سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی جدید طرز پہ بحالی

سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی جدید طرز پہ بحالی

سیلاب قدرتی آفات میں سے ایک ایسی تباہ کن آفت ہے جس میں پانی کا بہاؤ اپنے راستے میں آنے والی تمام اشیاء، عمارات، گھر، مویشی، فصلیں، اسکولز اور اسپتال غرض یہ کہ سب کچھ اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔

رواں مون سون کے سیزن میں غیرمتوقع بارشوں اور دریاؤں میں طغیانی کے باعث پورے ملک کو سیلاب کی ہولناک تباہکاریوں کا سامنا ہے۔

نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے جاری کردہ اعداد و شمار مطابق صرف ایک روز  کے دوران مزید 75 افراد جاں بحق ہوئے جس کے بعد سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 1136 تک پہنچ گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کا بتانا ہے کہ ملک بھر میں اب تک 10 لاکھ 51 ہزار 570 گھروں کو نقصان پہنچا جب کہ سیلاب اور بارشوں سے اب تک 7 لاکھ 35 ہزار 375 مویشی مرچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں۔

پاکستان میں شرح خواندگی پہلے ہی بین الاقوامی طے شدہ انڈیکیٹرز کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جبکہ دوسری جانب قدرتی آفات کے نتیجے میں اسکولوں کی تباہی کے باعث تعلیم کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو جاتا ہے۔

صوبائی تعلیمی محکموں کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 17 ہزار 5 سو 66 اسکول سیلاب زدگی سے متاثر ہو کر مسمار یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے۔ ان میں سندھ کے 15 ہزار 8 سو 42، بلوچستان کے 5 سو 44 اور پنجاب کے 1 ہزار 1 سو 80 اسکول شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سیلاب زدہ علاقوں میں 5 ہزار 4 سو 92 اسکولوں کو سیلاب متاثرین کی عارضی رہائش کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

تعلیم پاکستان کے بڑے مسائل میں سے ایک ہے اور اسکول اس ملک کا اثاثہ ہیں۔ سیلاب دیگر جانی و مالی نقصان کا باعث بنتا ہے وہیں اسکولوں کی تباہی ملک کو سالوں پیچھے دھکیل دیتی ہے۔

sailaab sy mutasira ilaqy

اگر موجودہ سیلاب کا 2010ء میں آنے والے سیلاب سے تقابلی جائزہ کریں تو یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق 2010ء تقریباً 10 ہزار سے زائد اسکولز سیلاب کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوئے۔

نیشنل ڈزاسٹر اینڈ مینیجمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2010ء کے سیلاب میں ان اسکولوں 9 ہزار 7 سو سرکاری اسکول شامل تھے۔

علاوہ ازیں متعدد اسکولوں کو سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی عارضی پناہ گاہ کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔

موجودہ صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تباہ حال اسکولوں کی تعمیرِ نو جدید تقاضوں کے مطابق ہو۔

 

سیلاب کے ممکنہ خطرات سے کیسے بچا جائے؟

آئیے آپ کو سیلاب کے ممکنہ خطرات سے بچنے سے متعلق اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔

اسکولوں کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب

تباہ شدہ اسکولوں کی تعمیرِ نو سے قبل سب سے اہم امر یہ ہے کہ کسی بھی اسکول کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب نہایت ضروری ہے۔ دنیا میں کلائمیٹ کی تبدیلی کے بعد قدرتی آفات بڑھتی جا رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعمیرات کرنے سے قبل قدرتی آفات سے بچاؤ کے نکتے کو ذہن میں رکھنا نہایت ضروری ہے۔

اسکول کی تعمیر سے قبل ماہرین کی رائے لینا نہایت اہم ہے کہ کوئی بھی مخصوص جگہ اسکول کی تعمیر کے لیے موزوں ہے یا نہیں۔

 

فلڈ بیرئیرز کی تنصیب

فلڈ بیرئیر ایک ایسے رکاوٹی بند کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے سیلابی پانی کو کسی حد تک روکنے میں مدد مل سکتی ہے۔

ایسے علاقے جہاں سیلاب کا خطرہ ہو وہاں کے اسکولوں میں فلڈ بیرئیرز کی تنصیب نہایت لازم ہے۔ فلڈ بیرئیرز کی تنصیب نہایت آسان ہے اور یہ 3 فُٹ تک کے سیلاب کو باآسانی روکنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی جدید طرز پہ بحالی

فرش کو سیل کرنا

اسکول کی مختلف منزلوں کے فرش کو سیل کرنا بھی ایک اہم امر ہے تاکہ اگر سیلاب کا پانی کسی طریقے سے بیسمنٹ میں داخل ہو جائے تو سیپج کے ذریعے اوپر کی منزلوں تک نہ پہنچ سکے۔

 

نان ریٹرن والوز کا استعمال

نکاسی آب کے پائپ اور سیوریج سسٹم پر نان ریٹرن والوز کا استعمال بھی سیلاب سے بچاؤ کا ذریعے بن سکتا ہے۔ نان ریٹرن والوز سیلابی پانی کو اسکول کے اندر داخل ہونے سے روکیں گے جو جانی و مالی نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

 

واٹر پمپس کی تنصیب

ایسے ایریاز جیسے کہ بیسمنٹ جہاں سیلاب کا پانی سب سے پہلے پہنچنے کا خدشہ ہو وہاں واٹر پمپس کی تنصیب نہایت سودمند ثابت ہو سکتی ہے۔

 

تعلیمی اداروں کی تعمیرِ نو

حالیہ سیلاب ایک بہت بڑی قدرتی آفت ثابت ہوا لیکن ایک طرح سے ہمیں موقع فراہم کر گیا کہ تعلیمی اداروں کی تعمیرِ نو جدید تقاضوں کے مطابق کی جائے۔

سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے وہ تمام علاقے جہاں سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث بڑی تعداد میں اسکول تباہ ہوئے وہاں اسکولوں کی تعمیر نو کی اشد ضرورت ہے۔

اس مقصد کے لیے اسکول کے جدید ماڈلز کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے تاکہ اسکولوں کی تعمیرِ نو جدید طرزِ تعمیر پر کی جائے اور ان میں وہ تمام جدید سہولیات میسر کی جا سکیں جو کسی بھی جدید اسکول میں ہوتی ہیں۔

جدید کمپیوٹر لیب، سائنس لیب، لائبریری، تھیٹر، تمام کھیلوں کی سہولیات سمیت تمام جدید سہولیات پر مشتمل اسکولوں کی تعمیر کی جائے تاکہ ان تمام علاقوں کے طلباء و طالبات جدید تعلیم سے آراستہ ہو سکیں۔

سیلاب سے متاثرہ سکولوں کی جدید طرز پہ بحالی

آن لائن تعلیم وقت کی ضرورت

سیلاب کی تباہ کاریوں ک باعث اسکولوں کو جو نقصان پہنچا وہ بچوں کی تعلیم میں تعطل پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔ اس تعطل کو ختم کرنے کے لیے حکومت کو چاہیے کہ ان تمام تباہ شدہ اسکولوں کے اعداد و شمار اکٹھے کر کے ان میں زیرِ تعلیم بچوں کے لیے آن لائن کلاسز کا بندوبست فوری بنیادوں پر کیا جائے تاکہ ان کی تعلیم کا سلسلہ بحال رہے۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔