سونے اور تانبے کی تلاش: کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کی سات ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری

سونے اور قیمتی دھاتوں کی تلاش کی تاریخ 3000 سال پرانی ہے اور اس کا آغاز سب سے پہلے قدیم ترین ثقافت کے حامل برِاعظم افریقہ کے ملک مصر سے ہوا۔ جہاں زمانہ قدیم کے لوگ نا صرف خواتین بلکہ مرد حضرات بھی سونے اور قیمتی دھاتوں اور جواہرات سے بنے زیورات کے استعمال کو اعلیٰ مرتبے اور رعب کی علامت تصور کرتے تھے۔

پھر ایک وقت تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ جب آٹھویں صدی کے آغاز پر سونے، چاندی، ہیرے جواہرات اور قیمتی دھاتوں کا استعمال عام لین دین کے معاملات میں سرایَت کر گیا۔

پھر لین دین اور کاروباری معاملات میں آہستہ آہستہ ان بیش قیمت دھاتوں کی جگہ سِکوں اور کرنسی نوٹس نے لے لی تاہم اس کے باوجود آج بھی سونے سمیت قیمتی دھاتوں کے ذخائر کسی بھی بھی ملک کی معیشت میں کلیدی حیثیت کا درجہ رکھتے ہیں۔

پاکستان دینا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں سونے اور تانبے کے ذخائر کی تلاش کا معاملہ ہر زباں زدِ عام رہا تاہم یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ چکا۔

رواں سال مارچ میں حکومت نے ایک کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے ساتھ بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ریکوڈک کی جگہ سونے اور تانبے کی تلاش کے ایک منصوبے کی منظوری دی۔

حال ہی میں ریکوڈک پر کام کرنے والی بیرک گولڈ کمپنی کے صدر مارک برسٹو نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اور کینیڈین کمپنی کے درمیان معاہدہ قانونی عمل کی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہے۔ جبکہ جلد ہی

بیرک گولڈ کارپوریشن نامی کینیڈین کمپنی کے صدر مارک برسٹو گذشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر تھے جہاں انہوں نے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سے ملاقاتیں کیں۔

مارک برسٹو نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وفاقی وزیر کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کی جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان اور بیرک گولڈ کمپنی کے درمیان مذاکرات میں اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ بلوچستان اور اس کے عوام کو ان کے جائز حقوق ملیں۔

مارک برسٹو کہتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان اور بیرک کمپنی کے درمیان حتمی معاہدوں پر کام جاری ہے۔

بیرک کمپنی قانونی اقدامات کے بعد فیزیبیلٹی سٹڈی پر نظر ثانی کرے گی جس کے لیے دو سال کا عرصہ درکار ہوگا جبکہ اس عمل کے بعد پہلے مرحلے کی تعمیر کی جائے گی جس کے بعد ریکوڈک ذخائر سے تانبے اور سونے کی پہلی پیداوار سال 2027 تک متوقع ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان کی حکومت اور بیرک کمپنی کے درمیان ضلع چاغی میں سونے اور تانبے کے پراجیکٹ ریکوڈک پر معاہدہ رواں سال مارچ کے مہینے میں طے پایا تھا جس کے تحت سال 2011 سے التواء کا شکار منصوبہ اب دوبارہ شروع ہونے جا رہا ہے۔

ریکوڈک کان پر سونے اور تانبے کی تلاش کے اس معاہدے میں کمپنی مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی جب کہ منصوبے کی تعمیر دو مرحلوں میں کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں 4 ارب ڈالر جبکہ دوسرے مرحلے میں 3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوگی۔ پہلے مرحلے میں پلانٹ تقریباً 40 ملین ٹن سالانہ کے حساب سے دھات کی پراسیسنگ کرے گا جسے 5 سال کے عرصے میں دگنا کیا جا سکے گا۔

ریکو ڈک کان کی عمر کم سے کم 40 سال ہوگی اور یہ منصوبہ 7500 سے زائد افراد کو روزگار فراہم کر سکے گا جبکہ اس سے 4000 کے قریب طویل مدتی ملازمتیں بھی پیدا ہوں گی۔

بیرک گولڈ کمپنی کے صدر کے مطابق شراکت داری کے تحت 50 فیصد حصہ بیرک کمپنی کا ہوگا جبکہ حکومت پاکستان اور بلوچستان کے پاس 25/25 فیصد حصے کے فوائد ہوں گے۔

مارک برسٹو کا کہنا تھا کہ قانونی عمل کی تکمیل کے آخری مرحلے میں ہی بلوچستان میں صحت، تعلیم، فوڈ سکیورٹی کی بہتری سمیت متعدد ترقیاتی پروگراموں کا بھی آغاز کیا جائے گا۔

بیرک کمپنی کے صدر نے بتایا کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری سے مزید دھاتیں دریافت کرنے کا موقع مل سکتا ہے اور ریکوڈک میں سرمایہ کاری کے بعد مزید کمپنیاں بھی یہاں سرمایہ کاری کریں گی۔

ان کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر کام کے شروع ہوتے ہی فوائد ملنا شروع ہو جائیں گے۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں سونے کی سرمایہ کاری کے منتظر ہیں۔ ان کے خیال میں یہ ایک بہت بڑی اور اہم سرمایہ کاری ہے جو بلوچستان اور پاکستان کے لیے تبدیلی لانے والی ہے۔

مفتاح کہتے ہیں کہ کمپنی کے چیئرمین ہر سطح پر پاکستانیوں کی خدمات حاصل کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

وزیر اعلٰی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو ریکوڈک منصوبے پر کام کرنے والی کینیڈین کمپنی بیرک گولڈ کے سربراہ سے ملاقات کے بعد کہتے ہیں کہ یہ ایک تاریخی لمحہ ہے جب ہم ریکوڈک منصوبے سے متعلق اہم پیش رفت کرنے جا رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کہتے ہیں کہ بلوچستان کے لوگ بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار بلوچستان کا رخ کر رہے ہیں کیونکہ ریکوڈک معاہدہ بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر آمدن کا کا 25 فیصد حصہ بلوچستان کو ملے گا منصوبے کا تخمینہ 70 ملین ڈالر ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایڈوانس رائلٹی میں پہلے سال بلوچستان کو 5 ملین ڈالر جبکہ دوسرے سال 7.5 ملین ڈالر ملیں گے اور کمرشل پیداور کے آغاز پر ہر سال 10 ملین ڈالر بلوچستان کو ملیں گے جس سے صوبے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Zeeshan Javaid

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔