنل جارج منرو (جسے تمن لغاری بھی کہا جاتا ہے) کے نام پر رکھا گیا تھا جو بعد ازاں فورٹ منرو کہلایا اور جسے 19 ویں صدی کے آخر میں ایک پہاڑی شہر کے طور پر تیار کیا گیا تھا۔

اگرچہ یہ تاریخی مقام برطانوی دورِ حکومت سے جانا جاتا ہے لیکن اسے کئی دہائیوں سے نظر انداز کیا جاتا رہا۔

فورٹ منرو میں قلعہ کہاں ہے؟

فورٹ منرو 1950ء میں ایک آزاد قبائلی علاقہ تھا جو بعد میں اکثریتِ رائے سے پنجاب کا مستقل حصہ بن گیا۔ قلعہ کے آثار اب تقریباَ مٹ چکے ہیں اور وہاں صرف کچھ خستہ حال دیواریں باقی ہیں۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں بلوچوں نے انگریزوں سے مقابلہ کیا تھا۔

فورٹ منرو پر تعمیر دھاتی پُل

فورٹ منرو کا اسٹیل برج یعنی دھاتی پُل نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے این 70 سیکشن پر تعمیر کیا گیا ہے جو 33 کلومیٹر طویل پہاڑی راستے پر مشتمل ہے۔ رحیم یار خان سے ڈی جی خان جانے والی پرانی سڑک کو چین پاکستان اقتصادی راہداری یعنی نئے سی پیک روڈ سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فورٹ منرو کا یہ پُل ایشیا کا دوسرا بڑا دھاتی پُل ہے جو پاکستانی اور جاپانی انجیئنرز کی مشترکہ کاوشوں کا ثمر ہے۔ اس پُل کی بنیادیں 150 فٹ کی لمبائی پر مشتمل ہیں جن پر تعمیر کی گئی سڑک گول دائروں کی شکل میں اوپر جاتی ہے۔

اس پُل کی تعمیر کا مقصد بلوچستان اور پنجاب کے درمیان ایک راستہ قائم کرنا تھا جس کے ذریعے قلعہ سیف اللہ تک آسان رسائی ممکن ہو۔ اب اس پُل پر تجارتی گہما گہمی دیکھنے کو ملتی ہے۔ فورٹ منرو کے مقام پر آٹھ پُل تعمیر کیے گئے ہیں۔ انگریزوں کے دور سے ان پلوں کی تعمیر تک راستہ انتہائی کھٹن اور دشوار تھا جس پر چھوٹی اور تنگ سڑکیں تھیں۔ اب پہاڑوں کو کاٹ کر سڑک مزید صاف اور بہتر کی گئی ہے جو خوبصورت اور بہترین راستے کے طور پر ابھر کر سامنے آئی ہے۔

پیالہ جھیل اور دوسرے دلکش مقامات

ڈیرہ غازی خان کے نواحی علاقے غازی گھاٹ کے قریب دریائے سندھ پر واقع پیالہ جھیل بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے جو فورٹ منرو آنے والوں سیاحوں کے لیے ایک اور خوبصورت مقام ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک پتھر پر مسلسل پانی گرنے کی وجہ سے اس نے ایک پیالے کی شکل اختیار کر لی جس کی وجہ سے اسے پیالہ جھیل کہا جانے لگا۔

پیالے کی شکل کی یہ جھیل جسے عام طور پر پیالہ جھیل کہا جاتا ہے، دریائے سندھ کے مقام پر قدرتی طور پر 200 کنال سے زیادہ رقبے پر مشتمل ہے اور اس کی گہرائی تقریبا 80 فٹ ہے۔ اس جھیل کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یورپی ممالک سے ہجرت کرنے والے لاتعداد پرندے اس پر اپنے ٹھکانے کی تلاش میں اُترتے ہیں۔


حضرت سلطان سخی سرورؒ کا مزار

سید احمد سلطان جو سخی سرور کے نام سے مشہور ہیں، 12 ویں صدی میں پنجاب کے صوفی بزرگ کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ان کو سلطان، لکھداتا، لالانوالہ، نگاہیہ پیر اور روہیانوالہ جیسے مختلف القابات سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا مزار کوہِ سلیمان کے دامن میں گزشتہ سات سو برس سے قائم ہے جو مغلیہ دورِ سلطنت کے تعمیراتی شاہکار کے طور پر مانا جاتا ہے۔ لاکھوں عقیدت مند اور زائرین ہر سال یہاں عرس پر اکھٹے ہوتے ہیں۔

ڈیرہ غازی خان کی طرف جاتے ہوئے بے شمار ریت کے ٹیلے نظر آتے ہیں۔ سخی سرور تک پہنچتے ہی بلند و بالا پہاڑ سامنے آ جاتے ہیں۔ ڈی جی خان سے فورٹ منرو جاتے ہوئے سخی سرور قصبہ راستے میں آتا ہے۔ سخی سرور سے ہوتے ہوئے فورٹ منرو پہنچیں تو پہاڑ مزید بنجر اور خطرناک ہوتے جاتے ہیں۔

فورٹ منرو تاریخی، سیاحتی اور ثقافتی مقام

فورٹ منرو بلا شبہ ایک تاریخی، سیاحتی اور ثقافتی مقام ہے۔ جنوبی پنجاب کا شمار پاکستان کے گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر جانا ایک معمولی بات ہے۔ فورٹ منرو جیسی سیرگاہ وہاں کے رہائشیوں کے لیے کم فاصلے پر مشتمل ایک بہترین اور صحت افزا مقام ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے