زمین پر غیر قانونی قبضے کی صورت میں ہمارا اگلا قدم کیا ہونا چاہیے؟

قبضہ مافیا معاشرے کا ناسور بن چکا ہے۔ یہ وہ بیماری ہے جس کو جڑ سے ختم کرنا ہی اِس کا واحد علاج ہے۔

اِس مقصد کے تحت ایک عام شہری کی رہنمائی کے لئے ہم آج کے بلاگ میں کچھ ایسی معلومات فراہم کریں گے کہ جن کے ذریعے آپ کو معلوم ہو گا کہ اگر آپ کی زمین پر قبضہ ہو چکا تو آپ کا اگلا قدم کیا ہونا چاہیئے۔

 

پاکستان سیٹیزن پورٹل

پاکستان سیٹیزن پورٹل ایک سرکاری آن لائن پلیٹ فارم ہے جہاں شہری اپنی شکایات کا اندراج کروا سکتے ہیں۔ جیسے جیسے زمینوں پر قبضے کے واقعات بڑھنے لگے، عوام میں تشویش بڑھنے لگی۔ سرمایہ کار خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگا۔ ایسے میں وزیراعظم کی جانب سے پاکستان سیٹیزن پورٹل پر لینڈ گریبنگ کی خصوصی کیٹیگری بنائی گئی۔ اِس کیٹیگری کے تحت کوئی بھی شہری اپنی زمین پر قبضے کی درخواست آن لائن پورٹل پر جمع کروا سکتا ہے۔ اُس کی درخواست کے بعد متعلقہ سرکاری ادارے ضروری چھان بین کے بعد ایکشن لیں گے۔ لینڈ گریبنگ کیٹیگیری میں نہ صرف اپنی زمین پر قبضے کے خلاف درخواست دی جا سکتی ہے بلکہ اگر کسی اور سرکاری و غیر سرکاری زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہو یا ہو چکا ہو تو اُس کے خلاف بھی درخواست دائر کر کے حکومت کی مدد کی جا سکتی ہے۔
اس کیٹیگیری کا سب سے زیادہ فائدہ بیرونِ مُلک مقیم پاکستانیوں کو ہوا جو سمندر پار رہتے ہوئے پاکستان میں پہلے اپنی زمینوں پر قبضے خلاف درخواست دائر نہیں کرسکتے تھے۔ اب وہ بھی اس کیٹیگری سے بیرونِ مُلک رہتے ہوئے مستفید ہو سکتے ہیں۔

 

اینٹی لینڈ مافیا سیل، پنجاب

اگر آپ پنجاب کے رہائشی ہیں تو آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ پنجاب پولیس کی جانب سے قائم کئے گئے اینٹی قبضہ مافیا سیل میں آپ اپنی شکایت جمع کروا سکتے ہیں۔ پنجاب پولیس نے 2021ء میں یہ سیل قائم کیا، جس کا مقصد پنجاب میں زمینوں پر قبضے کے بڑھتے ہوئے کیسز کی روک تھام تھا۔ طریقہء کار یہ ہے کہ اگر آپ کی زمین پر قبضہ ہو رہا ہے یا ہو چکا ہے تو آپ فوری اپنے موبائل سے 1242 ملائیں۔ پولیس فوری آپ کی مدد کو پہنچے گی اور آپ سے تعاون کرے گی۔ اگر شہریوں کو اِس سہولت کا مناسب ادراک ہو تو اس سے نہ صرف شہروں میں زمینوں پر قبضے کے کیسز کی تعداد میں کمی واقع ہو گی بلکہ پنجاب کے دیہات میں بالخصوص قبضے کے کیسز پر فوری عملدرآمد ہو گا جہاں زمینوں کی کیسز کی بھرمار ہوتی ہے۔

 

عدالت میں انصاف کی فراہمی

پاکستان میں اگرچہ عدالتی نظام آئیڈیل نہیں ہے لیکن سائل کے پاس دروازہ کھٹکھٹانے کا ایک مضبوچ سہارا بہرحال ضرور ہے۔ عدالت میں کیس دائر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی اچھے وکیل کا انتخاب کیا جائے۔ وہ وکیل آپ سے ایک خاص فیس وصول کرے گا اور آپ کی زمین کے دستاویزات کی بنیاد پر ایک ٹھوس کیس بنائے گا۔ تمام تر ضروری اقدامات کے بعد آپ کا کیس عدالت میں دائر کیا جائے گا۔ کیس دائر ہونے کے بعد ایک مقررہ تاریخ پر آپ کے کیس کی سماعت ہوگی۔ عدالتی طریقہء کار ایک سہارا ضرور ہے لیکن قدرے سُست عمل ہے کیونکہ پاکستان کے عدالتی نظام میں کیسز کی سماعت میں کافی وقت لگ جاتا ہے اور سالوں فیصلے نہیں ہو پاتے۔

 

زمین کے تنازعات کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹس کا قیام

وزیر اعظم کے مشیر برائے اوورسیز پاکستانی ایوب آفریدی نے 27 جنوری 2022ء کو دبئی میں پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان بیرونِ مُلک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے فاسٹ ٹریک کورٹس کے قیام کے حتمی مراحل میں ہیں اور جلد بیرونِ مُلک مقیم پاکستانیوں کے لئے بالخصوص فاسٹ ٹریک کورٹس کا قیام کر دیا جائے گا۔ یہ کورٹس زمینوں پر قبضے کے کیسز سمیت دیگر کیسز کی سماعت کریں گی۔ اِس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ 90 سے 180 دنوں کے درمیان، انصاف کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ فاسٹ ٹریک کورٹس کو بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لئے اس لئے مختص کیا گیا ہے کہ پاکستان میں زمینوں پر قبضے کے متاثرین میں سب سے زیادہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہوتے ہیں۔

 

پولیس کا کردار

ایک عام آدمی کا پہلا آسرا پولیس ہوتا ہے۔ زمین پر قبضہ ہونے کی صورت میں فوری متعلقہ تھانے جا کر اپنی زمین پر قبضے کے خلاف درخواست دی جائے اور اس میں مکمل زمینی دستاویزی معلومات درج کی جائیں۔ اس مقصد کے لئے یہ ضروری ہے کہ جس علاقے میں آپ کی زمین ہے اسی علاقے کے متعلقہ تھانے میں درخواست دی جائے کیونکہ پاکستان کے قانون کے مطابق علاقے کا تھانہ ہی علاقے میں ہونے والے غیر قانونی واقعات کی روک تھام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ تھانہ اپنی حدود و قیود کا پابند ہوتا ہے۔

 

اُمید کی کرن

گو کہ پاکستان میں قبضہ مافیا سے لڑنے کے لئے ماضی میں کوئی خاص کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی لیکن حالیہ حکومت نے اِس حوالے سے خاصے اقدامات کئے ہیں۔ پاکستان سیٹیزن پورٹل میں لینڈ گریبنگ کیٹیگیری کا قیام اور آنے والے دنوں میں فاسٹ ٹریک کورٹس کا قیام ایسے اقدامات ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کار کو ریئل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے کی طرف نئی امید دلاتے ہیں۔ اِن اقدامات سے نہ صرف سرمایہ کار کا فائدہ ہو گا بلکہ عام آدمی بھی مفید ہو سکتا ہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About wasib imdad

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔