اہرامِ مصر کی تعمیر میں کون سا کنسٹرکشن میٹیریل استعمال ہوا ہے؟

image (12)

اہرامِ مصر دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک ہے۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ اِس کی تعمیر میں کون سا کنسٹرکشن میٹیریل استعمال ہوا اور کیا وہ اِس دور کا کوئی خاص کنسٹرکشن میٹیریل تھا؟ آئیے آج اِس گُتھی کو سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

 

اہرامِ مصر کی تاریخ

یہ اس زمانے میں تعمیر ہوئے جب مصر سمیت گرد و نواح میں فرعونیت کا دور دورہ تھا۔ یہ مصر کے شہر قاہرہ میں واقع ہیں۔ اِس وقت مصر دنیا کی سب سے امیر اور طاقتور ترین تہذیبوں میں سے ایک تھا۔ یہ تاریخ میں انسان کی بنائی ہوئی سب سے شاندار تعمیرات میں سے ایک ہیں۔ یہ 2550ء قبل مسیح سے 2490ء قبل مسیح کے عرصے کے دوران تعمیر کئے گئے۔ اِن کی تعمیر کو ساڑھے چار ہزار سال بیت چکے ہیں۔ مصری اہرام اب بھی اپنی شان و شوکت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں، جو مصر کا اثاثہ ہیں اور دنیا بھر کے سیاحوں کے لئے ایک دلچسپ تاریخی سیاحتی مقام کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اہرامِ مصر کی تعمیر میں کون سا کنسٹرکشن میٹیریل استعمال ہوا ہے؟

اہرامِ مصر کی تعمیر میں استعمال ہونے والا کنسٹرشن میٹیرل

محقق ایک طویل عرصہ اس تحقیق میں لگے رہے کہ اہرامِ مصر تعمیر کیسے ہوا تھا۔ جیسے جیسے اُن پر حقیقت کسی حد تک آشکار ہوتی گئی، ان کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اُن کی تعمیر میں کون سا میٹیرل استعمال ہوا۔ آج ہم اس حوالے سے آپ کو خصوصی معلومات فراہم کریں گے۔

چونے کا پتھر

اہرام کی تعمیر کے لیے استعمال ہونے والے مواد میں سے ایک چونے کا پتھر تھا۔ یہ اہرام کی تعمیر میں استعمال ہونے والے مواد کا بڑا حصہ تھا۔ اہرام کے بنیادی حصے میں کھردرا چونا پتھر استعمال کیا گیا۔ سفید چونا پتھر، جو کہ باریک ہے، اندرونی دیواروں میں استعمال ہوتا تھا اور بیرونی سانچے کے لیے اہم مواد کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

کم درجے کا چونا پتھر وہ پتھر ہے جو مصر میں بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ یہ اہرام کے بنیادی حصے میں استعمال ہوا تھا۔ یہ پتھر تعمیر کے مقام کے قریب پایا جاتا تھا۔ کارکنوں نے پتھروں کو بلاکس کی شکل میں کاٹ کر کنسٹرکشن سائٹ یا مقامِ تعمیر تک پہنچایا۔ اِس عمل میں استعمال ہونے والے اوزاروں میں چھینی، کدال اور گرینائٹ سے بنے ہتھوڑے شامل تھے۔

اندرونی سجاوٹ کے لئے عمدہ کوالٹی کا سفید چونا پتھر نکالنا قدرے مشکل تھا اور اُسے عمارت کی تعمیر کے مقام سے قدرے دور جا کر نکالنا پڑا۔ یہ پتھر مٹی کی سطح کے نیچے دریائے نیل کے مغربی کنارے سمیت مقطم کی پہاڑیوں میں ماسارا اور تورہ کے مقام پر پایا جاتا ہے۔ مزدوروں نے زمین کی کھدائی کر کے پتھر کے ذخائر تک پہنچنے کے لیے سرنگیں کھودیں، جو زمین کی سطح سے 160 فٹ نیچے تھیں۔ اِس کے بعد اعلیٰ کوالٹی کے سفید چونا پتھروں کو نکال کر ان کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو بلاکس میں تقسیم کر دیا گیا اور ان کو اہراموں کے تعمیراتی مقام تک پہنچایا گیا۔

اہرامِ مصر کی تعمیر میں کون سا کنسٹرکشن میٹیریل استعمال ہوا ہے؟

گلابی گرینائٹ

گرینائٹ کو چونا پتھر کے ساتھ ملا کر اہرام کی اندرونی دیواروں کو ڈھانپنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کا حصول بھی آسان نہیں تھا۔ یہ مصر کے جنوب میں پایا جاتا تھا جس کو کان کنی کر کے حاصل کیا گیا تھا اور کنسٹرکشن سائٹ تک پہنچایا گیا۔

بیسالٹ کا پتھر

بیسالٹ کا پتھر جس کو الابسٹر بھی کہا جاتا ہے اور یہ اہرام کے فرش کو ڈھانپنے کے لئے استعمال کیا گیا تھا۔ اسے کُھلے گڑھوں اور زیرِ زمین ذخائر سے نکالا گیا تھا۔ اس کے استعمال نے اہرامِ مصر کے اندرونی حصے کی انفرادیت میں مزید اضافہ کر دیا۔

مٹی کی اینٹیں

مصر میں مٹی کی اینٹوں کو تعمیراتی سامان کے طور پر استعمال کرنے کا رواج ہوا کرتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اہراموں کی تعمیر میں ان کی دیواریں تعمیر کرنے میں مٹی کی اینٹوں کا استعمال کیا گیا تھا۔ اِن اینٹوں کو دیرپا اور پائیدار بنانے کے لئے آگ میں گرم کیا جاتا تھا۔

اہرامِ مصر کی تعمیر میں کون سا کنسٹرکشن میٹیریل استعمال ہوا ہے؟

دیو ہیکل پتھروں کی نقل و حمل، ایک معمہ

ہزاروں سال گزرنے کے باوجود بھی یہ کوئی نہیں جانتا کہ اہرامِ مصر کی تعمیر میں مزدوروں نے ٹنوں وزنی پتھروں کے بلاکس کو کانوں سے کنسٹرکشن سائٹ تک کیسے پہنچایا۔ ریگستان کی ریت اور بجری پر پہیے کارآمد نہیں ہوتے، اس لیے وہ غالباً لکڑی کے بنے سانچوں اور رسیوں سے بلاکس کو گھسیٹتے تھے۔ اس بارے میں محققین کی مختلف آراء پائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی کسی مصدقہ نتیجے پر نہیں پہنچا۔ کچھ کا خیال ہے کہ مزدوروں نے چوتھائی دائرے والی لکڑی کے سانچوں کا استعمال کیا تھا جو مستطیل بلاک کے ارد گرد فِٹ ہو جاتے تھے۔ انہوں نے اس سانچے میں بلاک کو فِٹ کر کے 8 مزدوروں کی مدد سے اس کو گھسیٹ کر کنسٹرکشن سائٹ تک پہنچایا۔ دوسروں کا کہنا ہے کہ مزدوروں نے لکڑی کے رولرز کی مدد سے پتھروں کو تعمیر کی جگہ تک پہنچایا۔

اہرامِ مصر کی تعمیر جتنی دلچسپ ہے اتنی ہی پُراسرار بھی۔ ہزاروں سال پہلے بِنا کسی ٹیکنالوجی کے دیو قامت اہرامِ مصر کی تعمیر نہ صرف ایک عجوبہ ہے بلکہ ایک معمہ بھی کہ جو آج تک حل نہ ہو سکا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے