موسمِ سرما کی آمد: کچھ ایسے اقدامات جن کی مدد سے گھر کو گرم رکھا جا سکتا ہے

موسم سرما کی آمد آمد ہے۔ پاکستان کے بالائی علاقے پہاڑی سلسلے اور سبزے کے قدرتی حسن کے باعث شدید سردی کی لپیٹ میں رہتے ہیں جبکہ ملک کے زیریں علاقوں میں سردی کی شدت شمالی علاقہ جات کی نسبت قدرے کم ہوتی ہے۔ ایسے میں گھر کا درجہ حرارت بہتر بنانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے؟

عمومی طور پر سردی کا موسم آتے ہی گھروں میں ہیٹر کا استعمال بڑھ جاتا ہے بلکہ اب تو ایسے ایئرکنڈیشنرز اور ہیلوجن پنکھے مارکیٹ میں دستیاب ہیں جو گھروں میں گرمائش کے حصول کے لیے استعمال ہوتے ہیں تاکہ سردی کی شدت میں کمی لائی جا سکے۔

بلاشبہ جہاں یہ ہوم اپلائنسزایک طرف سہولت کا ذریعہ ہیں وہیں دوسری جانب ان مصنوعات کا استعمال عام صارف کی جیب پر خاصا بھاری ثابت ہوتا ہے لہذا اس کا کیا حل تلاش کیا جائے۔

جی ہاں! سردی کی شدت میں کمی لانے کے لیے دورِ جدید کے تعمیراتی ماہرین اس بات پر مکمل یقین رکھتے ہیں کہ اگر گھر کی تعمیر کے دوران ذیل میں زیر بحث لائے گئے چند اہم اقدامات کو خاطر میں لے آیا جائے تو توانائی کی بچت کرتے ہوئے  موسمِ سرما میں گھروں کا درجہ حرارت قابل برداشت بنانے میں مدد حاصل ہو سکتی ہے۔

خزاں کی آمد کے ساتھ ہی شاخوں کی تراش خراش کا عمل

ایسے گھر جن کی خوبصورتی اور شادابی میں ایک بڑا کردار وہاں باغبانی، درختوں اور بیل بوٹوں کا ہوتا ہے۔ وہاں خزاں کا موسم آتے ہی جبکہ درختوں سے پتے جھڑنے کا عمل شروع ہو تو گھر میں لگے درختوں اور بیل بوٹوں کی تراش خراش کا عمل شروع کر دینا چاہئیے  ۔ اس طرح ایک تو آپ خزاں کی وجہ سے جھڑتے پتوں کی صفائی  سے نجات حاصل کر لیں گے دوسرا موسم سرما میں سورج کی براہ راست تپش آپ کے گھر کو گرم رکھنے میں مدد دے گی۔

بالاخانہ اور زیرِ بساط حرارتی نظام

روس اور مشرقی یورپ جیسے سرد ترین خطوں کے نقطہ انجماد سے گرے ہوئے درجہ حرارت کو بڑھانے کے لئے میں چھتوں اور فرش میں گرم پانی کو پائپوں اور موٹرکی مدد سے گھمایا جاتا ہے۔ لیکن نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے یہی کام بجلی کے ہیٹرکی مدد سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ جبکہ اب تو شمسی توانائی  کے جدید نظام بھی متعارف ہوچکے ہیں۔ اور سولر پینل کی مدد سے پانی گرم کرنے کی بات تو اب نئی نہیں رہی۔ آپ بھی اپنے گھر میں یہ طریقہ کار استعمال کر سکتے ہیں۔

گھر کے فرش کو قالین کی مدد سے ڈھانپ دیں

گھرکے تمام قابل استعمال فرش کو قالین کی مدد سے ڈھانپ کررکھیں تاکہ ٹھنڈے فرش کی شدت کو کم کیا جا سکے۔ خاص طور پر ماربل کے فرش سردیوں میں بہت زیادہ ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔

موسم کی مناسبت سے گھر میں تعمیری ترامیم

ہر موسم کی آمد سے پہلے گھرمیں ضروری ترامیم کرنی پڑتی ہیں۔ سردیوں میں کوشش کریں کہ ایسی کھلی جگہیں اور چھید اچھی طرح بند کردیں جن سے سرد ہوا کے داخل ہونے کا امکان ہو۔ الرجی اورزکام کی صورت میں ایسی ہوائیں نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں خصوصا شیرخوار بچوں کے لئے۔

گھر کے مرکزی احاطے کا آتش دان

سردیوں میں خاندان کا کسی مرکزی کمرے میں اجتماع اور دادی اماں کی کہانیاں تو اب شاید میسرنہ ہوں لیکن دیوان خانے کوگرم رکھنے کے لئے آتش دان ایک مفید اور آزمودہ طریقہ ہے۔ جو روایت کے ساتھ ساتھ خوبصورتی کا زریعہ بھی ہے۔

قدرتی توانائی

دن کے وقت کمروں کوگرم رکھنے کے لئے سورج کی توانائی سے ہرممکن استفادہ کریں۔ دھوپ کی قدرتی حرارت سے صحت پربھی اچھا اثرپڑتا ہے۔ ضروری کام جو آپ دھوپ میں بآسانی کرسکتے ہیں ضرور دھوپ میں بیٹھ کر کریں اور گھر کی ٹھنڈ میں بیٹھ کر ٹھنڈ سہنے سے بہترہے کہ جوکام آپ باہر جاکر دھوپ میں کرسکتے ہیں انکے لئے ضرورباہرجائیں۔

سردیوں کے رنگ

اگر سردیوں کے حوالے سے آپ اپنے گھر میں رنگ کروانا چاہتے ہیں تو موسم کی مناسبت سےآپ گرم رنگوں جیسے ہلکےبادامی،گہرے جامنی، سرمئی، خاکستری اور نیلے رنگ کا انتخاب کرسکتے ہیں ۔ سردیوں میں ان رنگوں کی دیواروں سے گرماہٹ کا احساس ہوتاہے ۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کے لیے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔