مہمان خانے کو کیسے آراستہ کیا جائے؟

GR BI

بزرگوں اور بڑوں سے سنتے آئے ہیں کہ مہمان اللہ کی رحمت ہوتے ہیں۔ اور کہا جاتا ہے کہ مہمان خانے انہی کے آباد رہتے ہیں جن سے رب خوش ہوتا ہے۔ اور بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کو مہمان نواز میزبان ملتے ہیں۔

اسلامی تاریخ و ثقافت سے لے کر موجودہ معاشرتی اقدار تک مہمان نوازی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔

پاکستانی روایات و اقدار کے مطابق زیادہ تر مہمان کو گھر کے انہی حصوں میں رکھا جاتا ہے جہاں گھر والے خود آباد ہوتے ہیں اور مہمان بھی گُھل مِل کر رہنا پسند کرتے ہیں۔ لیکن اگر بات کی جائے الگ مہمان خانوں اور کمروں کی تو ان کی سجاوٹ اور تزئین و آرائش سے متعلق میزبان، مہمان خانوں کو اپنی پسند کے مختلف دلکش اور آرام دہ طرز پر آراستہ کرتے ہیں۔

مہمان خانوں کی تزئین و آرائش سے متعلق کچھ ایسے اصول اور طریقے قابل ذکر ہیں جن کی بدولت انہیں مزید آرام دہ اور پُرسکون بنایا جا سکتا ہے۔

 

آرام دہ مہمان خانہ

 

پُرسکون کمرے کا انتخاب

مہمان نوازی کا پہلا اصول ایک آرام دہ اور پُرسکون کمرے کا انتخاب ہے۔ اگر آپ مہمان خانے کے طور پر ایک ایسے کمرے کو منتخب کر رہے ہیں جو  گھر کے درمیان یا مرکز میں موجود ہے یا جہاں گھر کی تمام سرگرمیاں، چہل پہل اور شور و غل بآسانی سنا جا سکتا ہے تو یہ مہمان کے لیے کافی حد تک ناقابلِ برداشت ہوگا۔

 

 

لکڑی سے تعمیر شدہ خوبصورت کمرے کا منظر

 

آرام دہ بستر کی آرائش

مہمان خانے میں سب سے زیادہ اہمیت بستر کی ہوتی ہے۔ جس کا مکمل آرام دہ ہونا ضروری ہے۔ مزید یہ کہ موسم کی مناسبت سے بیڈ پر میٹرس یا بستر، لحاف اور تکیہ موجود ہو۔ بیڈ کو مزید آراستہ کرنے کے لیے اس پر پرکشش اور نرم کُشن رکھے جا سکتے ہیں۔

کچھ افراد چھپرکھٹ کی طرز کے بیڈ پسند کرتے ہیں، جس میں بیڈ کے چاروں اطراف میں ستون ہوتے ہیں جنھیں ریشمی پردوں سے آراستہ کیا جاتا ہے جو دیکھنے میں خوبصورت دکھائی دیتے ہیں اور مہمان کو ایک آرام دہ تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ گو کہ یہ اسٹائل کچھ نیا نہیں لیکن پسند بہت کیا جاتا ہے۔

 

خوبصورت پردوں سے آراستہ چھپرکھٹ

 

مطالعے کے لیے ایک خوبصورت کونہ

آرام دہ بستر کے بعد کسی بھی مہمان کی ترجیح مطالعہ یا لیپ ٹاپ اور مخلتف گیجٹس کا استعمال ہوتا ہے جس کے لیے ایک مناسب میز اور کرسی سے آراستہ کونہ بہت ضروری ہے۔ اس کونے کی اہمیت آپ میز پر ایک پین، رائٹنگ پیڈ اور مدھم روشنی والا ٹیبل لیمپ رکھ کر مزید بڑھا سکتے ہیں۔

ساتھ ہی اگر آرام طلب انداز اپنانے کے لیے ایک چھوٹے سائز کا اسٹول میز کے قریب رکھ دیا جائے تاکہ مہمان اس پر پاؤں رکھ کر آرام دہ انداز میں مطالعہ کر سکے تو یقین کیجیئے مہمان آپ کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ پائے گا۔

 

کونے میں لکڑی کی میز پر موجودچند کتابیں

 

خوبصورت اور خوشبودار موم بتیاں

خوشبو سے انسان کا رشتہ بہت پرانا ہے اور گزرتے وقت نے ہمیں خوشبوؤں کی لاتعداد اور بے شمار اقسام سے نوازا ہے۔ پرانے وقتوں میں چراغ اور موم بتیاں صرف روشنی کے حصول کے لیے استعمال کی جاتی تھیں لیکن گزشتہ کئی برسوں سے خوبصورت اور خوشبودار موم بتیوں کا انتخاب نہ صرف روشنی بلکہ سجاوٹ اور تزئین و آرائش کے لیے کیا جا رہا ہے۔

مہمان خانے میں دلکش کینڈل اسٹینڈ پر آراستہ جاذبِ نظر موم بتیاں ایک شاہی طرزِ زندگی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سائیڈ ٹیبل پر رکھی رنگ برنگی موم بتیاں جلاتے ہی پورا کمرہ معطر ہو جاتا ہے جو آپ کے اعلیٰ ذوق کی دلکش نشانی ہے۔

 

 

خوبصورت زرد رنگ کی موم بتیاں

 

مناسب رنگ و روغن

ذہن نشین رکھیئے کہ آپ کے گھر ہر عمر کا فرد بطور مہمان آ سکتا ہے۔ اور اسی حقیقت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اگر آپ اپنے مہمان خانے کی دیواروں کے رنگ و روغن کا خیال رکھیں گے تو آپ کے مہان کسی یکسانیت کا شکار نہیں ہوں گے۔

ایسے رنگوں کا انتخاب کریں جو تمام عمر کے افراد کو بھا جائیں، صرف سفید یا پھر گہرے رنگوں کو منتخب کرنا ہر مہمان کے لیے قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی بچوں کا کمرہ، بزرگ افراد کا کمرہ یا پھر کسی شوخ وچنچل طبیعت کے مالک نوجوان کا کمرہ قطعی معلوم نہیں ہونا چاہیئے۔

 

گیسٹ روم کی دیواروں پر خوبصورت پینٹ

 

تروتازہ مہکتے پھول

قدرتی خوبصورتی اور مہک کس کو پسند نہیں، اور پھول تو بلاشبہ سب کو ہی پسند ہوتے ہیں۔

مہمان خانے میں روزانہ کی بنیاد پر تروتازہ پھول رکھے جائیں اور ان کی خوشبو سے ماحول خوشگوار ہو جائے تو نہ صرف یہ ایک خوبصورت احساس کو جنم دیتا ہے بلکہ میزبان کے بہترین ذوق اور مہمان کے ایک با عزت مقام کی پہچان ہے۔ گلدستہ سجانے کے لیے اگر بڑی شاخوں والے پھول دستیاب نہیں تو گلاب اور چنبیلی ایسے پھول ہیں جن کے پودے اکثر گھروں میں موجود ہوتے ہیں اور ان کی خوشبو بھی بے حد پسند کی جاتی ہے۔

 

سفید اور گلابی رنگ کے پھولوں کا خوبصورت گلدستہ

 

آرائشی سیڑھی

موجودہ دور میں گھر اور کمروں کی زیبائش کے لیے نت نئے ڈیکوریشن پیس اور مختلف اشیا مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن میں سے ایک وہ آرائشی سیڑھی ہے جو آج کل ترجیحی بنیاد پر بیڈ رومز میں استعمال کی جا رہی ہے۔ اس آرائشی سیڑھی کا فائدہ یہ ہے کہ ایک منفرد سجاوٹ کے ساتھ اسے مختلف اشیا کو رکھنے کے لیے بھی زیرِ استعمال لایا جاتا ہے جیسے جائے نماز اور تولیہ وغیرہ۔ مہمان خانے میں اس سیڑھی کی آرائش نہ صرف ایک منفرد منظر پیش کرے گی بلکہ مہمان کےکام بھی آئے گی۔

 

بیڈروم کی خوبصورت ڈیکوریشن

 

مناسب سٹوریج

کسی بھی ہوٹل کے کمرے میں قیام کرنے پر وہاں موجود الماری اور شیلف میں ایک مناسب خالی جگہ دستیاب ہوتی ہے جہاں بآسانی سامان رکھا اور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مہمان خانے میں قیام کرنے والوں کو بھی ایسی ہی خالی جگہ دستیاب ہونی چاہیئے تاکہ اسے ایک بہترین ہوٹل میں قیام کی کمی محسوس نہ ہو۔ اسی مقصد کو مدِ نظر  رکھتے ہوئے بہت زیادہ ڈیکوریشن سے پرہیز کرنا چاہیئے۔

 

خوبصورت بیڈ روم میں کپڑوں کی الماری

 

بُک شیلف اور ٹی وی

ہر مہمان کا ذوق و شوق مخلتف ہوتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ مہمانوں کے کمرے میں کتابوں والی شیلف موجود ہو جو بے شک چھوٹے سائز پر مبنی ہو لیکن اس میں چند اچھی کتابیں اور میگزین موجود ہونے چاہیئیں۔ اور اگر کمرے میں ٹی وی موجود ہو تو حالاتِ حاضرہ یا تفریحی مواد سے دلچسپی رکھنے والے افراد محظوظ ہو سکتے ہیں۔

 

کمرے میں موجود خوبصورت بُک شیلف

 

اِنڈور پلانٹ

پودوں سے انسیت رکھنے والے افراد کو مہمان خانے میں رکھے گئے اِنڈور پلانٹ بہت پُرکشش دکھائی دیتے ہیں۔ انڈور پلانٹس سے آب و ہوا صاف ستھری رہتی ہے اور کسی قسم کی گھٹن پیدا نہیں ہونے پاتی۔

فینسی شیشے کی سجاوٹ

شیشہ دورِ حاضر کی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک سجاوٹی عُنصر کی شکل بھی اختیار کر گیا ہے۔ ایک مناسب آراستہ شیشے سے کمرے کو سجایا بھی جا سکتا ہے اور بوقتِ ضرورت مہمان کے کام بھی آتا ہے۔

 

کمرے میں خوبصورت شیشہ اور انڈور پلانٹ

 

بہترین اور معیاری صفائی

صفائی آنے والے مہمان کو خوش آمدید کہنے کے مترادف ہے۔ صاف شفاف فرش اور درو دیوار کمرے کی دلکشی میں اضافہ کرتے ہیں۔ کمرے سے ملحقہ غسل خانے کی صفائی بھی انتہائی ضروری امر ہے۔

صاف تولیہ، نیا صابن، ٹشو پیپر اور باتھ روم چَپل، یہ وہ اشیا ہیں جو آپ کی مہمان نوازی سے بڑھ کر آپ کی سمجھداری کا ثبوت دیتی ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔