پاکستان نے گوادر پورٹ، فری زون کے لئے ٹیکس ریلیف کی منظوری دے دی

Tax relief given to Gwadar Port

اسلام آباد:           وزیر اعظم عمران خان کے چین روانگی سے ایک روز قبل ، وفاقی کابینہ نے گوادر پورٹ اور گوادر فری زون کے لئے ٹیکس مراعات کے دیرینہ مسئلے کو حل کرنے کے لئے قانون سازی میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے ، اور صنعتی ترقی کے راستے میں  حائل ایک اہم رکاوٹ کو دور کیا ہے۔

انکم ٹیکس آرڈیننس ، سیلز ٹیکس ایکٹ اور کسٹمز ایکٹ میں ترمیم کرنے کا فیصلہ تین سال پرانے مسئلے کو حل کرنے کے لئے لیا گیا تھا ، جو چین کو پریشان کررہا تھا ،جسکو آخر کار قومی ترقیاتی کونسل (این ڈی سی) کی جانب سے دباؤ  پر حل کر لیا گیا ۔

حال ہی میں تشکیل دی گئی این ڈی سی وزیر اعظم کی زیرصدارت ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اس کے ممبر ہیں۔ کابینہ نے یہ فیصلہ اپنی آخری میٹنگ میں لیا۔ کابینہ کی منظوری کے بعد ، حکومت سے یہ قانونی تبدیلیاں لانے کے لئے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کی توقع کی جارہی ہے کیونکہ اس وقت قومی اسمبلی  کااجلاس  شیڈول میں نہیں ہے۔

نئی ٹیکس مراعات صرف گوادر زون تک ہی محدود رہیں گی کیونکہ حکومت چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے تحت قائم کیے جانے والے ترجیحی خصوصی معاشی زون (ایس ای زیڈ) کے لئے ٹیکس مراعات پیکیج کو حتمی شکل دینے میں ناکام رہی ہے۔

حکومت نے تاہم  پا کستانی سرمایہ کاروں کی شکایات دور کرنے  میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا ، جنہوں نے  ایس ای زیڈ ایکٹ 2012 کے تحت 10 سالہ انکم ٹیکس  کی چھوٹ ملنے کے وعدے پر SEZ میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اب چونکہ صنعتی یونٹس پیداوار شروع کر چکی ہیں ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نےابھی تک انکم ٹیکس کی مطلوبہ چھوٹ نہیں دی۔

ایف بی آر کم سے کم  1.5%انکم ٹیکس وصول کرنے پر زور دے رہا ہے ، جو ان صنعتکاروں کے مطابق حکومت کی طرف سے دیئے گئے 10 سالہ کارپوریٹ انکم ٹیکس کی چھوٹ کے اثرات کو ختم کردیں گے۔

  ذرا ئع کے مطابق ایف بی آر کچھ ایسے یونٹس کو بھی ود ہولڈنگ ٹیکس چھوٹ کے سرٹیفکیٹ نہیں دے رہا ہے جنھوں نے پہلے ہی پیداوار شروع کردی ہے ، جس کی وجہ سےپاکستانی سرمایہ کاروں  نے عدالت  کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

گوادر مراعات

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات خسرو بختیار نے تصدیق کی ، "وفاقی کابینہ نے گوادر فری زون اور گوادر پورٹ کو ٹیکس مراعات دینے کے لئے قانون سازی میں تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔”

وزیر منصوبہ بندی نے کہا ، "ساحلی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور گوادر کی ترقی پر توجہ دی جائے گی ، جو پاکستان میں معاشی سرگرمیوں کے نئے دور کی شروعات کرے گی۔”

ٹیکس مراعات کی سفارش کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے پہلے ہی کی تھی لیکن اس وقت قانون سازی کے طریقہ کار پر اتفاق نہیں ہوا تھا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق صدر ڈاکٹر عارف علوی سے وزیر اعظم عمران کی روانگی سے قبل کسی بھی وقت یہ آرڈیننس جاری کرنے کی توقع کی جارہی ہے۔

About Maham Tahir

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔