قومی ترانہ لکھنے کا انعام پانچ ہزار روپے؟

سن 1947ء میں دنیا کے وجود پر ابھرنے والا ملک پاکستان اَن گنت قربانیوں، جان لیوا تحریکوں، جزبہ ایمانی اور انتھک جدوجہد کے بعد برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے طور پر نصیب ہوا۔ ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کی آبرو اور بچوں، نوجوانوں اور بوڑھوں کا خون وطنِ عزیز کی بنیادوں میں شامل ہوا اور دو قومی نظریے پر مشتمل قائداعظم کی قیادت اور علامہ اقبال کی نظریاتی رہنمائی رنگ لائی۔

یہی وجہ ہے کہ سخت اور کَڑے حالات اور امتحانوں کے بعد حاصل کردہ پاک وطن سے آج ہر بچہ، جوان اور بوڑھا ویسی ہی لازوال محبت کا شکار ہے جس میں 1947 ء کے قربانیاں دینے والے محبِ وطن لوگ مبتلا تھے۔

وطنِ عزیز کے معرضِ وجود میں آںے کے بعد سبز ہلالی پرچم لہرایا گیا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے گئے جس کے بعد قومی ترانے کی ضرورت محسوس ہونے پر اس کی تیاری کی جانے لگی۔

تب سے لے کر آج تک چودہ اگست ہو یا کوئی اور تاریخی دن، ہر جانب سبز ہلالی پرچم کے ساتھ پاک سرزمین کے گونجتے الفاظ تمام قوم کے جذبہ ایمانی کو تازہ کرتے ہیں۔

 دنیا کے کاغذی نقشے پرپاکستانی جھنڈا

قومی ترانے سے متعلق دلچسپ حقائق کیا ہیں؟

وطنِ عزیز پاکستان کے قومی ترانے سے جُڑے کچھ دلچسپ حقائق ایسے ہیں جو شاید سب کے علم میں نہ ہوں۔

لکھاری اور موسیقار

پاک سرزمین شاد باد، کشورِ حسین شاد باد

ان خوبصورت الفاظ کے تخلیق کار حفیظ جالندھری ہیں جن کا نام قوم کے ہر بچے کو یاد ہے، جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ سکول اور کالجز کی سطح پر منعقد کیے جانے والے کوئز پروگراموں میں اکثر یہ سوال شامل کیا جاتا ہے۔

لیکن کیا آپ جانتے کہ قومی ترانے کی خوبصورت دھن کس نے ترتیب دی؟ ہر بچے اور بوڑھے کو ازبر اس دھن کے موسیقار احمد غلام علی چھاگلہ ہیں جنھوں نے 1949 میں قومی ترانہ کمپوز کیا۔

 

اردو میں تحریر کردہ پاکستان کا قومی ترانہ، لکھاری حفیظ جالندھری اورسبز پرچم

 

قومی ترانے کا انعام پانچ ہزار روپے

حکومتِ پاکستان کی جانب سے ایک کمیٹی ترتیب دی گئی جس کو متعدد شاعروں کے ترانوں میں سے کوئی ایک دھن منتخب کرنے کا کام سونپا گیا۔ مقابلے میں جیتنے والے شاعر اور موسیقار کے لیے انعام کے طور پر پانچ، پانچ ہزار کی رقم مختص کی گئی۔

تقریباً 723 گانوں میں سے پاکستان کے موجودہ قومی ترانے کا انتخاب کیا گیا جو فارسی زبان میں لکھا گیا۔

قومی ترانہ پڑھنے والے گلوکار

خوبصورت الفاظ اور دھن کو سریلے انداز میں قوم کے کانوں تک پہنچانے والے نامور گلوکاروں میں نجم آرا، احمد رشدی، کوکب جہاں، نسیمہ شاہین، شمیم ​​بانو، رشیدہ بیگم، زوار حسین، غلام دستگیر، اختر عباس، انور ظہیر اور اختر وصی شامل ہیں۔

قومی ترانہ سرکاری سطح پر کب نشر ہوا؟

پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے وقت ٹیلیوژن کا آغاز نہیں ہوا تھا۔ لہذا ریڈیو پاکستان پر پہلی بار سرکاری سطح پر قومی ترانہ سن 1954 میں نشر ہوا جو جمہ کا مبارک دن تھا۔

ٹیلی وژن کی نشریات کا آغاز پاکستان میں 1964 میں ہوا جس کے بعد حب الوطنی اور پاکستان کے حصول کے راستوں میں آںے والی رکاوٹ اور کامیابیوں پر ڈرامہ نگاری کی گئی اور متعدد پروگرام ترتیب دیے جانے لگے۔

 

پرانے طرز پر مبنی ریڈیو

قومی ترانے میں موسیقی کے کتنے آلات اور دُھنیں استعمال کی گئیں؟

وطنِ عزیز پاکستان کے قومی ترانے میں موسیقی کے 21 آلات اور 38 مختلف دُھنیں یا ٹونز شامل ہیں۔ وقت کا دورانیہ ایک منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

پاکستان کے قومی ترانے کی تاریخ

دسمبر 1948 میں، پاکستان کی نئی تشکیل شدہ حکومت نے قومی ترانہ کمیٹی (NAC) نیشنل اینتھم کمیٹی کی بنیاد رکھی۔ اور انہیں پاکستان کے سرکاری قومی ترانے کے لیے موسیقی اور دھن ترتیب دینے کا کام سونپا گیا۔ NACکی صدارت شیخ محمد اکرام، سیکرٹری اطلاعات اور ممبران میں احمد غلام علی چھاگلہ، سردار عبدالرب نشتر اور حفیظ جالندھری سمیت کئی شاعر، سیاستدان اور موسیقار شامل تھے۔

کمیٹی نے ابتدائی طور پر کچھ ایسا کرنے کے لیے جدوجہد کی۔ جس نے وطن عزیز کی خاطر قربانی دینے والے لوگوں کی محنت اور قربانیوں کے ساتھ انصاف کیا جو ملک کے معرضِ وجود میں آنے کا باعث بنے۔ پھر 1950 میں انڈونیشیا کے صدر مملکت سوکارنو نے پاکستان کا دورہ کیا۔ بدقسمتی سے، پاکستانی حکام کے پاس ایسی دھن نہیں تھی۔ جسے وہ اپنے وطن کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے استعمال کر سکتے تھے جب ایک غیر ملکی رہنما شہر میں تھا۔ اس واقعے نے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اور اسی لیے جب شاہ ایران کا دورہ متوقع تھا تو حکومت پاکستان نے NAC پر زور دیا کہ وہ قومی ترانہ پیش کرے۔ آخر کار، سینکڑوں اندراجات میں سے احمد چھاگلا کی ترتیب کردہ دھن کا انتخاب کیا گیا جسے اگست 1950 کو سرکاری طور پر اپنایا گیا۔

 

سبز رنگ پر مشتمل پاکستان کا نقشہ

شاہِ ایران کا دورہ پاکستان

یکم مارچ 1950 کو جب ایران کے شاہ نے پاکستان کا دورہ کیا تو قومی ترانے کی دھن بجائی گئی۔

دو سال بعد 1952 میں حفیظ جالندھری کی لکھا ہوا ترانہ 723 اندراجات میں سے منتخب کی گئیں۔ یہ ایک تاریخی لمحہ تھا جب 13 اگست 1954 کو قومی ترانہ ریڈیو پاکستان پر پہلی بار نشر ہوا۔

قومی ترانے کا نیا ریکارڈ

سن 2011 میں 5,857 لوگوں نے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ایک ساتھ قومی ترانہ گانے کا ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔

 

لوگوں کے ہجوم ہر مبنی ریکارڈ توڑ پاکستانی پرچم

 

پاکستان کے قومی ترانے کی منفرد موسیقی

پاکستان کا قومی ترانہ ایک سریلی، دل کو گرما دینے والی دھن ہے۔ جس میں فارسی کی خوبصورت شاعری کے تین بند شامل ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ یہ کمپوزیشن مشرق اور مغرب کا انوکھا امتزاج ہے۔

محبت بھرے شعروں پر مبنی دھن دل کی گہرائیوں میں سرائت کرتی ہے۔ جزبہ ایمانی کو ایک نئی امنگ دے جاتی ہے۔ جس سے قوم کا فخر سے بلند سر اپنے ملک کی خاطر قربان ہونے سے نہیں ڈرتا۔ بلکہ حب الوطنی کے جزبے سے سرشار وطن کے ایک اشارے پر کٹ مرنے کو تیار رہتا ہے۔

 

موسیقی کی دھنوں پر مبنی شیٹ اور آلاتِ موسیقی

پاکستان کے قومی ترانے کے معنی خیز اشعار

قومی ترانہ حب الوطنی کے جذبات اور قوم کی تعمیر کے لیے ذمہ داری کا احساس پیدا کرتا ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستان، اسلام کا گڑھ ہونے کے ساتھ ساتھ، ایک متنوع ملک ہے۔ جہاں کے لوگ ایک نام کے تحت، ایک جھنڈے کے نیچے اتحاد کے ساتھ رہتے ہیں۔ پاکستان کے قومی ترانے کی طاقتور ۔دھنوں میں یہ سب کچھ واضح ہے

قومی ترانہ

پاک سرزمین شاد باد، کشورِحسین شاد باد

تو نشانِ عزمِ عالی شان، ارضِ پاکستان!

مرکزِ یقین شاد باد

پاک سر زمین کا نظام، قوتِ اخوتِ عوام

قوم، ملک ، سلطنت، پائندہ تابندہ باد

شاد باد منزلِ مراد

پرچمِ ستارہ و ہلال، رہبرِ ترقی و کمال

ترجمانِ ماضی شانِ حال، جانِ استقبال

سایہٴ خدائے ذوالجلال

 

کھلے آسمان تلے لہراتا پاکستان کاسبز ہلالی پرچم

قومی ترانہ تین بند پر مشتمل ہے

پہلے بند میں ہمارے اس عزم ویقین کی نشاندہی کی گئی ہے جو قیام پاکستان کی روح ہے۔

قومی ترانے کے دوسر ےحصے میں ہماری اسلامی اخوت، قومی یکجہتی اور اس ملی اتحاد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جو ہمارے ملک اور قوم کے نظام کی بنیاد اور ہماری قوت اور طاقت کا سر چشمہ ہے۔

تیسرے بند میں ہمارا چاند ستارے والا پرچم، شاندار ماضی، روشن حال اور تابناک مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ پرچم ساری قوم پر اللہ تعالی کی رحمتوں کا سایہ ہے۔ اگر ہم نے اس کو سر بلند رکھا تو ہم ترقی کرتے رہیں گے۔ اور تمام راستوں کو عبور کرتے ہوئے منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ۔

About Farah Rehman

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔