فنونِ لطیفہ کے رنگ بکھیرتی پاکستان کی آرٹ گیلریاں

Art Galleries Blog Image

صدیوں پر محیط فنونِ لطیفہ کی تاریخ ثقافت، تہذیب، روایات اور عقیدوں پر سفر کرتی برصغیر سے پاکستان میں وارد ہوئی اور ہمیں اس میں ناقابلِ فراموش فن دیکھنے کو ملا۔

پاکستان میں فنونِ لطیفہ سے متعلق مصوری اور مجسمہ سازی کی ایک بھرپور تاریخ موجود ہے۔ روایتی طور پر پاکستان کا آرٹ اسلام اور جغرافیہ پر مبنی رہا۔ موسیقی، مصوری، سنگ تراشی، شاعری اور رقص فنونِ لطیفہ کی شاخیں ہیں۔

 

 

آرٹ گیلری میں پینٹنگ کی نمائش

 

پاکستان کے مشہور مصور اور خطاط ”صادقین”

پاکستان کے سب سے مشہور مصور صادقین فنونِ لطیفہ کا مکمل مجموعہ تھے۔ ان کا اصل نام سید صادقین احمد نقوی تھا جو شہرہ آفاق مصور، خطاط، نقاش اور شاعر تھے۔ ان کی وجہ شہرت اسلامی خطاطی اور مصوری ہے۔

صادقین نے 1955ء میں سابق وزیراعظم حسین شہید سہروردی کے دور میں کراچی میں اپنے فن پاروں کی نمائش سے خوب پزیرائی اور شہرت حاصل کی۔

انھوں نے قرآنی آیات بالخصوص سورہ رحمٰن کی آیات کی خوبصورت خطاطی سے پاکستانی قوم کے دل جیت لیے۔ انھوں نے مشہور شعراء مرزا غالب اور فیض احمد فیض کے اشعار کی تصویری تشریح سے کمال کر دکھایا۔

صادقین کو سرکاری سطح پر صدرِ پاکستان کی جانب سے اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر 1970ء میں تمغہ امتیاز اور 1985ء میں ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔ ان کی خطاطی و مصوری کے فن پارے فیصل مسجد اسلام آباد، فریئر ہال کراچی، نیشنل میوزیم کراچی، صادقین آرٹ گیلری اور دنیا کے شہرہ آفاق عجائب گھروں میں رکھے گئے ہیں۔

پاکستان کے نامور مصور صادقین کی پینٹنگ

 

پاکسان کی  نامور آرٹ گیلریاں

پاکستان میں اس وقت متعدد نامور آرٹ گیلریاں فنونِ لطیفہ سے منسلک آرٹسٹ اور فنکاروں کے فن پاروں کی نمائش میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔

 

پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس

فنونِ لطیفہ کی ترقی و ترویج کے لیے پاکستان نیشنل آرٹس کونسل کا قیام 1973ء میں پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعے عمل میں آیا۔ اس آرٹ گیلری کا مقصد فنونِ لطیفہ سے متعلقہ تمام تکنیکی سہولیات کو یکجا کر کے فنکاروں کی صلاحیتوں کو نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر اجاگر کرنا تھا۔

فنونِ لطیفہ کی ترقی و ترویج سے متعلق منصوبہ بندی اور مربوط حکمتِ عملی کی منظوری کے تمام معاملات کونسل کے بورڈ آف گورننس کے زیرِ انتظام ہیں۔ جبکہ شعبہ تعلقات عامہ، ثقات و ورثہ اس ادارے کے تمام انتظامی امور پر اٹھائے جانے والے اخراجات کے لیے فنڈز کی فراہمی یقینی بناتا ہے۔

 

فنونِ لطیفہ کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

لائیو پرفارمنس

پرفارمنگ آرٹ

تصویری نمائش

کٹھ پتلی تھیٹر

 

آرٹ گیلری میں لوگ پینٹنگ کی نمائش دیکھ رہے ہیں

 

الحمرا آرٹس کونسل لاہور

لاہور میں واقع الحمرا کلچرل کمپلیکس بنیادی طور پر کمیونٹی ہال، آرٹ گیلری اور آرٹس کونسل کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو زندہ دلانِ شہر لاہور کے رہنے والوں کی فنونِ لطیفہ میں دلچسپی کے ساتھ ساتھ پنجابی ثقافت کی ترویج کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔ اسے پاکستان کے  صفِ اول کے آرکیٹیکٹ نیر علی دادا کے تیارکردہ ڈیزائن پر تعمیر کیا گیا تھا۔

فنونِ لطیفہ کے اس مرکز میں 11 ہزار اسکوائر فٹ پر تعمیر ایک آرٹ گیلری ہے جس میں آرٹ سے منسلک مختلف نمائشوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔

آرٹ میوزیم قزافی اسٹیڈیم میں 12 ہزار سکوائر فٹ پر قائم ہے جس کی وسیع دیواروں پر دو سو سے زائد فن پارے نمائش کے لیے پیش کیے جا سکتے ہیں۔

 

خاتون مصور تجریدی پینٹنگ بنانے میں مصروف ہیں

 

ملتان آرٹس کونسل

جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں ملتان آرٹ کونسل 1975ء میں قائم ہوئی تھی۔ اس کی بنیاد پنجاب کونسل آف آرٹس کے قواعد و ضوابط کو مدِ نظر رکھتے ہوئے رکھی گئی تھی۔ عمارت میں ایک بڑا ہال، اسٹیج، آرٹ گیلری اور ایک باغ  بھی تعمیر کروایا گیا ہے۔  یہ آرٹ کونسل سماجی مسائل پر ڈراموں، لائیو پرفارمنس، کٹھ پتلی ڈرامے، پینٹنگ کی نمائش، مجسمہ سازی اور فنون لطیفہ سے متعلق بہت سی سرگرمیوں کا انعقاد کرواتی ہے۔

 

ملتان آرٹس کونسل

 

اعجاز آرٹ گیلری لاہور

اعجاز آرٹ گیلری لاہور میں 1998ء میں قائم کی گئی۔ لاہور کی یہ گیلری سب سے بڑی نجی گیلری ہے جس کا نمائشی حصہ 12 ہزار اسکوائر فٹ پر مشتمل ہے۔ یہ گیلری سینئر آرٹسٹ کے ساتھ نئے اور جونیئر فنکاروں اور مصوروں کو اپنے فن پاروں کی نمائش کا موقع فراہم کر کے ان کے حوصلے بلند کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک سو سے زائد سینئر اور جونیئر آرٹسٹ اس گیلری سے منسلک ہیں۔ یہ لاہور کی مشہور شاہراہ ایم ایم عالم روڈ پر واقع ہے۔

انڈس آرٹ گیلری

یہ آرٹ گیلری کراچی شہر میں کلفٹن کے علاقے میں واقع ہے جس کا شمار پاکستان کی قدیم گیلریز میں ہوتا ہے۔ اسے پاکستان کے مشہور پینٹر علی امام نے تیار کروایا تھا۔

 

آرٹ گیلری میں تصاویر کی نمائش دیکھتے لوگ

 

ظہور الاخلاق آرٹ گیلری

یہ آرٹ گیلری بیسویں صدی کے ایک اہم آرٹسٹ ظہور الاخلاق کے نام سے منسوب ہے۔ یہ گیلری لاہور میں نیشنل کالج آف آرٹس کے شعبہ تاریخ کے بلاک میں 1993ء میں تعمیر کی گئی جس کا بنیادی مقصد پاکستانی مصوروں اور مجسمہ سازوں کے فن پاروں کی مستقل حفاظت تھا۔ یہ گیلری دو بڑے کمروں پر مشتمل ہے جہاں خوبصورت روشنیاں آویزاں کی گئی ہیں۔

چوکنڈی آرٹ گیلری

یہ کراچی کی ایک مشہور آرٹ گیلری ہے جس کی مالک زہرہ حسین نے اسے 1985ء میں قائم کیا۔ فنونِ لطیفہ میں نئی تبدیلیوں سے متعلق اور نت نئے فن پاروں کی نمائش میں یہ گیلری اہم کردار ادا کرتی آ رہی ہے۔

 

مدھم روشنیوں میں آرٹ گیلری میں سجی تصاویر

 

وی ایم آرٹ گیلری

تعلیمِ نسواں کے لیے ایک کمیونٹی سینٹر کے قیام کے دوران اس آرٹ گیلری کو کراچی میں قائم کیا گیا۔ اس گیلری کا مقصد پاکستان کے فن اور فنکاروں کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر فروغ دینا ہے۔ یہ گیلری رنگون والا سینٹر  میں قائم ہے۔

کینوس گیلری

کینوس گیلری کا شمار پاکستان کی نامور گیلریز میں ہوتا ہے جو ملک بھر کے فنکاروں کے لیے ایک معاون کی حیثیت رکھتی ہے جس میں جدید اور عصری آرٹ کی نمائش کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس گیلری میں سو سے زائد فن کاروں کے ہزاروں فن پارے موجود ہیں۔

تنزانیہ آرٹ گیلری

یہ آرٹ گیلری اسلام آباد میں 2007ء میں بنائی گئی۔ اس گیلری کے قیام کا سہرا نیشنل کالج آف آرٹس کی ایک طالبہ نوشی قادر کے سر ہے جہاں اب تک 70 سے زائد کامیاب نمائشوں کا انعقاد کرایا جا چکا ہے۔

اس گیلری کو نیویارک میں پاکستانی فن اور آرٹ کی نمائش کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔ آرٹ سے منسلک تخلیقی فنکاروں کو یہ گیلری ہمیشہ سے ایک بہترین پلیٹ فارم فراہم کرتی آئی ہے۔

 

آرٹ گیلری میں آوایزاں خوبصورت پینٹنگز

 

گیلری 6

گیلری 6 وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 2008ء میں قائم کی گئی جس میں اب تک قومی اور بین الاقوامی سطح پر 80 سے زائد نمائشوں کا انعقاد کرایا جا چکا ہے۔ اس گیلری کا شمار پاکستان کی کشادہ اور وسیع تر گیلریز میں ہوتا ہے جس میں ڈرائنگ اور پینٹنگ پر مشتمل متعدد فن پارے نمائش کے لیے موجود ہیں۔ اس گیلری کا مقصد پاکستانی آرٹ کو بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں تک لے جانا ہے۔

 

آرٹ گیلری میں موجود ایک شخص تصاویر کو ترتیب دے رہا ہے

 

پاکستان میں فنونِ لطیفہ سے منسلک فن اور فن کاورں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو نہ صرف حقیقی معنوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا قومی سطح پر منوا چکے ہیں بلکہ ان کے آرٹ اور فن کو بین الاقوامی سطح پر خوب سراہا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار آرٹ گیلریز کا ذکر یہاں ناممکن ہے لیکن تمام فن اور فنکار معاشرے میں اپنا ایک خاص اور منفرد مقام رکھتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے