سال میں ایک بار کیے جانے والے گھر کے اہم کام کونسے ہیں؟

house hold chore BI

 گھر کھانے پینے، آرام کرنے اور مہمانوں کی آمد سے لے کر جب مرضی آنے اور چلے جانے جیسی مختلف سرگرمیاں اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔ ہم روز مرہ روٹین سے تھک جاتے ہیں۔ خواتین امورِ خانہ داری سے منسلک تمام کام سر انجام دیتی ہیں۔ اور ان کے بقول گھر کے کام کبھی ختم نہیں ہوتے۔ یہ کسی حد تک درست بھی ہے کیونکہ ایک خوشحال خاندان کے گھر کو ہر وقت دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ اُجاڑ اور کباڑ کا مسکن وہی ہوتے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا۔ لہٰذا، جیسے ہم انسان اپنی روزمرہ سرگرمیوں سے بریک لے کر تازہ دم ہونا چاہتے ہیں۔ اسی طرح، سال میں ایک بار کیے جانے والے گھر کے چند اہم اور ضروری کام ہیں۔ جنہیں انجام دینے سے نہ صرف گھر کی زیرِ استعمال اشیا کو بہترین سروس مل جاتی ہے۔ بلکہ ان کی معیاد میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

 

سرخ اور سفید رنگ میں ایک عدد ٹیبل کیلنڈر

 

سالانہ کیے جانے والے ضروری کام

گھر کے وہ ضروری کام جو سال میں ایک بار کرنا لازمی ہیں۔ تاکہ روزانہ دیکھ بھال کی جانے والی چیزوں کے ساتھ وہ اشیا نظر انداز نہ ہوں۔ جو زیرِ استعمال تو ہوتی ہیں لیکن ان کی صفائی تھوڑی مشکل ہوتی ہے۔ اس طرح کی صفائی کے لیے موسمِ سرما یا بہار کا سیزن موزوں ہے۔

پردے، قالین اور صوفے کی صفائی

آؤٹ ڈور فرنیچر

کچن کیبنٹس کی صفائی

سٹور روم کی صفائی اور ترتیب

سیزن کے مطابق کمروں کی ترتیب اور سیٹنگ

دیواروں پر رنگ و روغن

آلات کی پچھلی اطراف پر صفائی

 

سفید صفحے پر بنے چیک مارکس اور ایک عدد پین

 

پردے، قالین اور صوفے کی صفائی

لیونگ روم اور ٹی وی لاؤنج گھر کا وہ حصہ ہے۔ جو 24 گھنٹے میں سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ گھر کے افراد اور اکثر مہمانوں کی بھی اسی جگہ خاطر تواضح کی جاتی ہیں۔ کیونکہ ہمارے کلچر کے مطابق بیشتر گھروں میں ڈرائنگ روم خاص مہمانوں کے لیے کھولا جاتا ہے۔ باقی قریبی عزیز اور ملنے جلنے والے گھر کے اندرونی حصوں میں ہی سب گھر والوں کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ لہٰذا، وہ صوفے اور کارپٹ زیادہ استعمال ہوتے ہیں جو لیونگ روم یا ٹی وی لاؤنج میں موجود ہو۔

موجودہ دور میں ایسی بیشتر کمپنیاں سامنے آئی ہیں۔ جو گھر کے صوفے اور قالین کی صفائی جیسی خدمات پیش کر رہی ہیں۔ ان سروسز کی بدولت گھریلو خواتین یا افراد کو محنت اور وقت ضائع کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اور کچھ رقم کے عوض صوفوں اور قالینوں کی زبردست صفائی بھی ہو جاتی ہے۔

علاوہ ازیں، آپ یہ کام خود بھی تھوڑی محنت کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ جو شیمپو اور سرف کی مدد سے ممکن ہے۔ لیکن اس کے لیے آپ کو فیبرک یا سٹف کے مطابق احتیاط سے کام لینا ہو گا۔

پردے خود بھی دھوئے جا سکتے ہیں یا پھر روایتی طریقوں کے مطابق ڈرئی کلین کرائے جا سکتے ہیں۔

 

لیونگ روم میں رکھے گھئے خوبصورت صوفے، سینٹر کارپٹ اور پردے

 

آؤٹ ڈور فرنیچر

گھر کے باغیچے میں رکھا گیا آؤٹ ڈور فرنیچر کا روزانہ استعمال، موسم اور دھوپ کی تپش اسے خراب کر دیتی ہے۔ اگر اؤٹ ڈور فرنیچر لکڑی کا ہے تو آپ اسے سال میں ایک بار ضرور پالش کرائیں۔ فرنیچر اگر پلاسٹک کا ہے تو اسے خود دھویا اور صاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے آپ کو صرف پانی، سرف اور ایک صاف کپڑے کی ضرورت ہو گی۔ باقی محنت اور صفائی کا انداز آپ کا اپنا ہے۔

اس کے برعکس، اگر آؤٹ ڈور فرنیچر آئرن یا لوہے کا ہے تو آپ سال میں ایک بار اس پر رنگ ضرور کریں۔

 

گھر کے باغیچے میں رکھے گیا آؤٹ ڈور صوفہ سیٹ

 

کچن کیبنٹس کی صفائی

مہینے بھر کی گراسری سے بھرے کچن کیبنٹس اکثر نمی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یا ان میں ایک خاص طرح کی بو سما جاتی ہے۔ جو اچانک کیبنٹ کھولنے پر ناخوشگوار لگتی ہے۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کی اشیا پر کچھ حشرات بھی حملہ کرتے ہیں۔ خاص طور برسات کے موسم میں مصالحہ جات نمی کا شکار ہو کر  منجمد ہو جاتے ہیں۔

کبھی بھی کھانے کی چیزوں کے پیک کھول کر انہیں اسی حالت میں کیبنٹ میں نہ رکھیں۔ بلکہ پیکنگ کھولنے کے بعد انہیں جار یا منہ بند بوتلوں میں منتقل کرنا بہتر ہوگا۔ تاکہ ان کی تازگی برقرار رہے اور کیڑے مکوڑے اندر داخل نہ ہونے پائیں۔ لہٰذا، کچن کیبنٹ کی سالانہ صفائی انتہائی ضروری ہے۔ جہاں تک ممکن ہو کچن کیبنٹس کو نمی سے دور رکھیں۔

 

کچن کیبنٹس میں رکھا ہوا صاف ستھرا اور ترتیب شدہ سامان

 

سٹور روم کی صفائی اور ترتیب

گھروں میں موجود سٹور روم فالتو یا پھر کبھی کبھار استعمال ہونے والی اشیا رکھنے کے لیے زیرِ استعمال لائے جاتے ہیں۔ اکثر سٹور میں ہم صرف اشیا بھرنے پر زور دیتے ہیں۔ اور یہاں تک کہ ان کی سالانہ صفائی بھی بہت کم ہی عمل میں لائی جاتی ہے۔ جس کے باعث وہ مٹی، دھول، کیڑے مکوڑے کی آماجگاہ بن جاتا ہے۔ سال میں ایک بار پورے سٹور روم کی صفائی اور پھر سے ترتیب ضروری ہے۔ تاکہ سامان بھی خراب نہ ہونے پائے۔ اور صفائی کے زریعے بدبو، مٹی اور کیڑے مکوڑوں کا صفایا کیا جا سکے۔

یہ کام گھر کے دو سے تین افراد بآسانی کر سکتے ہیں۔ اور دو سے تین خواتین بھی۔ محنت طلب کام سٹور روم کا سارا سامان باہر نکالنا اور صفائی کے بعد اسے پھر سے رکھنا اور ترتیب دینا ہے۔ صفائی کے لیے پانی، فرش صاف کرنے والے محلول اور کیڑے مار ادویات کی ضرورت ہو گی۔

 

سٹور میں ترتیب سے سامان رکھتا ہوا ایک شخص

 

سیزن کے مطابق کمروں کی ترتیب اور سیٹنگ

اگرچہ، سیزن کے مطابق کمروں کی ترتیب بدلنے جیسا کام بہت کم لوگ کرتے ہیں۔ یا عموماَ ایسا کرنا پسند ہی نہیں کرتے۔ اور کچھ لوگوں کو اپنی کی گئی موجودہ سیٹنگ سے بہت لگاؤ ہوتا ہے۔

البتہ، اگر آپ ایسا کریں تو یہ تبدیلی آپ کو یقینی طور پر اچھے نتائج دے گی۔ یہ کام اگر سارے گھر میں ممکن نہیں تو آپ انفرادی طور پر اپنے کمرے کی حد تک کر سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر، سردی کے سیزن میں آپ اپنے کمرے کو اس طرح ترتیب دیں کہ کھڑکی سے آتی دھوپ کا مزہ لے سکیں۔ اسی طرح، موسمِ گرما میں کمرے میں ہوا کا حصول اور وینٹیلیشن ممکن ہو پائے۔

کمرے کی سیٹنگ آپ کو نہ صرف ایک نیا انداز دے سکتی ہے۔ بلکہ سخت موسمی اثرات سے بچاؤ یا سیزن انجوائے کرنے جیسا فائدہ بھی دیتی ہے۔

 

ترتیب شدہ بیڈروم اور کھڑکی سے نظر آتا باہر کا منظر

 

دیواروں پر رنگ و روغن

دیواروں پر کیے جانے والے اچھے اور بہترین رنگ و روغن 2 سے 3 سال کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ لیکن یہ منحصر ہے گھر کے اس حصے کے استعمال پر۔ وہ دیواریں جو زیادہ زیر استعمال ہوتی ہیں۔ جیسا کہ بچوں کے کمرے یا کھیل کود کا علاقہ، یا پھر لیونگ روم اور لاؤنج کی دیواریں۔ اسی طرح، گھر کے صحن یا باغیچے کی دیواریں بھی موسمی اثرات کی بدولت جلد نئے رنگ و روغن کے قابل ہو جاتی ہیں۔

مزکورہ بالا دیواروں کو سالانہ ایک بار ضرور نئے پینٹ یا روغن سے آرستہ کرنا چاہیئے۔

 

رنگ لگے ہاتھوں سے روغن کا ڈبہ اور برش پکڑے ہوئے ایک شخص

 

آلات کی پچھلی اطراف پر صفائی

گھر میں استعمال کیے جانے والے آلات یا اپلائنسز کو عموماَ ایک جگہ فکس کر دیا جاتا ہے۔ جس طرح کچن میں کوکنگ رینج، چولہا یا پھر فرج وغیرہ۔ ان آلات کو سال میں بھرپور استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کی بیرونی صفائی روزانہ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ لیکن بھاری آلات ہونے کے باعث انہیں اپنی جگہ سے ہلانا اور پوری طرح صفائی ممکن نہیں ہو پاتی۔ جس کی بدولت آلات کے پیچھے کافی مٹی، دھول، جالے اور دیگر مواد اکٹھا ہو جاتا ہے۔ سال میں ایک بار ان اشیا کو اپنی جگہ سے ہٹا کر مکمل صفائی ستھرائی اور دھلائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ جسے گھر کے دو سے تین افراد بآسانی اور جلدی کر سکتے ہیں۔

 

کچن کاؤنٹر اور کوکنگ رینج

 

ذہن نشین رکھیئے کہ برقی آلات کی صفائی سے قبل ان کا بجلی کے ساکٹ سے رابطہ منقطع کیا گیا ہو۔ تاریں اور کیبل نکال کر سوئچ اور بٹن مکمل طور پر آف ہوں۔ مزید یہ کہ خاص طور پر برقی آلات پہ کبھی بھی براہِ راست پانی مت ڈالیں۔ ورنہ ان کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔