کم خرچ میں شاہانہ انداز گھر کیسے ممکن؟

مہنگائی، بیروزگاری اور مستقل غیر یقینی کے باعث ہر فرد کم سے کم خرچ میں گزارا کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔ متوسط طبقے کے لیے آج کل ضروریاتِ زندگی پورا کرنا جہاں مشکل ترین امر ہے۔ وہیں سفید پوشی قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔ تاہم، امورِ خانہ داری اور گھر گرہستی میں خواتین بہت اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اور گھر کی دیکھ بھال کے علاوہ اس کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش کے نت نئے طریقے ڈھونڈتی ہیں۔ علاوہ ازیں گھر کو ایک ماڈرن اور باوقار انداز دینا کس کو پسند نہیں۔ لیکن کم بجٹ میں یہ سب کیسے ممکن ہے؟ یہی وجہ ہے کہ کم خرچ بالا نشیں جیسی مثال اکثر خواتین پر ہی پوری اترتی ہے۔ لہٰذا یہ جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے کہ کم خرچ میں شاہانہ انداز گھر کیسے ممکن ہے؟

 

کم خرچ میں سادہ ڈیکوریشن پر مشتمل گھر

 

کم خرچ میں شاہانہ انداز گھر کے لیے تجاویز

مہنگا فرنیچر، دیدہ زیب فانوس اور دلکش انٹیریئر گھر کی تزئین و آرائش میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم، فی زمانہ مہنگائی کا پہاڑ سَر کرتی عوام کے لیے یہ جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ لہٰذا، بجٹ میں رہتے ہوئے گھر کو امیرانہ انداز میں بدل دینا مندجہ ذیل تجاویز کے ذریعے ممکن ہے۔

 

بے کار اشیاء سے نجات اور نیا رنگ و روغن

روشنیوں کی تنصیب اور وال گیلری

کُشن،کارپٹ اور پردے

انڈور پلانٹس اور آئینے کا استعمال

وال پیپر اور کانٹیکٹ پیپر کا استعمال

سفید کراکری اور دروازوں، کھڑکیوں کے ہینڈلز

بُک شیلف کا اضافہ

 

کم خرچ میں شاہانہ انداز پر مشتمل بک شیلف، لیمپ اور کرسی

 

شاہانہ انداز گھر کے لیے بےکار اشیاء سے نجات اور نیا روغن ضروری

کم بجٹ میں شاہانہ طرز اپنانے کی پہلی سیڑھی سمجھداری ہے۔ لہٰذا، سب سے پہلے وہ تمام اشیاء جنہیں آپ نے کافی عرصے سے گھر میں جگہ دی ہوئی ہے۔ اور ان کے استعمال سے متعلق آپ زیادہ پر امید نہیں۔ تو ایسی چیزوں سے چھٹکارہ ہی آپ کے گھر کو سانس لینے میں مدد دے گا۔ گھر کو اعلیٰ درجے اور باوقار بنانے میں اشیاء کا ہجوم دور کرنا ہی عقل مندی ہے۔

مزید یہ کہ، درو دیوار پر موجود رنگ و روغن اگر پرانا ہو گیا ہے۔ تو اسے دوبارہ پینٹ ضرور کرائیں۔ کیونکہ نیا رنگ و روغن، صاف ستھری چھت اور دیواریں ہی شاہانہ طرزِ رہائش اپنانے کی ابتدا ہے۔

 

کم خرچ اور شاہانہ انداز کے تحت نیا رنگ و روغن

 

روشنیوں کی تنصیب اور وال گیلری

عمومی طور پر ہمارے گھر یا اپارٹمنٹ میں عام طرز کی لائٹس نصب ہوتی ہیں۔ جو بلب یا ٹیوب لائٹس پر مشتمل ہوتی ہیں۔ اور دیواروں پر نصب ہوتی ہیں۔ تاہم نئے اور جدید طرز اپنانے کے لیے عام روشنیوں کے بجائے چھت سے معلق بلب یا روشنیوں کا انتخاب کیا جانا چاہیئے۔ ایسی ٹرینڈی اور جدید روشنیاں آپ کو کم قیمت پر بھی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ صرف انہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں، ایسی لائٹس سیکنڈ ہینڈ ہوم آئٹمز کی مارکیٹ میں بھی دستیاب ہو سکتی ہیں۔ مزیدبراں، اپنے لیونگ روم، ڈرائنگ روم یا پھر گھر کے کسی بھی حصے میں ایک مناسب دیوار کا انتخاب کریں۔ اور اسے وال گیلری میں تبدیل کریں۔ اس کے لیے آپ کو صرف فیملی کی بہترین تصاویر فریم کروانے اور انہیں خاص ترتیب سے آوایزاں کرنے کی ضرورت ہے۔

 

شاہانہ طرزِ رہائش کے پیشِ نظر وال گیلری پر تصاویر لگاتی خاتون

 

کم خرچ میں بہترین کُشن،کارپٹ اور پردے

کُشن، قالین اور پردے وہ گھریلو آئٹمز ہیں جو ہر گھر میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اور گھر کی تزئین و آرائش میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ تاہم، عام کُشنز کے بجائے اگر چھوٹے سائز کے متعدد کُشن استعمال کیا جائیں۔ اور انہیں صوفوں پر ایک خاص ترتیب دی جائے تو یقیناً یہ ایک پرکشش اضافہ ہو گا۔ علاوہ ازیں، سینٹر کارپٹ گھر کو ایک باقار انداز دیتا ہے۔ کچھ لوگ وال ٹو وال کارپٹ کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن اس کے برعکس، دالان کے درمیان موجود قالین کا ٹکڑا شاہانہ انداز فراہم کرتا ہے۔ جہاں تک بات ہے پردوں کی، تو ان کی بدولت پورے کمرے، لاؤنج یا ڈرائنگ روم کی الگ ہی شکل سامنے آتی ہے۔ پردے ہمیشہ چھت کے قریب سے فرش تک ہونے چاہیئے۔ اور رنگ اور ساخت کمرے کے حجم اور کلر سکیم کے مطابق ہو۔

 

لیونگ روم میں خوبصورت سینٹر کارپٹ

 

کم خرچ میں انڈور پلانٹس اور آئینے کا استعمال

انٹیریئر ڈیکوریشن میں بلاشبہ جدید اور خوبصورت انداز متعارف ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم کفایت شعاری پر عملدرآمد کرتے ہوئے گھر کے اندرونی حصے کو قدرتی حُسن سے بھی آراستہ کیا جا سکتا ہے۔ انڈور پلانٹس اس سلسلے میں آپ کی بھرپور مدد کر سکتے ہیں۔ یہ نہ صرف خوبصورت لگتے ہیں۔ گھر کے اندرونی حصوں کو پرکشش بناتے ہیں۔ بلکہ گھر کی آب و ہوا کو بھی صاف اور شفاف رکھتے ہیں۔

علاوہ ازیں، آج کل ہر گھر کے تقریباً ہر کمرے میں آئینہ موجود ہوتا ہے۔ تاہم وہ آئینے عمومی طور پر ڈریسنگ ٹیبل کے ساتھ منسلک ہوتے ہیں۔ یا پھر باتھ روم کی حد تک محدود ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر باریک فریم سے آراستہ آئینے گھر کی دیواوں پر نصب کیے جائیں تو یہ باوقار اور مہنگے طرزِ زندگی کا اشارہ دیتا ہے۔ لہٰذا، ان ہی آئینوں میں منعکس ہوتے پودے گھر کے اندرونی ماحول کو مزید جاذبِ نظر بناتے ہیں۔

 

انڈور پلانٹس، آئینہ اور کارنر ٹیبل کے ساتھ رکھا گٹار

 

کم خرچ میں وال پیپر اور کانٹیکٹ پیپر کا استعمال

ٹی وی لاؤنج کی تاروں اور سوئچ سے بھری بے ہنگم دیوار طبیعت میں الجھاؤ پیدا کرتی ہے۔ تاہم، آپ اپنی انٹیریئر ڈیزائننگ سے جُڑی حِس کو یہاں استعمال کر سکتے ہیں۔ اور خوبصورت وال پیپر کے ذریعے تمام برقی تاریں چھپا سکتے ہیں۔ مزید براں، آپ ٹی وی یا ایل ای ڈی سکرین والی عام دیوار کو وال پیپر کے خوبصوت استعمال سے میڈیا وال میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ ضروری ہے کہ باقی گھر کی طرح کچن بھی شاہانہ طرزِ رہائش پر مشتمل ہو۔ دن میں کم از کم تین بار استعمال ہونے والے کچن کو دیکھ بھال اور تعمیر ومرمت کی بھی اتنی ہی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا، باوقار انداز کے لیے کاؤنٹر ٹاپس، دیواروں اور درازوں میں کانٹیکٹ پیپر کا استعمال باورچی خانے کی صورت نکھار دیتا ہے۔

 

کچن میں کانٹیکٹ پیپر سے آراستہ کاؤنٹر ٹاپ

 

سفید کراکری اور دروازوں، کھڑکیوں کے ہینڈلز

پُروقار طرزِ زندگی اور اعلیٰ ترین رکھ رکھاؤ کی جھلک آپ کے زیرِ استعمال کراکری میں بھی نظر آتی ہے۔ لہٰذا، کھانے پینے کے انداز کے ساتھ ساتھ مناسب کراکری کا انتخاب بھی ضروری ہے۔ جس کے لیے اگر آپ سادہ اور سفید کراکری منتخب کریں تو آپ کے اندازِ طعام میں یہ نہ صرف ایک خوشگوار اضافہ ہو گا۔ بلکہ گھر آئے مہمانوں میں آپ کے پُرتعیش طرزِ زندگی کو اجاگر کرے گا۔ علاوہ ازیں، گھر کی تعمیر اور دروازوں کی کھڑکیوں کی تنصیب کو اگر کافی عرصہ گزر چکا ہے تو ان کے ہینڈلز کے رنگ اور چمک غائب ہو چکے ہوں گے۔ لہٰذا آپ انہیں تبدیل کروا سکتے ہیں۔ تاکہ باقی گھر کی آرائش ان بے رنگ ہینڈلز سے متاثر نہ ہونے پائے۔ بصورتِ دیگر آپ انہیں پالش بھی کر سکتے ہیں۔

 

ڈائننگ ٹیبل پر موجود شفاف گلاس اور سفید کراکری

 

کم خرچ میں شاہانہ انداز کے لیے بُک شیلف کا اضافہ

کتب، اخبارات اور رسائل سے لگاؤ دانشور اور مفکر حضرات کی نشانی ہوتا ہے۔ اگرچہ پڑھنے اور لکھنے والے رائٹرز اور شوقین افراد اپنے گھروں میں باقاعدہ لائبریری کا انتظام کرتے ہیں۔ تاہم، آپ اپنے گھر کی تعظیم میں ایک شیلف کا اضافہ کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ ذہن نشین رکھیئے کہ شیلف کو شروع سے لےکر آخر تک کتابوں سے نہ بھریں بلکہ اسے کسی ڈیکوریشن پیس سے بھی آراستہ کریں۔ اور باقی جگہ خالی چھوڑ دیں۔ بک شیلف کے لیے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں زیادہ فرنیچر اور آلات موجود نہ ہوں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے