سائیبیریا کے پرندوں کا مسکن: ضلع ٹھٹھہ میں واقع سیاحتی مقام کینجھر جھیل

image (22)

پاکستان چار موسموں اور پھر عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باوجود ہر موسم میں معتدل آب و ہوا کی دستیابی قدرت کی نعمتوں میں سے ایک ہے۔

سائبیریا دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جو انتہائی شدت کی خشک سردی کی وجہ سے اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ موسمِ سرما کے آغاز پر ہی سائبیریا کے نایاب پرندے ہجرت کی غرض سے دنیا کے گرم ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور آپ کو یہ جان کر حیرانگی ہو گی کہ سردی کے یخ بستہ موسم میں سائبیریا کے ان نایاب پرندوں کی پسندیدہ پناہ گاہوں میں سے ایک پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ میں واقع کینجھر جھیل ہے۔

کینجھر جھیل کو بین الاقوامی ادارہ برائے تحفظ جنگلی حیات نے رامسر سائٹ اور جنگلی حیات کی محفوظ اور پسندیدہ پناہ گاہ قرار دے دیا ہے۔ یہ جھیل موسمِ سرما کے آغاز پر ٹھنڈے ممالک سے بالخصوص سائبیریا سے ہجرت کرنے والے پرندوں جیسے بطخ، کارمورنٹ اور بگلے کے لیے سازگار پناہ گاہ کی فراہمی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ تاج والے نائٹ بگلا، روئی کے پگمی ہنس اور ارغوانی کی افزائش کے حوالے سے بھی اس جھیل کو منفرد مقام حاصل ہے۔

کینجھر جھیل ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔ روشنیوں کے شہر کراچی، حیدرآباد اور ٹھٹھہ سے بہت سے لوگ پکنک، تیراکی، ماہی گیری اور کشتی رانی سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس جھیل کی سیر کو آتے ہیں۔

پاکستان جو دنیا کے چند انتہائی دلکش قدرتی مناظر، سرسبز وسیع و عریض کھلی میدانوں، جھرنوں، جھیلوں اور برف پوش بلند و بالا پہاڑی چوٹیوں کا گھر ہے، حال ہی میں سیاحت کے حوالے سے پوری دنیا کے سیاحوں کی توجہ حاصل کرنا شروع کی ہے۔

امریکہ کے ایک مشہور جریدے کونڈے ناسٹ ٹریولر نے دسمبر میں پاکستان کو 2020 کے لیے سب سے بلند سیاحتی مقام قرار دیا اور کچھ ہی عرصہ بعد ایک اور بین الاقوامی اشاعت فوربز نے اسے دنیا کے بہترین سیاحتی ممالک میں سے ایک کے طور پر متعارف کرایا ہے۔

جنوبی ایشیا کے اکثر ممالک خوبصورت پہاڑی سلسلوں، صحراؤں، برفانی چوٹیوں اور جھیلوں پر محیط ہیں۔

ہماری آج کی اس تحریر کا مقصد آپ کو کینجھر جھیل سے متعلق چند انتہائی مفید معلومات کی فراہمی ہے تاکہ آپ ان سے استفادہ کرتے ہوئے کینجھر جھیل کی سیر کا پروگرام بآسانی ترتیب دے سکیں۔

تو چلیے! شروع کرتے ہیں

اگر پاکستان میں قدرتی جھیلوں کی بات کی جائے تو کیا آپ کو پہلے کبھی کینجھر جھیل کی سیر کا اتفاق ہوا ہے؟ یہ کراچی کے قریب سب سے مشہور ویک اینڈ گیٹ ویز میں سے ایک ہے۔ لہذا اگر آپ سندھ میں ہیں یا کراچی کے سفر کے دوران صوبہ سندھ کے کسی سیاحتی مقام پر پکنک منانے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کینجھر جھیل کی سیر کو کبھی نظر انداز نہ کریں۔

 

Boating, resorts facility at Kenjhar Lake

 

کینجھر جھیل کا ایک مختصر جائزہ

کینجھر جھیل صوبہ سندھ میں دیگر تمام سیاحتی مقامات میں سے سب سے بہترین تفریح کا ذریعہ ہے۔ کینجھر جھیل جسے کلری جھیل بھی کہا جاتا ہے سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کے قلب میں پایا جانے والا پانی کا ذخیرہ انسان شاہکار کا ایک حسین مظہر ہے۔ محل وقوع کے اعتبار سے یہ جھیل ٹھٹھہ کے مشہور تاریخی شہر سے صرف 36 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ درحقیقت یہ پانی کا ذخیرہ پاکستان میں میٹھے پانی کی دوسری سب سے بڑی جھیل کے طور پر اپنی منفرد پہچان رکھتا ہے۔
یہ جھیل اس وجہ سے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ سندھ کے دو بڑے شہروں ٹھٹھہ اور کراچی کے لیے پینے کے پانی کی فراہمی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ کلری جھیل کا پانی دو جھیلوں یعنی سونہری اور کینجھر کے ملاپ سے بنتا ہے۔ موسم سرما میں سائبیریا سمیت دیگر ٹھنڈے ممالک سے ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ساتھ علاقائی پرندوں کی انواع بشمول بطخ، بگلا، ایگریٹس، آئی بیز، ٹرنز، کوٹ، گیز، فلیمنگو، کارمورینٹس، وڈرز اور گلوں کو محفوظ رہائش فراہم کرنے کی وجہ سے عالمی ادارہ تحفظ جنگلی حیات کی جانب سے اس جھیل کو اِن پرندوں اور جانوروں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دے دیا ہے۔

کینجھر جھیل تک رسائی مگر کیسے؟

اگر آپ سوچ رہے ہیں کہ کراچی سے کینجھر جھیل تک رسائی کیسے حاصل کی جائے تو آپ جو بہترین راستہ اختیار کر سکتے ہیں وہ نیشنل ہائی وے این فائیو پر سفر ہے۔

کراچی سے کینجھر جھیل کا کل فاصلہ 100 کلومیٹر سے زیادہ ہے اور اگر آپ 80 سے 90 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہے ہیں تو آپ کو اپنی منزل تک پہنچنے میں تقریباً دو گھنٹے لگیں گے۔ ۔

آرام کی غرض سے کینجھر جھیل کے قریب عارضی رہائش کی سہولت

کینجھر جھیل پہنچنے پر جب آپ عارضی رہائش کے لیے جگہ تلاش کر رہے ہوں تو آپ وہاں قریب کسی بھی مقامی شخص سے کینجھر جھیل ریزورٹ کا پوچھ سکتے ہیں۔ آرام کی غرض سے عارضی رہائش کی اس سہولت کی فراہمی سندھ کی صوبائی حکومت کے حالیہ سیاحتی منصوبوں میں سے ایک ہے جس نے بلاشبہ کینجھر جھیل کو ایک مکمل سیاحتی مقام میں تبدیل کرنے میں خاصی مدد کی ہے۔

سندھ ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے زیر انتظام کینجھر جھیل ریزورٹ تقریباً آٹھ سے دس ہزار روپے میں ایک دن کے لیے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کینجھر جھیل کے سفر کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو آپ آن لائن ریزورٹ کی بکنگ بھی کروا سکتے ہیں۔ کینجھر جھیل ریزورٹ میں رہائش کے بارے ایک بات ذہن میں رکھیں کہ چیک ان کا وقت اور چیک آؤٹ کا وقت بالترتیب شام چار اور دوپہر تین بجے کا مقرر ہے۔

 

Sunset view at Kenjhar Lake

کینجھر جھیل پر کرنے والی تفریحی سرگرمیاں

کینجھر جھیل کی سیر کے دوران آپ وہاں کشتی رانی، جیٹ سکینگ، تیراکی اور پرندوں کی نقل و حمل کے دلفریب نظارے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ کینجھر جھیل کے قریب کرنے والی تفریحی سرگرمیوں کی فہرست میں آپ کے پاس بہت سے آپشنز ہیں۔ کینجھر جھیل کو کراچی کے قریب ماہی گیری کے بہترین مقامات میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ درحقیقت سندھ کے لائیو سٹاک اور ماہی گیری کا شعبہ گزشتہ سال سے کینجھر جھیل میں ماہی گیری کی مکمل بحالی کے لیے کوشاں ہے۔

کینجھر جھیل کے قریب واقع پُرکشش سیاحتی مقامات

کینجھر جھیل کے قریب بہت سے تاریخی اور قدیم روایات کے آثار موجود ہیں۔ چونکہ کینجھر جھیل تاریخی شہر ٹھٹھہ کے قریب واقع ہے اس لیے یہ بہت سے قابل قدر تاریخی نوادرات اور قدیمی آثار کا مسکن تصور کیا جاتا ہے۔ لہذا اپنے سفر کو مزید دلچسپ اور یادگار بنانے کے لیے آپ قریبی تاریخی مقامات کی بھی سیر کر سکتے ہیں۔ یہاں کینجھر جھیل کے قریب سیاحوں کے لیے موجود چند مشہور مقامات کی فہرست ذیل میں درج ہے:

پرانی جامع مسجد ٹھٹھہ
سونڈا قبرستان
مقام قدم شاہ قبرستان
سلطان ابراہیم کا مقبرہ
نواب امیر خانی مسجد
شاہجہاں مسجد
کلاں کوٹ قلعہ

ان پُرکشش تاریخی مقامات کے بارے میں تفصیل سے جاننے کے لیے وہاں کھینجر جھیل پر ہی آپ کو ٹورسٹ گائیڈ مل جاتے ہیں جو آپ کو ان مقامات سے متعلق اہم معلومات فراہم کرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

مزید خبروں اور اپڈیٹس کیلئے وزٹ کیجئے گرانہ بلاگ