پاکستان سمیت دنیا بھر میں سرمایہ کاری کے بدلتے رجحانات

WhatsApp Image 2022-04-18 at 10.10.04 PM

ذرا ایک سال پیچھے ماضی پر نظر دوڑائیں، ہر کوئی 2021 میں تیزی سے معاشی بحالی اور رومانوی موسمِ سرما کے لیے تیار تھا۔ یہ سال اپنے اختتامی دور میں دنیا بھر کے لیے کورونا کی وباء سے نجات کی نوید دے کر رخصت ہوا اور بلاشبہ یہ سب کورونا ویکسینیشن سے ہی ممکن تھا۔

گذشتہ سال 2021ء کے اوائل میں کورونا کے ساتھ ساتھ ڈیلٹا اور اومیکرون کی مختلف نئی وبائی اقسام بھی سامنے آئیں اور عالمی سطح پر اقتصادی بحالی کو بہت زیادہ پیچیدگیوں کا سامنا رہا۔

اسٹاک مارکیٹ میں البتہ یہ پارٹی سارا سال چلتی رہی۔ لیکن مبصرین حیران ہیں کہ وبائی امراض کے اِن تمام تباہ کُن اثرات کے باوجود جہاں دنیا کی اقتصادی صورتحال کو پیچیدگیوں کا سامنا رہا وہیں سرمایہ کاری کے نئے رجحانات بھی متعارف کرائے جاتے رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کاری میں جدت اور نت نئے آئیڈیاز کی وجہ سے دنیا بھر میں کسی بھی ملک کی معیشت دیوالیہ پن کا شکار نہیں ہوئی۔

آج کی اپنی اس تحریر میں وبائی مرض کورونا کے متاثر کُن اثرات کے باوجود رواں سال کے لیے سرمایہ کری کے نئے رجحانات سے متعلق مفید معلومات کا ہم یہاں تبادلہ خیال کریں گے۔

تو چلیے! شروع کرتے ہیں۔

کورونا کے وبائی اثرات میں خاطر خواہ کمی کے باوجود سرمایہ کار خوف کا شکار

بلاشبہ رواں سال 2022ء کو عالمی ادارہ صحت اور بین الاقوامی اُمور صحت کے اداروں کی جانب سے نجات کا سال قرار دیا جا چکا ہے اور دنیا بھر میں کورونا کی وباء کے جان لیوا اثرات میں خاطر خواہ کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔ لیکن اس کے باوجود سرمایہ کار اور دنیا بھر کے ماہرین یہ سوچنے پر مجمور ہیں کہ مستقبل قریب میں اگر دوبارہ ایسے کسی مہلک وبائی مرض کا سامنا کرنا پڑا تو اس سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے۔

امید ہے کہ رواں سال 2022ء ایک ایسا سال ثابت ہو گا جب روزمرہ کی زندگی اپنے معمول پر واپس لوٹ آئے گی، سفری پابندیوں میں بہت حد تک کمی واقع ہو گی، تجارتی سرگرمیاں، رئیل اسٹیٹ اور روایتی ریٹیل اسٹاک کو ایک مرتبہ دوبارہ فروغ حاصل ہو گا۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ بنیادی طور پر سرمایہ کاروں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کورونا کے بعد مارکیٹ کے استحکام میں تھوڑا وقت ضرور لگے گا تاہم دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں نے پہلے سے ہی شیئرز کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ میں استحکام لانے کے حوالے سے اپنی تمام تر کوششیں تیز کر دی ہیں تاکہ اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کاروں کو کاروباری مواقعوں کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی میں غیر متوقع حد تک اضافہ

بلاشبہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وباء کے مہلک اثرات نے جہاں عالمی معیشت کو سالوں پیچھے دھکیل دیا ہے وہیں اس وجہ سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک طوفان برپا ہے۔ مہنگائی کے بارے میں سُن کر ہم سب تھک گئے ہیں اور یہ ایک حقیقت ہے کہ علمی سطح پر موجودہ سیاسی عدم استحکام اور ترقی یافتہ ممالک کے مابین تنازعات کے باعث فی الحال مہنگائی کی وجہ سے روزمرہ اشیاء کی آسمانوں سے باتیں کرتی قیمتوں کو نیچے زمین پر لانا بظاہر ایک مشکل عمل ہے۔

پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی کی شرح افراطِ زر کے حجم سے براہ راست منسلک ہے۔ پٹرولیم مصنوعات سمیت گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور سپلائی چین سے منسلک غذائی قلت کو عارضی طور پر غیر معمولی طور پر نظر انداز کرنے کی حکمتِ عملی رواں سال میں معاشی استحکام کے لیے سُود مند ثابت نہیں ہو سکتی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ 2022ء میں مہنگائی کا یہ سلسلہ زیادہ پریشان کُن ثابت ہو سکتا ہے اور اس صورتحال میں کوئی بعید نہیں کہ سرمایہ کاری کے موجودہ رجحانات کی عدم تبدیلی کی صورت میں مارکیٹ ہنگامہ آرائی کا شکار ہو جائے۔

سپلائی چین کے مسائل سے کیسے نمٹا جائے

آج ہی اگر پاکستان کی کسی بھی تجارتی بندرگاہ کا معائنہ کیا جائے تو آپ کو شپنگ کنٹینرز کے ڈھیر نظر آئیں گے جو ان لوڈ ہونے یا سامان سے بھرے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ سپلائی چین چیلنج اب قلیل مدتی مسئلہ نہیں رہا۔

طویل مدتی مربوط حکمت عملی اپناتے ہوئے سپلائی چین کے مسائل کے حل میں مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔ پاکستان میں ایک طویل عرصے کے بعد پہلی بار تمام برآمدی اور درآمدی مصنوعات کی تجارتی سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ایک مربوط حکمت عملی ترتیب دیتے ہوئے مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مسابقتی بنیادوں پر کاروباری مواقع کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔

معاشی ماہرین کا خیال ہے کہ سپلائی چین کے حوالے سے قلیل مدتی تجاری پالیسی شاید مارکیٹوں کے لیے اتنی فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی۔

ملازمتوں یا سروسز کا شعبہ فی الحال غیر متزلزل صورتحال سے دوچار ہے

سال 2021ء کی آخری سہ ماہی میں ملازمتوں یا سروسز کی مارکیٹ میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ۔ نومبر تک صرف امریکہ میں بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد تک گر گئی تھی۔

اگر امریکہ کی ہی بات کی جائے تو مذکورہ ملک نے ابھی تک وہ 22 ملین ملازمتیں دوبارہ حاصل نہیں کی ہیں جو اس نے وبائی کساد بازاری کے دوران کھو دی تھیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔